ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو حملے سےروکاکیوں نہیں

Source: S.O. News Service | Published on 5th January 2022, 11:43 AM | عالمی خبریں |

واشنگٹن، 5؍ جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) گزشتہ سال ۶؍ جنوری کو امریکی  پارلیمنٹ کی عمارت ’کیپٹل ہل‘ پر ہوئے حملے کی تحقیقات کرنے والی کانگریس کمیٹی اب سوال کی تفتیش کرنا چاہتی ہے کہ آخر اس وقت کے صدر  ڈونالڈٹرمپ نے اپنے حامیوں کو کیپٹل ہل پر حملے سے روکا کیوں نہیں ؟ ساتھ ہی کمیٹی یہ بھی معلوم کرنا چاہتی ہےکہ پولیس کے ساتھ ہوئی جھڑپوں کو روکنے کیلئے ٹرمپ نے ( بطور صدر) کوئی اقدام کیوں نہیں کیا، جبکہ یہ جھڑپیں ۳؍ گھنٹے تک جاری رہیں۔  واضح رہے کہ گزشتہ سال جب کیپٹل ہل میں نومنتخب صدر جو بائیڈن کی جیت  کی تصدیق کی جا رہی تھی ، تو ڈونالڈ ٹرمپ واشنگٹن ہی میں ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے اور انہوں نے خود اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ کیپٹل ہل کی طرف جائیں اور اس عمل کور وکیں۔ 

  اس معاملے کی تحقیقات کے بعد کئی لوگوں کو سزا سنائی جا چکی ہے۔ لیکن اب کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی سربراہ بینی تھامسن  نےیہ سوال اٹھایا  ہے کہ آخر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس وقت اپنے حامیوں کو ایسی حرکت کرنے سے روکا کیوں نہیں ؟  انہوں نے کہا کہ ۹؍ رکنی تحقیقاتی پینل یہ جاننا چاہتا ہے کہ ۱۸۷؍منٹ کے دوران جب صدر ٹرمپ نے اس سلسلے میں کوئی اقدام نہ اٹھایا تو اس وقت وہ کیا کر رہے تھے، جب کہ انہوں نے وہائٹ ہاؤس کے اوول آفس کے باہر ایک کھانے کے کمرے سے ٹیلی ویژن پر ہنگامہ آرائی کو خود دیکھا  تھا۔ کانگریس مین تھامسن نے کہا کہ’’یہ وہ وقت تھا جب ہم خطرناک حد تک اپنی جمہوریت کو کھو دینے کی حد تک پہنچ گئے تھے۔‘‘ریاست وومنگ سے ری پبلکن پارٹی کی  نمائندہ لز چینی، جو کہ ٹرمپ کی شدید مخالف ہیں، نے اے بی سی چینل کے `دِس ویک شو میں بتایا کہ ٹرمپ فسادیوں کو پیچھے ہٹنے کیلئے کہہ سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔  چیئرمین تھامسن نے کہا کہ سابق صدر عدالت میں اپنی فون کال، پیغامات اور دستاویزات کا ریکارڈ دیکھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ اس وقت ان کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ، ری پبلکن قانون سازوں اور ان کے انتظامیہ نے ان پر زور دیا تھا کہ وہ ایسا بیان دیں جس میں صدر اپنے ۸؍ سو سے زائد حامیوں کو کانگریس کی عمارت سے نکل جانے کیلئے کہیں۔

 کانگریس کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ سابق صدر جو کچھ کر رہے ہیں وہ ان کا عام طریقہ کار ہے، وہ مقدمہ کرتے ہیں، عدالت جاتے ہیں، تاخیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یقین ہے کہ ان ۱۸۷؍منٹ میں جو کچھ ہوا ہمیں اُس تک رسائی حاصل ہو گی۔خیال رہے کہ واشنگٹن میں ایک اپیل کورٹ نے فیصلہ دے رکھا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی فسادات اور اس کی منصوبہ بندی سے متعلق کسی بھی دستاویزات کو دیکھنےکا ’منفرد طور پر ‘ اختیار رکھتی ہے۔ لیکن ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے نچلی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے وقت کے دوران وہائٹ ہاؤس کی دستاویزات کو منظر عام پر لانے سے بچایا جانا چاہئے۔

