سماج وادی پارٹی اور راجبھر کی سہیل دیو پارٹی کے درمیان اتحاد

Source: S.O. News Service | Published on 21st October 2021, 12:29 AM | ملکی خبریں |

لکھنؤ،21؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) اسمبلی انتخابات سے قبل اترپردیش میں تیزی سے بدلتے سیاسی منظر نامے کے درمیان سال 2017 میں بی جے پی حکومت کا حصہ رہنے والی سہیل دیو سماج پارٹی نے بدھ کو مین اپوزیشن سماج وادی پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملا کر بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

سہیل دیو سماج پارٹی کے صدر اوم پرکاش راج بھر نے آج ایس پی صدر اکھلیش یادو سے ملاقات کی اور ساتھ میں الیکشن لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں لیڈروں کی ملاقات کے بعد ایس پی کے آفیشیل اکاونٹ سے جانکاردی دی گئی۔' محروموں، استحصال زدہ لوگوں، پچھڑوں، دلتوں، خواتین، کسانوں، نوجوانوں، ہر کمزور سماج کی لڑائی سماج وادی پارٹی اور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی مل کر لڑیں گے۔

پارٹی ذرائع نے کہا کہ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو ایک ایسی سماج وادی نظام کا قیام کرنا چاہتے ہیں جس میں سماج وادی نظریہ کی عملی شکل موجود ہو۔ جس سے خوشحال، جامع اور مساوی سماج کا قیام ہوسکے۔ اسی عزم کی تکمیل کے لئے سماج وادی پارٹی سبھی کو ساتھ لے کر لگاتار آگے بڑھ رہی ہے۔ اکھلیش یادو کی قیادت میں سماج وادی حکومت نےغریب، دلت اور پسماندہ سماج سمیت سبھی محروم طبقات کے لئے بے شمار کام کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی کڑی میں کمزوروں کے حق کی آواز کو بلند کرنے والی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی، سماج وادی پارٹی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر یوپی کو ترقی کے راستے پر لے جانے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ بی جے پی کے اقتدار کے خاتمے کا آغاز ہے۔

دعوی کیا جاتا ہے کہ پوروانچل میں 18۔22 فیصدی راج بھر ووٹرس ہیں۔ پوروانچل کی 150 سے زیادہ سیٹوں پر پارٹی کا اثر ہے۔ ریاست کے وارانسی ڈویژن، دیوی پاٹن، گورکھپور، اعظم گڑھ کی اسمبلی سیٹوں پر کافی اثر ہے۔ سہیل دیو سماج پارٹی کی بنسی، آرکھ، ارک ونشی، کھروار، کشیپ، پال، پرجاپتی، بند، بنجارا، باری، بیار، وشوکرما، نائی اور پاسوان میں کافی مضبوط پکڑ ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھیما کوریگاؤں معاملے کی ملزم سدھا بھاردواج کی مشکلات میں اضافہ، ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی این آئی اے

چھتیس گڑھ کی معروف سماجی کارکن اور وکیل سدھا بھاردواج کو ممبئی ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی ضمانت کے خلاف قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