کاروار: سیلاب کے بعدراحت کاری کا کام بہت ہی اہم اور ضرور ی ہے افسران صبر و تحمل اور ایمانداری سے اپنے کاموں کو انجام دیں : ضلع نگراں کار سکریٹری منیش مڈگل

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 14th August 2019, 5:17 PM | ساحلی خبریں |

کاروار:14؍اگست   (ایس اؤ نیوز) اب جب کہ سیلاب کنڑول میں ہے، ڈیموں میں پانی کی سطح بھی کم ہوتی جارہی ہے تو اس کے بعد والے بازآبادکاری کے کام بہت ہی اہم اور ضروری ہیں ، افسران آپسی تال میل ، تعاون سے تمام کاموں کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کی ضلع نگراں کار سکریٹری منیش مڈگل نے افسران کو ہدایات دیں۔

وہ یہاں ڈی سی دفتر ہال میں ضلع سطح کےسبھی نوڈل افسران کی میٹنگ میں بات کررہےتھے۔ انہوں نے کہاکہ بارش اور سیلاب سے بے شمار جائیدادوغیرہ کو نقصان پہنچا ہے، افسران ایماندای سے کام کرتے ہوئے متاثرین کے ساتھ  تحمل اور صبر کا رویہ اپنائیں،خاص خیال رکھیں کہ  متاثرین کو کوئی تکلیف نہ پہنچے ، سیلاب کے بعد والے کاموں میں تیزی لائیں۔ کام کے دوران افسران آپسی تال میل اور ایک دوسرے کے ساتھ بہتر تعاون کریں تاکہ متاثرین کو جلد راحت ملے۔ اس سلسلے میں کوئی مسئلہ پیدا ہونےنہ پائیں اس پر دھیان رکھنے کی منیش مڈگل نے ہدایت دی۔

انہوں نے افسران کو بتایا کہ راحت کاری اور بازآبادکاری کے لئے پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے ، متاثرین اورجانوروں کو ضروری سہولیات مہیا کریں۔ ہرایک بازآبادکاری مرکز میں غذا کی ذخیرہ اندوزی کی گئی ہے ، چاول، گہیوں ، تیل ، ترکاری ، گیس سلینڈر وغیرہ پہلے سے ہی تیار کرلیں ،تاکہ کسی طرح کی کوئی کمی نہ ہو ۔ جانوروں کے لئے الگ سے شیڈ بنائیں اور چارہ جمع رکھیں اور ان کے لئے بھی دوائی وغیرہ کا انتظام پہلے سے کرلیں۔

محکمہ زراعت کے جوائنٹ ڈائرکٹر نے میٹنگ میں بتایا کہ کہ ضلع کے 504دیہات  کی 9908.20ہیکڑ زمین زیر آب ہے ، قریب 5599.02500لاکھ روپیوں کا نقصان ہواہے۔ تعلیمات عامہ کے ڈی ڈی پی آئی نے بتایا کہ ضلع میں 265اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے ، سڑک ٹوٹنے سے رابطہ منقطع ہوئے دیہاتوں کے اسکولوں اور گنجی کیندر بنائے گئے اسکولوں میں چھٹی جاری رہنے کا حکم دیاگیا ہے۔ بقیہ اسکول منگل سے شروع ہو نے کی جانکاری دی۔ میٹنگ میں ڈی سی ڈاکٹر ہریش کمار، اپر ڈی سی ناگراج سنگریر سمیت سبھی نوڈل افسران موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: مرڈیشور میں راہ چلتی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش ہوگئی ناکام؛ علاقہ میں تشویش کی لہر

تعلقہ کے مرڈیشور میں ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش اُس وقت  ناکام ہوگئی جب اُس نے ہاتھ پکڑ کھینچتے وقت چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کردیا،  وارات  منگل کی شب قریب نو بجے مرڈیشور کے نیشنل کالونی میں پیش آئی۔واقعے کے بعد بعد نہ صرف مرڈیشور بلکہ بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر ...

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