عصمت دری کے واقعات میں دنیا کے ٹاپ10 ممالک میں ایک بھی مسلم ملک نہیں -ہندوستان میں روزانہ 93 عورتوں کی عزت لوٹی جاتی ہے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 27th April 2019, 10:35 AM | ملکی خبریں | عالمی خبریں |

بنگلورو،27؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی)مذہب اسلام کے خلاف جھوٹا پروپگنڈہ زیادہ کیا جاتا ہے- لیکن حقائق کچھ اورہی کہانی بیان کرتے ہیں - ایسی ہی ایک کہانی ہے، عورتوں کے خلاف جرائم، جن میں سب سے سنگین ہے، عصمت دری- عام طور پریہ پرپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ مغربی ممالک میں خواتین کوآزادی حاصل ہے اور مغربی ممالک میں عورتیں محفوظ ہیں -

دوسری جانب یہ بھی پروپگنڈہ کیا جاتا ہے کہ اسلامی ممالک میں خواتین کو غلام بنا کر رکھا جاتا ہے، یہ بھی مغالطہ پیدا کیا گیا ہے کہ اسلامی ممالک میں عورتیں محفوظ نہیں ہیں اوران کو جنسی غلام بنایا جاتا ہے- عورتوں کو جنسی خواہشات اور ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے- یہ جھوٹا پروپگنڈہ کیا جاتا ہے کہ مغربی ممالک کے مقابلہ مسلم ممالک میں عورتوں کی عزت و عصمت کو زیادہ خطرلاحق ہوتا ہے- لیکن کیاآپ جانتے ہیں کہ اعداد و شمار اور حقائق کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں؟عالمی سطح پر2018 میں عورتوں کی عصمت دری کے اعداد و شمار کی روشنی میں بدترین ٹاپ10ممالک میں ڈنمارک اور فن لینڈ-آسٹریلیا - کینیڈا - نیوزی لینڈ-- ہندوستان- برطانیہ- امریکہ- سوئیڈن اورجنوبی افریقہ شامل ہیں -دنیا کے ان ٹاپ ٹین ممالک کی جو فہرست بنتی ہے، جہاں عصمت دری کے کیس زیادہ ہوتے ہیں،ان میں سب سے زیادہ مغربی ممالک ہی ہیں -اس کے بعد چند ایشیائی ملک اور افریقی ممالک کا بھی شمار اس فہرست میں ہوا کرتا ہے- لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ مذہب اسلام، اسلامی تعلیمات، پردہ، حجاب کے خلاف انٹر نیشنل پروپگنڈہ چاہے جس قدر کیا جائے، اس فہرست میں ایک بھی مسلم ملک کا نام شامل نہیں ہے- ایک فہرست، جو2018 میں مرتب ہوئی، اس میں بھی نہیں اور اس سے2سال قبل جو عالمی فہرست بنی تھی، اس میں بھی نہیں - لہٰذا، اس فہرست کے آئینہ میں مغربی ممالک کا وہ مکروہ چہرہ سامنے آتا ہے جہاں نام نہادآزادی کے باوجود عورت کی عزت سب سے زیادہ خطرے میں ہے- اس کے علاوہ اسلامی ممالک کو دقیانوسی، بنیاد پرست، اور دیگر ناموں سے بدنام کئے جانے کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ عورت دنیا میں سب سے زیادہ محفوظ مسلم ممالک میں ہی ہیں -دنیا میں کل195ممالک ہیں - ان میں سے193 ممالک اقوام متحدہ کے اراکین ہیں، 2 ممالک، فلسطین اور ہولی سی کو غیر رکن مشاہدین کا درجہ دیا گیا ہے- اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں 50 مسلم ممالک ہیں، لیکن ان میں سے ایک بھی ملک گزشتہ اور حالیہ فہرست میں شامل نہیں ہوا-البتہ، 7 مغربی ممالک، 2 افریقی ممالک اور ایک ایشیائی ملک (ہندوستان) اس فہرست میں شامل رہے ہیں -گذشتہ فہرست میں ہندوستان چوتھے نمبر پر تھا- نئی فہرست میں پانچویں مقام پر ہے-

رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر20 منٹ میں ایک ریپ کیس ہوتا ہے اور ایک عورت کی عزت لوٹی جاتی ہے- اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جس ملک میں وطن کو ماتا کہا جاتا ہے، بھارت ماتا کی جئے کے نعرہ لگائے جاتے ہیں، گائے کو بھی ماتا کہا جاتا ہے، گؤ ماتا کی بھی عزت کی جاتی ہے، لیکن یہاں کسی بھی انسان کی ماں، بہن بیٹی کی عزت محفوظ نہیں، دنیا کے 10 بدنام ممالک میں ہمارا ملک پانچویں نمبر پر ہے، اور ہمارے ملک میں ہر20منٹ میں ایک عورت کی عصمت دری ہوتی ہے، تو کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارے ملک میں گائے محفوظ ہے، لیکن عورت محفوظ نہیں؟2013کے اعداد و شمار سے پتہ چلا کہ ہمارے ملک کی راجدھانی دہلی ہی میں عورتوں کے خلاف جنسی حملہ سب سے زیادہ ہوئے-ریپ کیس میں دہلی کا اول نمبر رہا- دہلی کے بعد دوسرے نمبر پر اس بدنام فہرست میں ملک کی معاشی راجدھانی ممبئی کا نمبرآیا-اس کے بعد جئے پور اور پونے نے جگہ پائی-گائے کو ماتا ماننے والے ہمارے دیش میں روازانہ93عورتوں کی عزت لوٹی جاتی ہے- مجرموں میں 94 فیصد لوگ متاثرہ کو جاننے والے پائے گئے - ٹائمس آف آنڈیا کی رپورٹ کے حوالے سے یہ کہا گیا کہ دنیا کے دیگر بدنام ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی عصمت دری یا جنسی تشدد کے زیادہ تر کیس پولیس میں رپورٹ ہی نہیں کئے جاتے ہیں -ایک ماہر مدیہہ کارک کا کہنا ہے کہ صرف46 فیصد جنسی کیسوں کی شکایت پولیس میں کی جاتی ہے جب کہ ایک دوسرے ایکسپرٹ مہر سریواستو کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں جنسی زیادتی، عصمت دری کے 90فیصد کیس پولیس تک نہیں پہنچ پاتے ہیں -اس رپورٹ میں بھی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ جن ممالک کو ترقی یافتہ اور مغربی ممالک کہا جاتا ہے، انہی ممالک میں عصمت دری کی شرح بھی زیادہ کیوں ہے؟یہ بات عالمی رپورٹ سے ظاہر ہوئی ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ عورتوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ممالک ہیں جہاں عورتوں کی عزت محفوظ نہیں ہے، ان ممالک میں ہی عصمت دری کے واقعات بہت زیادہ ہو رہے ہیں -امریکہ میں 12 تا16سال کی کم عمر لڑکیوں میں 83فیصد کو پبلک اسکولوں میں جنسی تشدد اور جنسی حملوں کا سامنا کرنا پڑا-برطانیہ میں ہر 5 عورتوں میں سے (عمر16تا59سال) ایک کو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے-

ایک نظر اس پر بھی

سیلاب اور بارش سے کیرالہ، کرناٹک، مہاراشٹر وغیرہ بے حال، اَب دہلی پر منڈلایا خطرہ

ہریانہ کے ہتھنی كنڈ بیراج سے گزشتہ 40 برسوں میں سب سے زیادہ آٹھ لاکھ سے زیادہ کیوسک پانی جمنا میں چھوڑے جانے کے بعد دہلی اور ہریانہ میں دریاکے کنارے کے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اگلے 24 گھنٹے انتہائی سنگین بتائے جا رہے ہیں۔