اُڈپی کے کارکلا میں بھیانک سڑک حادثہ؛ بس سڑک کنارے پہاڑی چٹان سے ٹکراگئی؛ نو ہلاک، 24 زخمی؛ کیسے ہوا تھا حادثہ ؟

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 15th February 2020, 8:56 PM | ساحلی خبریں |

اُڈپی 15/فروری (ایس او نیوز) ضلع کے کارکلا میں ایک سیاحوں سے بھری پرائیویٹ بس سڑک حادثے کا شکار ہوگئی جس میں نو افراد  ہلاک ہوگئے جبکہ 24 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں شدید زخمی ہونے والوں کو منی پال اسپتال اور دیگر کو کارکلا سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔حادثہ سنیچر کی شام 5:35 بجے پیش آیا۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  پرائیویٹ کمپنی کی ٹورسٹ بس میسور سے ایک کمپنی کے ملازمین کو لے کر سیاحت کے لئے مینگلور آرہی تھی۔  اُڈپی۔چکمنگلور گھاٹ پر  مُلنور کے مقام پر بس ڈرائیور کے ہاتھوں بے قابو ہوگئی اور ایک خطرناک موڑ پر بس سڑک کنارے واقع پہاڑی چٹان سے ٹکراگئی۔ مرنے والوں میں بس ڈرائیور اور بس کلینر بھی شامل ہیں جن کی شناخت  اُمیش اور بسوراج کی حیثیت سے کی گئی ہے۔دیگر مہلوکین کی شناخت انگنا، رنجیتا، رادھا روی،  یوگیندر، پریتم گوڈا، بسواراجو اور شارول کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ جن کی عمریں 21 سے 23 سال کے درمیان ہیں۔ یہ سبھی میسور کی ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم تھے اور سنیچر اتوار چھٹی ہونے کی بنا پر ساحلی کرناٹکا کی سیر کے لئے نکلے تھے۔

ایک ذرائع نے خبر دی ہے کہ جب بس  گھاٹ کے آڑی ترچی سڑک پر سے گذررہی تھی تو اچانک بس کی ڈکی کا دروازہ کھل گیا اور پیچھے سے لگیج گرنے لگا، جسے دیکھ کر بس کےایک مسافر نے چینخ ماری کہ سامان نیچے گررہا ہے،  چینخ سن کر جیسے ہی ڈرائیور نے پیچھے مُڑ کر دیکھا، ڈرائیور کا دھیان ہٹتے ہی بس تیزرفتاری کے ساتھ پہاڑ کی چٹان سے ٹکراگئی۔

حادثے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ  ٹکر لگتے ہی چھ لوگوں کی  موقع پر ہی موت واقع ہوگئی  جبکہ دیگر تین  لوگوں نے اسپتال لے جانے کے دوران راستے میں  دم توڑ دیا۔مرنے والوں میں چھ مرد اور تین خواتین ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ابھی بھی بعض  کی حالت نہایت نازک ہے۔ حادثے میں بس کے بھی پرخچے اُڑ گئے ہیں۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی  اُڈپی ایس پی  وشنو وردھن اپنے عملہ کے ساتھ جائے واردات پر پہنچ گئے   اور ایمبولنس کی مدد سے تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال پہنچایا۔ اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حادثے میں نو لوگوں کے مرنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ بس پر جملہ 35 لوگ سوار تھے۔انہوں نے بتایا کہ آٹھ شدید طور پر زخمیوں  کو منی پال اسپتال شفٹ کیا گیا ہے جس میں سے چار کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔

نعشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے کارکلا سرکاری اسپتال کے مردہ خانے میں رکھا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں پیش آیا عجیب و غریب معاملہ؛ لڑکا روڈ کنارے پیٹ پکڑ کر تڑپتا رہا؛ لوگ کورونا مریض سمجھ کر بھاگنے لگے؛ پھر کیا ہوا ؟

کورونا وائرس کو لے کر دنیا بھر میں جس طرح کا خوف اور دہشت لوگوں کے ذہنوں میں پائی جارہی ہے، بھٹکل بھی اس سے مختلف نہیں ہے، لوگ کسی اور وجہ سے بھی درد سے کراہ سکتے ہیں اور نیچے گر کر درد سے تڑپ سکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ کوروناوائرس سے متاثر ہوکر ہی کراہ رہا ہو اور ...

بھٹکل میں غیر ممالک سے آئے ہوئے بھٹکل کے تمام شہریوں کا کورنٹائن کرنے ضلعی انتظامیہ کا فیصلہ؛ ضلع انچارج وزیر نے کی ضلعی انتظامیہ کےساتھ میٹنگ

بھٹکل میں کورونا وائرس معاملات میں دن بدن اضافہ کو دیکھتے ہوئے  ضلعی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس ماہ کے 15مارچ  کے بعد جو بھی لوگ غیر ممالک سے واپس بھٹکل پہنچے ہیں ، اُن سبھوں کو دوسری جگہ منتقل کرکے ان کو الگ تھلگ  ( کورنٹائن) میں رکھا جائے۔اس بات کی اطلاع اُترکنڑا کےڈپٹی ...

کورونا وائرس سے حالات مزید ابتر؛ بھٹکل میں مزید ایک شخص کی رپورٹ پوزیٹیو آنے کی خبر، چھ متاثرہ مریض کاروار۔نیوی اسپتال منتقل

ملک بھر میں جہاں کورونا وائرس کو لے کر خوف وہراس بڑھتا جارہا ہے اور ہر روز کورونا سے متاثرہ لوگوں کی تصدیق کی جارہی ہے۔ ایسے میں کرناٹک کے شہر بھٹکل کی حالت مزید دگرگو ہوتی نظر آرہی ہے۔ کل شام کو ایک ساتھ تین لوگوں کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آنے کی خبر ملی تھی جس کی  آج ...

کرناٹکا میں کورونا کے مزید دس معاملات؛ بھٹکل کے پھر تین لوگوں کی رپورٹ آئی پوزیٹیو؛ بھٹکل میں مکمل خاموشی؛ آئی این ایف نے اسپتال کے لئے فراہم کئے کٹس

  کرناٹکا میں کورونا  پوزیٹیو کے آج دس معاملے سامنے آئے ہیں جس میں ضلع اُترکنڑا کے تین لوگ بھی شامل ہیں۔ کرناٹکا میں دس معاملے سامنے آنے کے بعد ریاست بھرمیں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 74ہوگئی ہے۔

بھٹکل کورونا وائرس معاملہ؛ انتظامیہ نے جاری کیا وبائی مرض اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے سرکاری فنڈ؛ فاقہ کشی پر مجبور افراد کے لئے بھی  کھانے کا انتظام

ضلع شمالی کینرا کے ڈپٹی کمشنر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قدرتی آفت سے پیدا شدہ صورتحال سے نپٹنے کے لئے ضلع انتظامیہ نے سرکاری فنڈ جاری کردیا ہے۔