جاپان میں 6 عشروں بعد بدترین سمندری طوفان، 19 شہری ہلاک

Source: S.O. News Service | Published on 13th October 2019, 6:14 PM | عالمی خبریں |

ٹوکیو،13؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) جاپانی حکام کے مطابق اس 'غیرمعمولی‘ طوفان کی وجہ سے موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور کئی دریاؤں میں شدید طغیانی کا عالم ہے۔ آج اتوار کو یہ سمندری طوفان گو کہ اپنی شدت کھو چکا ہے، تاہم کئی علاقوں میں خصوصا وسطی جاپان میں ناگانو کے خطے میں اب بھی سیلابی صورت حال ہے۔ اس صورت حال میں امدادی کارروائیوں کے لیے ستائیس ہزار فوجی تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ کئی مقامات پر ہیلی کاپٹروں کی مدد سے بھی ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔

ٹوکیو کے شمال مغرب میں واقع کاواگوئی کے کچھ مقامات پر معمر افراد کو ریٹائرمنٹ ہاؤسز سے کشتیوں کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، جب کہ یہ علاقے شدید سیلابی صورت حال کا شکار ہیں۔

یہ سمندری طوفان مرکزی جاپانی جزیرے ہانوشو سے مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی شام سات بجے ٹکرایا۔ جاپان میں حالیہ کئی دہائیوں میں اس شدت کا یہ پہلا طوفان تھا۔ بتایا گیا ہیکہ اس طوفان کے ہم راہ دو سو سولہ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی تھیں۔

فلورنس نامی اس سمندری طوفان کی شدت کیٹگری پانچ سے کم ہو کر اب کیٹگری ایک رہ گئی ہے۔ لیکن امریکی ساحل سے ٹکرانے سے قبل یہ 560 کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ 220 کلومیٹر فی گھنٹے سے چلنے والی انتہائی تیز ہواؤں نے اسے ایک خوفناک قدرتی آفت بنا دیا تھا۔

گزشتہ شب اس سمندری طوفان کے نتیجے میں جاری شدید بارشوں کے بعد کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بھی پیش آئے۔ جاپانی حکام اس سمندری طوفان کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے تخمینہ جات جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سمندری طوفان کے نتیجے میں کم از کم 140 افراد زخمی ہوئے ہیں، جب کہ لاپتا افراد کی تلاش کا کام بھی جاری ہے۔ جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس طوفان کے جاپانی شہریوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑی تو مزید فوج اور ہنگامی حالات سے نمٹنے والے اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔

بتایا گیا ہے کہ اتوار تک قریب ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد مکانات کو بجلی کی فراہمی منقطع تھی، جب کہ ٹوکیو کے مشرقی حصے میں پینے کے پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں افراد اس وقت حکومت کی جانب سے قائم کردہ شیلٹر ہاؤسز میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

خطرے میں اسپین، 95 فیصد آبادی ہو سکتی ہے کورونا کا شکار: تحقیق

کورونا وائرس یعنی کووڈ-19 کے حوالہ سے اسپین میں کی گئی اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسپین کی آبادی کا صرف 5فیصد ہی اینٹی باڈیز تیار کرسکا ہے، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے ’ہرڈ امیونٹی‘ حاصل نہیں کی جاسکتی۔