’ٹائم‘ میگزین نے مودی کو ’ہندوستان کا تقسیم کرنے والا رہنما‘ قرار دیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th May 2019, 11:18 AM | ملکی خبریں | عالمی خبریں |

نئی دہلی/نیویارک،11/مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) اس سال کے عام انتخابات کے آخری دو مرحلے کی ووٹنگ باقی ہے، لیکن برسراقتدار بی جے پی اور پی ایم نریندر مودی نے شاید ایک بار بھی اپنے 5 سال کے دور کی بنیاد پر لوگوں سے ووٹ نہیں مانگے ہیں۔ بی جے پی اور مودی کی تقریروں کا ماخذ اپوزیشن اور خاص طور سے کانگریس کو نشانہ بنانا ہی رہا ہے۔ ایسے وقت میں بین الاقوامی ٹائم میگزین نے اپنے تازہ شمارہ میں پی ایم مودی اور ان کے پانچ سال کے دور اقتدار کا آڈٹ پیش کرتے ہوئے کور اسٹوری شائع کی ہے۔میگزین نے اپنے 20 مئی کے شمارے میں سرورق پر پی ایم مودی کی تصویر کے ساتھ ہیڈلائن میں لکھا ہے ’انڈیاز ڈیوائیڈر اِن چیف‘، یعنی ہندوستان کو تقسیم کرنے والا اہم شخص۔ کور اسٹوری میں موجودہ لوک سبھا انتخاب کا جوڑ گھٹا اور مودی حکومت کے 5 سال کی تفصیل پیش کی ہے۔ اندر جو کور اسٹوری ہے اس کا عنوان ہے ’کین دی ورلڈس لارجیسٹ ڈیموکریسی انڈیور اَنَدر فائیو ائیرس آف مودی گورنمنٹ؟‘ یعنی کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مودی حکومت کے مزید پانچ سال برداشت کر پائے گی؟’ٹائم‘ میگزین کے اپنے ایشیا ایڈیشن میں شائع اس کور اسٹوری میں پی ایم نریندر مودی کے کام پر سخت تنقیدی تبصرہ کیا ہے۔ میگزین نے مضمون میں پنڈت جواہر لال نہرو کے سماجواد اور ہندوستان کی موجودہ سماجی حالت کا موازنہ کیا ہے۔ اس کور اسٹوری کو آتش تاثیر نے لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”نریندر مودی نے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے کے جذبہ کو بڑھانے سے متعلق کوئی خواہش ظاہر نہیں کی۔“مضمون میں مزید لکھا گیا ہے کہ ”نریندر مودی نے اپنی تقریروں اور بیانوں میں ہندوستان کی عظیم شخصیتوں پر سیاسی حملے کئے، جن میں نہرو تک شامل ہیں۔ وہ ’کانگریس مْکت‘ ہندوستان کی بات کرتے ہیں، انھوں نے کبھی بھی ہندو۔مسلم کے درمیان بھائی چارے کے جذبہ کو مضبوط کرنے کے لئے کوئی خواہش ظاہر نہیں کی۔“ آگے لکھا گیا ہے کہ ”نریندر مودی کا اقتدار میں آنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان میں جس لبرل کلچر کا تذکرہ مبینہ طور پر کیا جاتا تھا، وہاں دراصل مذہبی راشٹرواد، مسلمانوں کے خلاف جذبات اور ذات پر مبنی شدت پسندی پنپ رہی تھی۔“’ٹائم‘ میگزین کی اس اسٹوری میں 1984 سکھ فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات کا بھی تذکرہ ہے۔ کہا گیا ہے کہ کانگریس کی قیادت بھی 1984 کے فسادات کو لے کر الزام سے آزاد نہیں ہے، لیکن پھر بھی اس نے فسادات کے دوران پرتشدد بھیڑ کو خود سے الگ رکھا، لیکن نریندر مودی 2002 کے فسادات کے دوران اپنی خاموشی سے ’فسادیوں کے لئے دوست‘ ثابت ہوئے۔کور اسٹوری میں آگے بتایا گیا ہے کہ ”2014 میں لوگوں کے درمیان پنپ رہے غصے کو نریندر مودی نے معاشی وعدے میں بدل دیا تھا۔ انھوں نے ملازمت اور ترقی کی بات کی، لیکن اب یہ یقین کرنا مشکل لگتا ہے کہ یہ امیدوں کا انتخاب تھا۔“ اس اسٹوری میں آتش تاثیر آگے کہتے ہیں کہ ”مودی کے ذریعہ معاشی چمتکار لانے کا وعدہ فیل ہو چکا ہے۔ یہی نہیں، انھوں نے ملک میں زہریلا مذہبی نیشنلزم کا ماحول تیار کرنے میں ضرور مدد کی ہے“۔ اسٹوری میں موب لنچنگ اور گؤ رکشکوں کے ہاتھوں کئے گئے تشدد کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ کور اسٹوری بتاتی ہے کہ ”گائے کو لے کر مسلمانوں پر بار بار حملے ہوئے اور انھیں مارا گیا۔ ایک بھی ایسا مہینہ نہیں گزرا جب لوگوں کے اسمارٹ فون پر وہ تصویریں نہ آئی ہوں جس میں ناراض ہندو بھیڑ ایک مسلم کو پیٹ نہ رہی ہو“۔’ٹائم‘ میگزین نے اپنی کور اسٹوری میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ اسٹوری میں لکھا گیا ہے کہ ”2017 میں اتر پردیش میں جب بی جے پی الیکشن جیتی تو بھگوا پہننے اور نفرت پھیلانے والے ایک مہنت کو وزیر اعلیٰ بنا دیا۔“غور طلب ہے کہ یہ وہی ’ٹائم‘ میگزین ہے جس نے 15-2014 میں نریندر مودی کو دنیا کے 100 بااثر لوگوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

