تومجھے لائک کر میں تجھےلائک کرونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (از:۔مدثراحمد، ایڈیٹر آج کا انقلاب، شموگہ)

Source: S.O. News Service | Published on 21st May 2021, 10:35 AM | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

رمضان کے دوسری عشرے سے شروع ہونے والے اسرائیل اورفلسطین کے مسئلے کے بعددنیا بھر میں مسلمان اسرائیل کے خلاف آگ بگولہ ہورہے ہیں۔ اسرائیلی افواج کی ظالمانہ حرکتوں کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک اسرائیل دہشت گردانہ حرکتوں پر تبصرے کررہے ہیںاور اسرائیل کو خاموش رہنے کی نصیحت کررہے ہیں۔ وہیں آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریس(او آئی سی) نے اس معاملے کیلئے ہنگامی نشست کا اہتمام کیا تھا ، جس کے بعد ہمیشہ کی طرح مذمتی قرارداد منظور کی گئی اوراسرائیل جنگ بندی کرنے کی صلاح دی گئی۔ فلسطین پر ہورہے حملوں پر قرارداد منظور کرنا اوراسرائیل کو چپ رہنے کی صلاح دینے اس مسئلے کا حل نہیں تھا، بلکہ اسرائیل جیسے معمولی ملک کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاسکتاتھا لیکن عرب ممالک کی یہ ذہینی کمزوری یا مردانہ کمزوری رہی ہوگی کہ وہ اسرائیل کی حرکتوں کا جواب دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ او آئی سی کے ماتحت آنے والے 57 اسلامک ممالک کے پاس جو افواج ہیں ان افواج میں سے اگر دس دس ہزار فوجیوں کو بھی اسرائیل کے خلاف جنگ کرنے کیلئے لاکھڑا دیا جاتا ہے تو 5لاکھ 70 ہزار فوجی اکٹھا ہوسکتے ہیں۔ جبکہ اسرائیل کے پاس محض 70 ہزار فوجی ہی موجودہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر اسرائیل کے خلاف یہ عرب ممالک کیوں نہیں جارہے ہیں سعودی کو یمن کے حوثیوں سے پرابلم ہے تووہ حملہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ پاکستان کو افغان طالبان سے پرابلم ہے تو وہ افغانستان میں اپنی فوجوں کو حملہ کرنے کیلئے بھیج دیتا ہے۔ عراق کو ایران سے پرابلم ہے تو ایک دوسری کی فوجیں حملوں کیلئے تیار ہیں، مصر کو لیبیا سے مسئلہ ہے تو وہ اپنی فوجیں بھیج کر لیبیا کا تختہ الٹ دیتا ہے۔ جسطرح سے مسلم ممالک کو ہردوسرے ملک میں اپنا دشمن نظرآتا ہے اوراگر نظرنہیں آتا ہے تو وہ صرف یہودی نظرنہیں آتے جو مٹھی بھرہیں۔ خیر یہ تو معاملہ انٹرنیشنل ہے اس پر ہم بات نہیں کریںگے۔ کیونکہ اس پر بات کرنے کیلئے ہمیں خود بھی او آئی سی کے میز پر بیٹھنا پڑیگا۔ لیکن ہم ہندوستانی مسلمان اپنی طرف سے کیا کرسکتے ہیں وہ تو اپنی حد میں رہ کریں۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ سوشیل میڈیا پر بحث ومباحثے ہورہے ہیں کہ کوئی سعودی سیلفی علماء کو گالی دے رہا ہے تو کوئی پاکستانی سنی علماء کو گالی دے رہا ہے کہ انکی وجہ سے آج فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہورہا ہے۔کوئی کہہ رہاہے کہ واٹس ایپ پر ڈی پی ڈالیں گے کہ وی اسٹانڈ وتھ فلسطین (we stand with palestine)تو کچھ کہہ رہے ہیں کہ ہیاش ٹیاگ اسرائیل ٹریرسٹ ڈال کر اپنے غصے کا اظہار کریں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ فیس بک نے فلسطین کے مظالم کی ویڈیوز ڈلیٹ کرنا شروع کیا ہے اس لئے فیس بک کا استعمال بند کریں۔ لیکن ہم نے اپنی روایت کو بھلادیا ہے۔ہم نے سوشیل میڈیا میں ایک دوسرے کی مذمت کرتے ہوئے جنگ کا اعلان کیا ہے اوریہ ایک ایسی جنگ جس میں ہمارے اپنے فرنڈ لیسٹ کے لوگ ہی فیس بک پر دیکھتے ہیں اورڈی پی و اسٹیٹس کو اپنے موبائل نمبر کو سیو کرنے والے ہی دیکھ پاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ مسلمان بھارت کی حکومت سے مطالبہ کرتے کہ وہ اسرائیل کی دہشت گردی کو روکنے کیلئے دبائو ڈالے ، فلسطین کی مدد کریں بھارت میں موجود اسرائیلی سفارت خانے کو خط ، میمورنڈم یا ای میل کے ذریعہ سے اپنا احتجاجی مواد بھیجتے ، بھارت میں موجود سفارت خانے کے سامنے کم ازکم احتجاج کرنے کی جرت کرتے، بھارت کے اہم شہروں میں اسرائیل کی دہشت گردی کے خلاف میڈیا میں بحث ومباحثے کیلئے احتجاج کرتے، فلسطینوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیلئےکم ازکم انہیںخط لکھ کر باآورکرتے، بھارت کی حکومت سے کہتے کہ فلسطینوں کو طبی امداد پہنچائی جائے۔مگریہ سب کرنے سے ہمیں فرصت کہاں ہے، فیس بک پر انگلی گھماتے ، گھماتے ایک لائک کردیا اورواٹس ایپ پر اسٹیٹس ڈال کر اپنا فرض ادا کرلیا۔ یہودی ہم پر اس لئے مسلط ہورہے ہیں کہ ہم نےاپنی ذمہ داریوں کو روایت میں تبدیل کرلیاہے اگر اسے فرض سمجھتے تو آج حالت اس قدر بدتر نہ ہوتے۔ اب ہمارا مشورہ یہ بھی ہے کہ سوشیل میڈیا پر تومجھے لائک کر میں تجھے لائک کروں کا کے مقصد کو چھوڑ کر بامقصد وبامعنی احتجاج کریں، سلسلہ وار خط بھارت کی حکومت ، فلسطینی کائونسلیٹ اوراسرائیلی کائونسلیٹ کو لکھ کر اپنا حالِ دل بیان کریں۔ مذمت کریں، تائید کریں ، جوکرناہے کریں لیکن سوشیل میڈیا سے باہر آئیں ۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: اترکنڑا ضلع سے گزرنے والی قومی شاہراہ فورلین کا تعمیراتی کام سست روی کاشکار:عوامی سطح پر تعمیراتی کام میں رشوت خوری پر بحث

