بابری مسجد مقدمہ: رام جنم بھومی پر نرموہی اکھاڑے کے قبضہ کا دعویٰ ٹرائل جج نے سپریم کورٹ میں پانچ درخواستیں داخل کیں۔ سکیورٹی کی مانگ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th August 2019, 10:28 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،24 اگست (ایس او نیوز؍یو این آئی) سپریم کورٹ میں ایودھیا میں رام جنم بھومی بابری مسجد اراضی کے تنازعہ کی سماعت آج گیارہویں دن بھی جاری رہی، جس میں نرموہی اکھاڑا نے بتایا کہ رام جنم بھومی میں بھگوان رام کی مورتی نصب ہوئی تھی اور وہ بحیثیت خدمت گار زمین پر قبضے کا دعویٰ کر رہا ہے۔چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر کی آئینی بنچ کے سامنے نرموہی اکھاڑا کی طرف سے نرمل اکھاڑہ کی جانب سے سشیل کمار جین نے دلیل دی۔ انہوں نے استدلال کیا کہ نرموہی اکھاڑا ایک خدمت گار کی حیثیت سے اس زمین پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کررہا ہے اور بحیثیت خدمت گار اس کے پاس زمین کا حق ہے۔مسٹر جین نے کہاکہ میں وقف املاک کا دعویٰ بحیثیت خدمت گار کررہا ہوں، وقف لفظ کا مطلب خدا کو عطیہ کرنا ہے اور اس کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں ہے، اس لحاظ سے مندر پر نرموہی اکھاڑہ کا حق ہے۔کل دسویں دن کی سماعت کے دوران درخواست گزار گوپال سنگھ وشارد کی طرف سے پیش ہونے والے، سینئر ایڈوکیٹ رنجیت کمار،نے کہا تھا کہ وہ (مؤکل) ایک عبادت گزار ہے اور اسے متنازعہ جگہ عبادت کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اس سے یہ حق چھین نہیں سکتا۔مسٹر کمار نے رام للا ویراجمان کے وکیل سی ایس ویدیاناتھن کی دلیلوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہا تھاکہ متنازعہ اراضی اپنے آپ میں ایک مقام الٰہی ہے اور بھگوان رام کا عبادت گزار ہونے کی وجہ سے ان کے مؤکل کو وہاں عبادت کرنے کا حق ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں رام کی پیدائش ہوئی تھی اور انہیں یہاں عبادت کا حق دیا جانا چاہئے۔انہوں نے معاملے کی نچلی عدالت میں سماعت کے دوران آئینی بنچ کے سامنے پیش کی گئی دستاویزات کو رکھا تھا۔ انہوں نے ان دستاویزات میں 80 سالہ عبدالغنی کی گواہی کا بھی ذکر کیا۔ اس کے بعد خود جسٹس گگوئی نے مسٹر کمار سے طرح طرح کے سوالات پوچھے، جن کا جواب انہوں نے پرانی دستاویزات کی بنیاد پر دیا۔سپریم کورٹ نے سال 1992 کے بابری مسجد کے انہدام کے معاملے کی سماعت لکھنؤ میں کر رہے اسپیشل جج کی مدت بڑھانے کے بارے میں اتر پردیش کی حکومت کو دو ہفتے کے اندر حکم جاری کرنے کے لئے جمعہ کو کہا۔جسٹس آر ایف نریمن اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے کہا کہ 27 جولائی کو خصوصی جج نے ایک نیا خط لکھا ہے جس میں انہوں نے خود کو سکیورٹی مہیا کرائے جانے سمیت پانچ درخواستیں داخل کی ہیں۔بنچ نے ریاست کی جانب سے پیش سینئر وکیل ایشوریہ بھاٹی سے تمام پانچ درخواستوں پر دو ہفتے کے اندر غور کرنے کے لئے کہا۔ساتھ ہی بنچ نے کہا کہ یہ درخواستیں عقلی لگتی ہیں۔سپریم کورٹ نے 19 جولائی کو خصوصی جج کی مدت معاملے کی سماعت مکمل ہونے اور فیصلہ سنائے جانے تک بڑھا دیا تھا۔بہرحال، ریاستی حکومت کو اس سلسلے میں حکم جاری کرنا ہے جو اس نے اب تک نہیں کیا۔خصوصی جج کو عدالت عظمیٰ نے نو ماہ کے اندر فیصلہ سنانے کے لئے بھی کہا ہے۔بابری مسجد کے انہدام کے معاملے میں بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی ملزم ہیں۔ان تینوں کے علاوہ، سپریم کورٹ نے سابق بھاجپا ایم پی ونے کٹیار اور سادھوی رتمبرا پر بھی 19 اپریل 2017 کو سازش کے الزام لگائے تھے۔اس معاملے میں تین دیگر رسوخ دار ملزمان گری راج کشور، وشو ہندو پریشد کے لیڈر اشوک سنگھل اور وشنو ہری ڈالمیا کا سماعت کے دوران انتقال ہو گیا۔

ایک نظر اس پر بھی