سوشل میڈیا پرضلع شمالی کینرا میں جدید سہولیات سے آراستہ اسپتال کا مطالبہ زور پکڑگیا؛ وزیراعلیٰ سمیت عوامی نمائندوں کا ردعمل؛ ہیگڈے نے کیا مایوس

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th June 2019, 6:40 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 9/جون(ایس او نیوز)ضلع شمالی کینرا میں ایک جدید سہولیات سے آراستہ اسپتال قائم کرنے کا مطالبہ سوشل میڈیا پر زور پکڑتا جارہا ہے۔  WeNeedEmergencyHospitalInUttarakannada# ( ’ہمیں ایمرجنسی اسپتال کی ضرورت ہے‘  )کے ہیاش ٹیاگ کے ساتھ سنیچر کی شام تک 7ہزار سے زیادہ ٹویٹ کیے گئے ہیں۔سوشیل میڈیا پر یہ ٹرینڈ زور پکڑتا جارہا ہے اور فیس بک، وہاٹس ایپ اور انسٹاگرام میں بھی یہ مہم چلائی جارہی ہے۔

 ایمرجنسی علاج کے لئے دشواری:    سوشیل میڈیا پر چلائی جارہی اس مہم کے ذریعے ضلع انچارج وزیر آر وی دیش پانڈے،رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے، وزیراعظم کے دفتراور وزیر اعلیٰ کرناٹکا سمیت تمام اہم شخصیات کے سامنے یہ مطالبہ رکھا جارہا ہے۔کیونکہ پورے ضلع میں کہیں پر بھی   تمام جدید ترین سہولیات سے آراستہ سوپر اسپیشالٹی اسپتال موجود نہیں ہے۔ سنگین ایمرجنسی صورتحال اور حادثات ہونے کی صورت میں ضلع شمالی کینرا کے مختلف تعلقہ جات سے مریضوں کو کئی کئی گھنٹوں کا سفر کرتے ہوئے دیگر اضلاع ہبلی، شیموگہ، اڈپی، منی پال، منگلورو، وغیرہ کے علاوہ ریاست گواکی طرف لے جانا پڑتا ہے۔ایسے مریضوں کو کم ازکم 100سے 300کلو میٹرز کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ہی طبی امداد مل سکتی ہے۔ جس کی وجہ سے سفرکا یہ عرصہ کبھی کبھی جان لیوا ثابت ہوجاتا ہے۔

 عوامی منتخب نمائندوں کا ردعمل:    اس اہم مسئلے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ضلع شمالی کینرا کے نوجوانوں کے ذریعے سوشیل میڈیا پریہ مہم چلائی جارہی ہے جسے بعض عوامی نمائندوں کی حمایت مل رہی ہے۔جنہوں نے اس عوامی مطالبے کو اسمبلی میں پیش کرنے کایقین بھی دلایا ہے۔

 کاروار کی ایم ایل اے روپالی نائک نے کہا کہ”میں نے اسمبلی کی رکنیت ملتے ہی سب سے پہلا مطالبہ یہی رکھا تھا کہ ضلع شمالی کینرا کے لئے ایک سوپر اسپیشالٹی اسپتال کی سخت ضرورت ہے۔اُس وقت کے وزیر برائے طبی تعلیم ڈی کے شیوکمار سے ملاقات کرکے میمورنڈم دینے کے علاوہ 550کروڑ روپے خرچ کا تخمینہ بھی دیاہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ کماراسوامی سے بجٹ میں سوپراسپیشالٹی اسپتال کے لئے منظوری دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔اب جبکہ یہ مانگ ایک مہم میں بدل گئی  ہے تو میں جلد ہی دوبارہ وزیر طبی تعلیم اور وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرکے  یہ مطالبہ ان کے سامنے رکھوں گی۔اس مہم کوگے بڑھانے میں میرا بھرپور تعاون رہے گا۔“

 اسی طرح کمٹہ کے ایم ایل اے دینکر شیٹی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ:  ”شہر میں ایک جدید اسپتال قائم کرنے کے لئے دبئی میں مقیم کاروباری بی آر شیٹی کے ساتھ میں نے گفتگو کی ہے۔ اس کے لئے آٹھ ایکڑ زمین کی تلاش کی جارہی ہے۔“ جبکہ سرسی کے ایم ایل اے وشویشورا ہیگڈے کاگیری نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ میں اس مہم کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔اور کہا کہ ضلع شمالی کینرا میں ایک ملٹی اسپیشالٹی اسپتال کی ضرورت ہے اور میں اس کا مطالبہ کرنے والوں میں شامل ہوں۔ سرکاری سطح پر میں اس ضمن میں کارروائی کو آگے بڑھاؤں گا۔ بھٹکل کے ایم ایل اے سنیل نائک نے بھی اس ضمن میں وزیر برائے طبی تعلیم ای تُکا رام کو خط لکھ کر ایک جدید اسپتال کی مانگ سامنے رکھی ہے۔

