کیا ملک میں جمہوریت کی بقا کے لئے ایسے ہی غداروں کی ضرورت تو نہیں ؟ آز: مدثراحمد (ایڈیٹر، روزنامہ آج کاانقلاب،شیموگہ)

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th September 2019, 7:45 PM | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

جب سے ملک میں بی جے پی اقتدار پر آئی ہے  ہر طرح کی آزادی پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔بولنے کاحق،لکھنے کاحق،تنقید کرنے کا حق یہ سب اب ملک مخالف سرگرمیوں میں شمار ہونے لگے ہیں اور جو لوگ ان حقوق کا استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں ملک میں غدار کہا جارہا ہے۔ملک کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تواس بات کااحساس ہوگاکہ ملک کے حالات کو سدھارنے کیلئے ہمیں اب  ایسے ہی  غداروں کی ضرورت ہے،جو حکومت کی حماقتوں پر تنقید کرسکیں۔

بی جے پی حکومت کے اقتدار پر آنے کے بعد ہندوستانی شہریوں کے حقوق صلب کئے  جارہے ہیں،ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں ہر طرح کی آزادی کو محدود کیا  جارہا ہے اور بولنے   اور لکھنے  والوں  کے حقوق صرف حکومت نوازوں کو دئیے جارہے ہیں،باقی جو لوگ حکومتوں سے اختلافات رکھتے ہیں ان لوگوں کو ملک میں غداریا ملک مخالف کہا جارہا ہے،یہ جمہوری نظام کیلئے خطرناک عمل ہے۔ایک طرف ہندوستان بھر میں حکومت کی پالیسیوں کی شدید تنقید کی جارہی ہے تو دوسری جانب اسی حکومت کی تائید میں ایسے ادارے و لوگوں کوتیارکیا جارہا ہے جو سچائی کو چھپانے کیلئے باقاعدہ مہم چلانے کا کام کررہے ہیں۔

جمہوری نظام میں حکومت پر تنقید کرنااور اُس پر تبصرہ کرنا جمہوریت کابنیادی اصول ہے،اگر کسی بھی جمہوری ملک میں حکومت کو بہتر طریقے سے چلانا ہوتو صرف زیر اقتدار پارٹی کا صحیح ہونا ہی اہم نہیں ہے بلکہ اپوزیشن اور میڈیا کا بھی درست ہونا ضروری ہے۔حکومت پر تنقید کرنے والوں کوغدار یا ملک دشمن قرار دینے کا قانون آزادی سے قبل برٹش حکومت میں تھا،لیکن برٹش حکومت ملک کو چھوڑ کر چلے جانے کے باوجود اپنے پیچھے سنگھ پریوار جیسی بیماری کو چھوڑ گئے جس کی زد میں پورا ہندوستان آچکا ہے اور آج سنگھ پریوارکے اشاروں پر جو حکومت چل رہی ہے اُس حکومت پرتنقید کرنا غلط مانا جارہا ہے۔

پچھلے چھ سالوںمیں   ملک کی جوحالت ہوئی ہےوہ آزادی کے 73 سالوں کےدرمیان نہیں ہوئی،اندرا گاندھی کے دورمیں ملک میں ایمرجنسی نظام قائم کیا گیا تھا،لیکن آج جو حالات دکھائی دے رہے ہیں وہ حالات اُس وقت بھی  بالکل  نہیں تھے۔مگر آج ملک میں ایمرجنسی نافذ نہ کئے جانے کے باوجود ایمرجنسی کے حالات دیکھے جاسکتے ہیں۔نہ لوگ کچھ کہہ سکتے ہیں نہ ہی لوگ حکومت کی تنقید کرنے کا حق رکھتے ہیں،نہ عوام کو سکون سے جینے کا موقع دیا جارہا ہے نہ ہی ملک کے معاشی و اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کیلئے کام کیا جارہا ہے۔آج ملک تیزی کے ساتھ بدل رہا ہے،کئی آئی اے ایس و آئی پی ایس افسران تشویش ظاہر کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔اب حکومت کے خلاف بات کرنے والوں کو غدار، دیش دروہی اور ملک کا دشمن کہاجاتا ہے تو یقیناً آج ملک کو ایسےہی  ملک دشمنوں اور غداروں کی ضرورت ہے، ملک میں ان کی تعداد  اگر بڑھتی ہے تو یہ  ملک کے لئے ہی اچھا ہوگا ، کم از کم اس بات کی توقع رکھ سکیں گے کہ ایسے ہی لوگوں سے جمہوریت تو بچ جائیگی۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی حکمرانی کا زوال: 29 سے گھٹ کر 10 ریاستوں تک محدود ... آز: م. افضل