گڑگاوں میں مسلم نوجوان سے کہا گیا : اس علاقہ میں ٹوپی پہن کر آنا منع ہے ، جے شری رام نہیں کہنے پر مار پیٹ

رمضان میں دیررات مسجدوں میں تراویح کی نماز پڑھی جاتی ہے ۔ بہار کے بیگوسرائے کا رہنے والا برکت عالم بھی اتوار کی رات صدر بازار گروگرام کی جامع مسجد سے تراویح کی نماز پڑھ کر لوٹ رہا تھا ۔ برکت کا کہنا ہے کہ اسی دوران ایک بائیک پر آئے چار نوجوان اور وہاں سے پیدل گزر رہے دو دیگر ...

لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی شکست کے بعد،ایم پی کے سی ایم کمل ناتھ نے کی استعفیٰ کی پیشکش

 وزیر اعظم نریندر مودی کی لہر کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا انتخابات میں مدھیہ پردیش کی کل 29 سیٹوں میں سے 28 سیٹ پر قبضہ کر کے تاریخی جیت درج کی ہے، جبکہ کانگریس صرف ایک سیٹ چھندواڑہ پر ہی محدود رہ گئی۔

مودی30؍مئی کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیں گے

نریندرمودی 30مئی کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیں گے۔ان کے ساتھ مرکزی وزارتی کونسل کے ارکان بھی حلف لیں گے۔راشٹر پتی بھون کے مطابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند 30مئی کو شام 7بجے راشٹر پتی بھون میں منعقد ہونے والی تقریب میں مودی اور وزارتی کونسل میں ان کے رفقا کو حلف دلائیں گے۔

سری لنکا: مسلم مخالف فسادات میں ایک شخص ہلاک، مساجد کو نقصان

حکومتی وزیر رؤف حکیم کے مطابق مسلم مخالف فسادات میں ایک مسلمان ہلاک ہو گیا ہے جبکہ مسلمانوں کی املاک کو بھی نذر آتش کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ رؤف حکیم کا تعلق مسلم کانگریس نامی سیاسی جماعت سے ہے۔ یہ سیاسی پارٹی حکومتی اتحاد میں شامل ہے۔ حکیم کے مطابق مشتعل افراد نے پیر تیرہ ...