 پچھلے دنوں بھٹکل رکن اسمبلی سنیل نائک نے بھی اپنی طرف سے مراسلہ بھیجتے ہوئے حکومت سے مانگ کی تھی کہ ضلع شمالی کینرا میں ایک جدیدسہولتوں والا اسپتال قائم کیا جائے۔جدید سہولیات سے آراستہ اسپتال کی مانگ کرنے والی اس مہم میں کانگریسی لیڈر شاردا شیٹی، کانگریس ضلع صدر بھیمنا نائک، گیان پد ایوارڈ یافتہ گائیک سوُکری بومے گوڈا، یووا بریگیڈ کے بانی چکرورتی سولی بیلے اور کنڑا حامی تنظیموں کے لیڈران بھی شامل ہوگئے ہیں۔

 اننت کمار کا غیر ذمہ دارانہ رویہ:    اس دوران معلوم ہوا ہے کہ ٹویٹر پر ضلع شمالی کینرا میں جدید سہولتوں سے آراستہ اسپتال کی مانگ کرنے والوں کو ضلع کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بلاک کردیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ’اتر کنڑا ٹرولرس‘ نامی ٹویٹر ہینڈل سے رکن پارلیمان کے پاس اسپتال کی مانگ رکھی جارہی تھی۔ اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرنے یا مانگ کو قبول کرنے کے بجائے اننت کمار پیگڈے کا اس طرح غیر ذمہ دارانہ ردعمل دکھا نا اور اس موضوع پر ٹویٹ کرنے والوں کو اپنے اکاؤنٹ پر بلاک کردینا سوشیل میڈیا پر ایک نئی بحث کا سبب بن گیا ہے۔

 وزیر اعلیٰ کا تیقن:    ضلع شمالی کینرا میں سوپر اسپیشالٹی اسپتال کے قیام کے لئے ٹویٹر، فیس بک، وہاٹس ایپ وغیرہ پرچلائی جارہی مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے ریاستی وزیر اعلیٰ کمارا سوامی نے کہا ہے کہ یہ بات ان کے علم میں آئی ہے، اور اس ضمن میں حکومت اس کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ کمار سوامی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیا ہے کہ”ضلع شمالی کینرا میں سوپر اسپیشالٹی اسپتال قائم کرنے کا مطالبہ جو سوشیل میڈیا پر ہورہا ہے اس تعلق سے محکمہ صحت عامہ کے افسران سے رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔رپورٹ ملنے پر ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔“

 تعجب کی بات:    مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ ضلع انچارج وزیر ہونے کے باوجود آر وی دیشپانڈے کی طرف سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس کے علاوہ ایم ایل اے شیورام ہیبار  جیسے ضلع کے عوامی نمائندوں نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ عوام اس بات پر زور دے رہے ہیں ،کہ  عوام کے ایک اہم مسئلے کو عوامی نمائندے اور سیاسی لیڈران پارٹی مفادات سے اوپر اٹھ کر حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور مریضوں اور حادثات کے شکارہونے والے زخمیوں کو راحت دلانے کا کام انجام دیں۔

ایک نظر اس پر بھی

علاج کے لئے منگلور جانے والے توجہ دیں: منگلورو اور اڈپی کے اسپتالوں میں کل 17جون کو او پی ڈی خدمات رہیں گی بند

 بھٹکل اور اطراف سے کافی لوگ  علاج معالجہ کے لئے پڑوسی ضلع اُڈپی اور مینگلور کے اسپتالوں کا رُخ کرتے ہیں،  ان کے لئے  بری  خبر یہ ہے کہ کل  ڈاکٹروں کے احتجاج کے پیش نظر  مینگلور اور اُڈپی کے اسپتالوں میں باہری  مریضوں  کا علاج  نہیں ہوگا۔

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی مدد کے لئے اے پی سی آر کی خدمات دستیاب

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی رہنمائی اور اُن کی  مدد کے لئے  اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس  (اے پی سی آر)  کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہے۔جن  لوگوں نے  اپنی چھوٹی چھوٹی سرمایہ  کاری  اس کمپنی میں کی تھی اور اب وہ کنگال ہوچکے ہیں، اے پی ...