کسی بھی ملک ، ریاست یا شہر کےلئے بہترین سڑکیں ترقی کی علامت میں شمار کی جاتی ہیں اور شاہراہیں اس کی شناخت ہوتی ہیں تو خاص کر فورلین، سکس لین ملک کی ترقی کی مصدقہ شناخت ہوتی ہیں۔ لیکن کیا کریں ، وہی قومی شاہراہ کی تعمیر ساحلی پٹی پر مخصوص عہدوں پر فائز افراد ، کمپنیوں کے لئے رقم ...

بھٹکل میں کووڈ کی تیسری لہر کی دہشت اور ویکسین کی قلت ۔ ویکسین سینٹرس کا چکر لگا کر عوام لوٹ رہے ہیں خالی ہاتھ

کووڈ کی دوسری لہر کچھ تھم تو گئی ہے مگر عوام کے اندر تیسری لہر کا خوف اور ویکسین نہ ملنے کی وجہ سے دہشت کا ماحول بنتا جارہا ہے۔ جبکہ حکومت کی  طرف سے  18سال سے زائد عمر کے تمام افراد کا ویکسینیشن کرنے کا بھروسہ دلایا گیا تھا ۔      لیکن فرسٹ ڈوز کی بات تو دور، فی الحال پہلا ڈوز لے ...

بھٹکل : بڑے جانوروں کی قربانی پر سرکاری پابندی کے پس منظر میں بکروں کا کاروبار زوروں پر

بقر عید کی آمد کے ساتھ بھٹکل میں بڑے پیمانے پر بڑے جانوروں کی قربانی ہمیشہ ایک معمول رہا ہے ۔ مگر امسال ریاستی حکومت کی پابندیوں کی وجہ سے بڑے جانور لانے اور فروخت کرنے میں جو رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں اس پس منظر میں بکرے کی منڈی بہت زیادہ اچھال پر آگئی ہے۔

کوویڈ کا پیغام انسانیت کے نام۔۔۔۔ (از:۔مدثراحمد، ایڈیٹر آج کا انقلاب، شموگہ)

کوروناوائرس کی وجہ سے جہاںوباء دنیابھرمیں تیزی سے پھیلتی گئی اور چندہی مہینوں میں کروڑوں لوگ اس وباء سے متاثرہوئے،لاکھوں لوگ ہلاک ہوئے،وہیں اس وباء نےپوری انسانیت کو کئی پیغامات دئیے ہیں جو قابل فکر اور قابل عمل باتیں ہیں۔

بنگلورو: ’میڈیکل ٹیررزم ‘ کا ٹائٹل دینے والی بی جے پی اب خاموش کیوں ہے ؟:کانگریس کا سوال

بیڈ بلاکنگ دھندے کو ’’میڈیکل ٹیررزم ‘‘ کا نیا ٹائٹل دینے والی بی جےپی اب خاموش  کیوں ہے، اس سلسلے میں کوئی زبان  کیوں نہیں کھول رہا ہے، یہ سوال   ریاستی کانگریس نے بی جے پی سے کرتے ہوئے  جواب مانگا ہے۔

کرناٹک میں پی یو سی دوم کے نتائج کا اعلان ؛ 18،414 طلبا میں سے 5،507 طلبا کا میاب

پی یو سی دوم کا چیلنجنگ امتحان لکھنے والے طلبا کے نتائج ظاہر کردئے گئے  ہیں۔ جملہ 18،414 طلبا نے امتحان کے لئے اپنا اندراج کرویا تھا۔ ان میں سے 17،470 پرائیویٹ طلبا ، 351 رپیٹرس ، 592 فریشریس  طلبا نے امتحان میں شرکت کی ۔