بی جے پی کے جولوگ کل تک کانگریس مکت بھارت کا نعرہ چیخ چیخ کر لگارہے تھے اب خاموش ہیں شایداس لئے کہ اب بی جے پی کا ہی دائرہ سمٹنے لگاہے، این ڈی اے بکھررہا ہے ،مودی کے مصنوعی طلسم کی قلعی بھی کھلتی جارہی ہے اور ایک ایک کرکے ریاستیں اس کی حکمرانی کی قید سے آزادہوتی جارہی ہیں ، تازہ ...

ہوناورمیں پریش میستا کی مشتبہ موت کوگزرگئے2سال۔ سی بی آئی کی تحقیقات کے باوجود نہیں کھل رہا ہے راز۔ اشتعال انگیزی کرنے والے ہیگڈے اور کرندلاجے کے منھ پر کیوں پڑا ہے تالا؟

اب سے دو سال قبل 6دسمبر کو ہوناور میں دو فریقوں کے درمیان معمولی بات پر شرو ع ہونے والا جھگڑا باقاعدہ فرقہ وارانہ فساد کا روپ اختیار کرگیا تھا جس کے بعد پریش میستا نامی ایک نوجوان کی لاش شنی مندر کے قریب واقع تالاب سے برآمد ہوئی تھی۔     اس مشکوک موت کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر پورے ...

6 دسمبر، جس نے ملک کی سیاست کا نقشہ بدل دیا۔۔۔۔۔۔۔۔از: ظفر آغا

’دسمبر 6‘ ہندوستانی سیاست کا وہ سنگ میل ہے جس نے سیاست کا نقشہ ہی پلٹ دیا۔ اسی روز 1992 کو ایودھیا میں مغل شہنشاہ بابر کے دور کی ایک چھوٹی سی مسجد منہدم ہوئی اور بس سمجھیے کہ اس روز ہندوستانی آئین میں سیندھ لگ گئی۔

ایودھیا معاملہ سے منسلک وہ شخصیات، جن کےکام کی وفاداری مذہب پربھاری ثابت ہوئی

سپریم کورٹ کے فیصلےکے بعد ایودھیا معاملے(مندر- مسجد تنازعہ) کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ 135 سال پہلے1885 میں شروع ہوئےایودھیا تنازعہ کی قانونی لڑائی میں کچھ کردارایسے رہے ہیں، جنہیں ان کی ڈیوٹی کے فرائض کولےکرہمیشہ یاد رکھا جائےگا،

میڈیا کی پیش کردہ تصویر سے کوسوں دورہے میرا شہر بھٹکل :  سرکاری اسپتال کی میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سویتا کا تجربہ

برائیوں میں ڈوبی دنیا میں آج بھی  انسانیت ہے،ایسی ہی ایک زندہ مثال میرےاپنے امن وامان کے لئے مشہور  شہر بھٹکل میں خود میرے ساتھ پیش آئی ہے ،جب کہ میرے اس شہر کے متعلق میڈیا ہزار باتیں لکھتا ہےاور جو دکھاتا ہے وہ اس سے کوسو ں دور ہے۔ بھٹکل سرکاری اسپتال کی میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ...

بھٹکل نیشنل ہائی وے پر تیزرفتار بس، لاری سے ٹکراگئی؛ 25 سے زائد زخمی

یہاں وینکٹاپور نیشنل ہائی وے 66 پر ایک تیز رفتار بس، پارک کی ہوئی لاری سے  ٹکراگئی جس کے نتیجے میں بس پر سوار 25 سے زائد مسافر زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کو کنداپور اور باقی کو بھٹکل سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

  وزیر داخلہ امت شاہ کی پراسرار ’تسلی‘ کہا؛   ہندوستانی مسلمان، ہندوستانی تھے اور آئندہ بھی رہیں گے

وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کو متنازعہ شہریت ترمیمی بل کو راجیہ سبھا میں بحث کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے مسلمان ہندوستانی شہری تھے، ہیں اورآئندہ بھی رہیں گے۔پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے غیر مسلم تارکین وطن کو بھارتی شہریت فراہم کرنے کی فراہمی والے اس بل کو پیش ...