ترکی : گولن کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ، مزید 238 گرفتاریوں کے احکامات

Source: S.O. News Service | Published on 19th January 2021, 8:24 PM | عالمی خبریں |

انقرہ، 19جنوری (آئی این ایس انڈیا)ترکی نے جلا وطن مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن سے تعلق کے شبہے میں گرفتاری کی مہم کے سلسلے میں 238 افراد کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انقرہ حکومت کا موقف ہے کہ 2016ء میں بغاوت کی کوشش کے منصوبے کے پیچھے گولن کا ہاتھ ہے۔

ترک خبر رساں ایجنسی "اناضول" کے مطابق گرفتاری کی حالیہ کارروائی میں چھ صوبے شامل ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا میں مقیم مذہبی شخصیت فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن چار برس سے جاری ہے۔ گولن 2016ء میں ہونے والی انقلاب کی کوشش سے اپنے کسی بھی تعلق کی تردید کرتے ہیں۔ اس کوشش کے دوران ترکی میں 250 سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اناضول ایجنسی کے مطابق پولیس کی جانب سے چھاپوں کی تازہ ترین کارروائی میں 160 افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ ان افراد کی گرفتاری کا حکم ازمیر میں استغاثہ کے نمائندگان نے دیا تھا۔ مزید یہ کہ گرفتاری کی کارروائیاں شمالی قبرص میں بھی عمل میں آئیں جہاں ترکی نے اپنی فورسز تعینات کر رکھی ہیں۔

گرفتاری مہم کا ہدف بننے والے افراد میں فوج کے 218 حاضر اہل کار شامل ہیں۔ ان میں چھ کرنل، تین لیفٹننٹ کرنل اور نو میجر شامل ہیں۔

تقریبا ساڑھے چار برس قبل انقلاب کی کوشش کے بعد سے اب تک ترکی میں حکام نے عدالت میں پیش کرنے کے لیے 80 ہزار افراد کو حراست میں لیا۔ علاوہ ازیں حکومتی اداروں اور فوج میں کام کرنے والوں میں سے 1.5 لاکھ افراد کو کام سے روک دیا جب کہ فوج سے 20 ہزار سے زیادہ اہل کاروں کو برطرف کیا گیا۔

ایک نظر اس پر بھی

تفریق کی وجہ سے دنیا میں کووڈ-19کی وبا مزید 7 سال مسلط رہ سکتی ہے: ماہرین

  اگر امیر ملکوں نے کورونا ویکسین پر اپنی اجارہ داری ختم نہ کی تو کووڈ 19 کی وبا آئندہ 7 سال تک ساری دنیا پر مسلط رہ سکتی ہے۔ یہ انتباہ عوامی صحت اور وبائی ماہرین نے دیا ہے۔خیال رہے 4 مارچ 2021 تک دنیا بھر میں کورونا ویکسین کی 28 کروڑ 36 لاکھ خوراکیں دی جاچکی تھیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کشمیر پر بیان خطے کی متنازع حیثیت کے برعکس ہے، پاکستان

پاکستان نے امریکی محکمہ خارجہ کے جموں و کشمیر سے متعلق اس بیان کو خطے کی متنازع حیثیت کے برعکس قرار دیا ہے جس میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کے لیے 'بھارت کا وفاقی علاقہ' کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