میں نے اپنی جائیداد فروخت کرکے منصورخان سے رقم لی: ضمیراحمد کا بیان، کہا؛ ”حکومت عوام کا ایک ایک پیسہ واپس دلائے گی“

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th June 2019, 10:49 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،13؍جون(ایس او نیوز) ریاستی وزیر بی زیڈ ضمیراحمدخان نے آج تردید کی ہے کہ انہوں نے آئی ایم کے منیجنگ ڈائرکٹر محمد منصورخان سے 5کروڑ روپئے کا قرض لیا تھا- جہاں وکاس سودھا میں اپنے دفتر میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دراصل انہوں نے 2017 میں شہرکے رچمنڈ ٹاؤن میں 14,800 اسکوائرفٹ پر مشتمل ان کی زمین منصورخان کو 14کروڑ 38 لاکھ روپئے کے عوض فروخت کی تھی- 5کروڑ روپئے آرٹی جی ایس کے ذریعہ اڈوانس میں لئے تھے -مئی 2018 میں اس زمین کے رجسٹریشن کے وقت بقیہ رقم 9کروڑ 38 لاکھ روپئے ڈی ڈی کی شکل میں لئے تھے- انکم ٹیکس رٹرن میں بھی یہ تفصیل درج ہے -اس کی تمام دستاویزات بھی وزیرموصوف نے میڈیا کو جاری کی ہیں -

ضمیر احمد خان نے کہا کہ چند میڈیا والوں کا یہ الزام غلط اوربے بنیاد ہے کہ انہوں نے 2کروڑ روپئے مالیت کی زمین آئی ایم اے کو 5کروڑ روپئے میں فروخت کی-انہوں نے بتایا کہ منصورخان سے پہلی بار ان کی ملاقات اس وقت ہوئی تھی -اس کے بعد مزید تین مرتبہ ملاقات ہوئی ہے - میڈیا والوں کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے ضمیراحمد خان نے کہاکہ حال ہی میں ماہ رمضان میں جب انہیں پتہ چلاکہ آئی ایم اے سرمایہ کاروں کو منافع نہیں دے رہی ہے تو خود انہوں نے آئی ایم اے جیولس شاپ جاکر منصورخان کو انتباہ کیا تھا -اس وقت انہوں نے معذرت چاہی کہ لوک سبھا انتخابات کی وجہ سے بہت بڑی رقم پھنسی ہوئی ہے - انہوں نے زیورات کا اسٹاک بھی دکھایا اور یقین دلایا کہ عیدالفطر کے بعد وہ ڈپازیٹرس کا منافع کلیر کردیں گے -دیگر لوگوں کی طرح میں نے بھی ان پر اعتماد کیا - اب فی الحال ایس آئی ٹی جانچ کا حکم دیا گیا ہے -منصورخان کی کئی جائیدادوں کا بھی پتہ لگایا گیا ہے - یہ سب فروخت کرکے سرمایہ کاروں کی رقم واپس کرنے کا انتظام کیا جائے گا- سرمایہ کاروں کو پریشان یا خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں -

روشن بیگ ہمارے قائد:روشن بیگ سے متعلق انہوں نے کہاکہ وہ ہمارے قائد ہیں ان پر جو الزام لگایا گیا ہے وہ ابھی ثابت نہیں ہوا ہے،جانچ چل رہی ہے- جانچ میں سچائی سامنے آئے گی- اخباری کانفرنس کے دوران سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں ایک خادم ہوں خدمت کرنے آیا ہوں - میں نے پچھلے دوسالوں میں صرف چار مرتبہ منصورخان سے ملاقات کی ہے - ان سے پوچھا گیا کہ پچھلے دنوں چند پونزی کمپنیوں نے جن میں امبیڈنٹ،اعلیٰ، اجمیرہ اور انجاز بھی شامل ہیں عوام کو کروڑوں روپئے کا دھوکہ دیا تھا تو آپ چپ رہے اب اچانک آئی ایم اے کے دھوکہ میں سرگرم کیوں ہوگئے ہیں؟اس پر انہوں نے کہاکہ اس وقت ڈپازیٹرس سڑکوں پر نہیں آئے تھے اور نہ ہی کسی نے شکایت کی تھی- ایک دھوکہ باز منصورخان کی واپسی کیلئے آپ منت اور سماجت کیوں کررہے ہیں؟کیا وزیراعظم نریندرمودی وجئے ملیا سے بھی واپس آنے کیلئے آپ کی طرح منت کریں؟ اس پر وزیرموصوف نے کہاکہ وجئے ملیا کا معاملہ الگ اور آئی ایم اے کا الگ ہے -منصور خان غریب عوام کی رقم لے کر فرار ہوگیا ہے -ان کی واپسی سے غریب سرمایہ کاروں کا معاملہ حل ہوسکتا ہے تو انہیں درخواست اور منت کرنے میں کوئی حرج نہیں - منصورخان کہاں چھپا ہوا ہے اگر پتہ چلے تو وہ خود پولیس کے ساتھ جاکر اسے پکڑ کر لائیں گے - اطلاع ملی ہے کہ منصورخان 8جون کو دوبئی روانہ ہوچکا ہے اور وہاں سے کہاں گیا ہے اس کا ابھی پتہ نہیں چلا- آئی ایم اے کے متاثرین سے انہوں نے کہا کہ اس کمپنی میں اپنے خون پسینے کی گاڑھی کمائی لگاکر آپ نے بہت بڑی غلطی کی ہے - اب آپ کوئی غلط قدم اٹھاکر دوسری غلطی نہ کریں - ریاستی حکومت یہ پوری کوشش کرے گی کہ آپ کی رقم واپس مل جائے اس کے لئے وقت درکار ہے -ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے میڈیا والوں سے پوچھاکہ آئی ایم اے نے مختلف ٹی وی چینلوں کو کروڑوں روپئے کے اشتہارات جاری کئے تھے تب چینلوں کو کیوں خیال نہیں آیا کہ آئی ایم اے کی حقیقت کیا ہے؟

ایک نظر اس پر بھی

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی مدد کے لئے اے پی سی آر کی خدمات دستیاب

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی رہنمائی اور اُن کی  مدد کے لئے  اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس  (اے پی سی آر)  کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہے۔جن  لوگوں نے  اپنی چھوٹی چھوٹی سرمایہ  کاری  اس کمپنی میں کی تھی اور اب وہ کنگال ہوچکے ہیں، اے پی ...

جندال اسٹیل کمپنی معاملہ سے متعلق حکومت نے سب کمیٹی تشکیل دی، کے پی سی سی سے استعفیٰ دینے کی خبرو ں میں کوئی سچائی نہیں: دنیش گنڈو راؤ

پردیش کانگریس کمیٹی(کے پی سی سی) صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہا کہ جندال کمپنی کے لئے زمین فروخت کرنے کے معاملہ میں ریاستی حکومت نے سب کمیٹی تشکیل دی ہے۔

آئی ایم اے معاملہ میں نرم رویہ اختیار کرنے کاسوال پیدا نہیں ہوتا: ضمیر احمد خان

آئی مانیٹری اڈوائزری (آئی ایم اے) نامی پونزی کمپنی کے دھوکہ دہی معاملہ میں نرم رویہ اختیار کئے جانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔اس پس منظر میں بی جے پی کی جانب سے عائد کئے جارہے الزامات بکواس ہیں۔