  کیپٹل ہل کو آخر کار بلوائیوں سے خالی کروانے کے بعد کانگریس نے ۷؍ جنوری کی علی الصباح صدر بائیڈن کی انتخابی کامیابی کی توثیق کی تھی۔ تھامسن نے کہا ہے کہ ان کا پینل اس بات کی بھی تحقیقات کر رہا ہے کہ کیا کیپٹل ہل پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی؟ یاد رہے کہ اُس وقت ری پبلکن پارٹی کے کچھ بڑے لیڈر ٹرمپ کو ان کے عہدے پر فائز رکھنے اور نئے صدر بائیڈن کی ۲۰؍  جنوری کی افتتاحی تقریب کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔  تھامسن کے بقول وہائٹ ہاؤس کے قریب واقع ولرڈ ہوٹل میں ٹرمپ حکام اور وہائٹ ہاؤس کے اہلکاروں کے درمیان ہونے والی گفتگو، خاص طور پر دلچسپ ہوگی جو کیپٹل ہل پر ہنگامہ آرائی سے قبل ہوئی تھی۔ ان کے بقول ایسا نہیں تھا کہ اچانک بے قابو ہو کر لوگوں نے کیپٹل ہل پر دھاوا بول دیا، اس کی حدود پھلانگ دیں، عمارت کی کھڑکیاں، دروازے توڑ ڈالے اور پولیس سے ہاتھا پائی کی۔اس ضمن میں تحقیقاتی کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ وہ ۲؍ ٹرمپ حامی ری پبلکن پارٹی کے اراکین اسکاٹ پیری اور  جم جارڈن، کے انٹرویوکی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ان دونوں نے صدر بائیڈن کی کامیابی کو الٹنے کی کوشش کی تھی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں اراکین  رضا کارانہ طور پر کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں قانون کے تحت بلایا جائے گا۔ انہوں نے فی الحال اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ ٹرمپ کے تعلق سے معاملے کو محکمہ انصاف کو بھیجا جائے گا یا نہیں۔ البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا کہ جو کچھ بھی قانونی طور پر ضروری ہوگا وہ کیا جائے گا۔ 

ایک نظر اس پر بھی

سعودی حکومت کا ایسا اصول جس کے سبب 10 لاکھ سے زائد غیر ملکیوں نے ملازمت چھوڑ دی

  مملکت سعودی عرب میں 2018 کے آغاز سے 2021 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک 45 ماہ کے اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زائد غیر ملکی ملازمین اپنی ملازمتیں چھوڑ آئے۔ سعودی میڈیا کے مطابق ملازمین کی یہ تعداد ملک میں غیر ملکی ملازمین کی کل تعداد کا 10 فیصد ہے۔

ایئر انڈیا نے کیا 5 جی معاملہ پر امریکہ کے لئے پروازوں میں تخفیف کا اعلان

ایئرانڈیا سمیت کئی بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں نے 5جی موبائل فون سروس اور پیچیدہ ہوا بازی ٹیکنالوجیز کے درمیان مداخلت کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کے باعث بدھ سے امریکہ کے لیے پروازیں بند کر دی ہیں۔ ایئر انڈیا نے کہا کہ اس نے دہلی سے امریکہ میں سان فرانسسکو، شکاگو اور جے ایف کے ...

امیکرون کے بعد مزید نئے ویرینٹ کا امکان: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہنوم گیبریئس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس وبائی مرض ختم نہیں ہوا ہے اور اومیکرون کے بعد بھی نئی شکلیں سامنے آنے کا امکان ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کی وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہ دلائل دیے جا رہے ہیں کہ ...

’کورونا سے شفایاب ہونے کے بعد بھی کئی لوگوں کو مہینوں تک آرام نہیں!‘ 40 فیصد افراد کو کسی نہ کسی مسئلہ کا سامنا

دنیا بھر میں کورونا سے شفایاب ہونے والے افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس سے شفایاب ہونے کے بعد بھی مہینوں تک لوگوں کو آرام نہیں ملتا اور وہ کووڈ کے بعد کی پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نومبر 2021 میں گئی تحقیق کے بعد کہا گیا کہ دنیا ...

ہندوستان میں مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں، کورونا کو روکنے کیلئے موجودہ اقدامات کافی، مکمل لاک ڈاؤن سے فائدے کم، نقصانات زیادہ:ڈبلیو ایچ او

ہندوستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے بڑھتے ہوئے کیسوں کے باوجود فی الحال مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ضرورت نہیں ہے- یہ بات ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیو ایچ او)نے کہی -