افغان امن مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں ٹرمپ کا شک کا اظہار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th November 2018, 12:42 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن 24نومبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ اْن کی انتظامیہ افغانستان میں ’’انتہائی ٹھوس‘‘ امن مذاکرات کر رہی ہے، لیکن وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے آیا بات چیت کامیاب ہوگی۔ٹرمپ نے یہ کلمات ’تھینکس گونگ‘ کے موقعے پر لڑائی میں الجھے ہوئے ملک میں تعینات امریکی فوجیوں کے ساتھ ٹیلی کانفرنس کال کے دوران کہی۔ اْنھوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ ہو سکتا ہے وہ افغانستان کا دورہ کریں، جہاں 11 ستمبر، 2001ء4 کے امریکی سرزمین پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے فوری بعد امریکی فوج کو تعینات کیا گیا تھا۔صدر نے کہا کہ ’’اس وقت ہم افغانستان میں انتہائی ٹھوس مذاکرات کر رہے ہیں، جس کا بہت سے لوگوں کو علم نہیں ہے۔ایسا پہلی بار ہوگا۔ لیکن، ہم افغانستان میں بہت، بہت ہی ٹھوس نوعیت کے مذاکرات کر رہے ہیں۔۔۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ہم امن کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور دیکھیں گے آیا ایسا ہوتا ہے۔ٹرمپ بظاہر امریکہ کے نمائندۂ خصوصی زلمے خلیل زاد کی جانب سے پہلے براہ راست مذاکرات کے حوالے سے بات کر رہے تھے، جس کا اْنھوں نے حالیہ دِنوں طالبان کے ساتھ آغاز کیا، جو امریکہ کی حمایت سے چلنے والی افغان حکومت کے خلاف مہلک بغاوت میں ملوث رہے ہیں۔ ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے کلمات میں کہا کہ ’’ہمارے مذاکرات جاری ہیں۔ مجھے نہیں پتا کہ اِن میں کامیابی ہوگی۔ شاید نہ ہو۔ کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا؟ ہو سکتا ہے، شاید نہ ہو۔۔ عین ممکن ہے کہ یہ کامیاب ہوں، ہوسکتا ہے نہ ہوں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ افغانستان میں اس وقت مذاکرات جاری ہیں۔امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے 17 برس قبل افغانستان فتح کیا اور طالبان کو اقتدار سے نکالا، جو القاعدہ کے رہنماؤں کی سرپرستی کرتے تھے، جنھیں امریکہ 11 ستمبر کے مہلک حملوں کی منصوبہ سازی کا ذمے دار ٹھہراتا ہے۔ افغان فوجی مشن پر امریکہ کے تقریباً ایک ٹریلین ڈالر خرچ آئے ہیں، جب کہ 2400 سے زائد امریکی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔تب سے، امریکی ’کمانڈر اِن چیف‘ ملک میں تعینات فوج اور دنیا بھر کے اْن علاقوں کا غیر اعلانیہ دورہ کرکے ملاقات کرتے رہے ہیں، جہاں فوج تعینات ہے۔تقریباً دو برس سے جب سے اْنھوں نے عہدہ سنبھالا ہے، صدر ٹرمپ نے افغانستان کا دورہ نہیں کیا۔ اْنھوں نے جمعرات کو امریکی فوج کو بتایا کہ ’’ہوسکتا ہے میں وہیں آکر آپ سے ملاقات کروں۔ نہیں کہا جا سکتا، کچھ بھی ہو سکتا ہے‘‘۔نائب صدر مائیک پینس گذشتہ دسمبر میں کابل کے شمال میں امریکی قیادت والے ’بگرام ایئر بیس‘ پر فوجوں سے ملاقات کی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیا گیا، چین میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 56 ہوگئیں ؛ چین سے دوسرے ممالک میں بھی پھیلنے کا خدشہ

چین کی حکومت نے کہا ہے کہ 25 جنوری تک 1975 افراد کے 'کورونا' وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہوئی ہے اور اس وائرس سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 56 ہوگئی ہے۔دوسری طرف 'کورونا' وائرس کو عالمی وباء قرار دیتے ہوئیاس کے انسداد کے لیے عالمی سطح پر مزید اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔یہ وائرس گذشتہ ...

ترکی میں زلزلے کے باعث ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری طاقت ور زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 29 ہوگئی، 1400 زخمی

ترکی میں جمعہ کی شام آنے والیطاقت ور زلزلے کے نتیجے میں اب تک 29 افراد جاں بحق جب کہ 1400 زخمی ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیاداوں پر امدادی کام جاری ہے اور ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔ مشرقی ترکی کے علاقوں میں آنے والے اس تباہ کن زلزلے کیباعث دسیوں افراد لاپتا ...

آپ کا شکریہ... ٹرمپ نے مذاکرات سے متعلق ایران کی مشروط پیش کش مسترد کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی اس پیش کش کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ وہ پابندیاں اٹھائے جانے کی شرط کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کا یہ موقف ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی حالیہ تجویز کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’ایرانی وزیر ...

امریکی ڈیموکریٹس پرصدر ٹرمپ کے خلاف من گھڑت معلومات فراہم کرنے کا الزام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے فراہم کردہ معلومات پر ری پبلیکنز کی طرف سے شدید تنقید کرتے ہوئے ان معلومات کو جعلی اور من گھڑت قرار دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دفاعی ٹیم کے رکن سینیٹر رِک اسکاٹ نے کہا ہے کہ 'ڈیموکریٹس نے صدر کے ...

اردغان کی معاہدے کی خلاف ورزی، ترک فوجیوں کی لیبیا آمد جاری

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی طرف سے لیبیا میں عدم مداخلت سے متعلق طے پائے برلن معاہدے کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ ترکی کی طرف سے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے مسلسل فوجی بھیجے جا رہے ہیں۔کل جمعہ کو ترک صدر نے ایک بیان میں کہا کہ لیبیا میں فائز السراج کی قیادت میں ...