ہسٹری شیٹر وکاس دوبے کی مدد کرنے کے الزام میں 2 خواتین سمیت 3 گرفتار

Source: S.O. News Service | Published on 7th July 2020, 9:35 PM | ملکی خبریں |

کانپور،7؍جولائی(ایس او نیوز؍یو این آئی) اترپردیش کے ضلع کانپور کے چوبے پور علاقے میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں پولیس نے دیر رات دو خواتین سمیت 3 افرد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس ذرائع نے یہاں بتایا کہ بیکرو گاؤں میں ہشٹری شیٹر وکاس دوبے اور اس کے ساتھیوں نے جمعرات کی دیر رات پولیس ٹیم پر اس وقت حملہ کردیا تھا جب وہ وکاس دوبے کو گرفتار کرنے گئی تھی۔ پولیس نے اس معاملے میں بیکرو گاؤں میں وکاس کے پڑوسی سریش ورما، رشتہ دار چھما اور نوکرانی ریکھا اگنی ہوتری پر 120 بی کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جانچ میں پتا چلا ہے کہ واردات کی رات پڑوسی سریش ورما ملزم وکاس دوبے و اس کے ساتھیوں کی جانب سے پولیس پر کی گئی فائرنگ کے دوران ان کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔ اور چلا چلا کر بدمعاشوں سے کہہ رہا تھا کہ آج کوئی بچ کر نہ جائے۔ پولیس والے اپنی جان بچانے کے لئے چھپ رہے تھے تو ان کی جانکاری بدمعاشوں کو دے رہا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ وکاس دوبے کی رشتہ دار چھما پر الزام ہے کہ جس وقت پولیس ٹیم پر فائرنگ چل رہی تھی اس وقت کچھ پولیس والے اپنی جان بچانے کے لئے ان کے مکان میں پناہ لینا چاہ رہے تھے لیکن چھما کی جانب سے اپنے مکان کا دروازہ نہیں کھولا۔ اور بدمعاشوں کو گھر کے باہر پولیس کے ہونے کی جانکاری دی تھی جبکہ ریکھا گرفتار کیے گئے ملزم دیا شنکر عرف کلو کی بیوی ہے اور وہ وکاس دوبے کے گھر میں کام کرتی ہے۔

الزام ہے کہ ریکھا نے ہی پولیس والوں کے آنے کی اطلاع وکاس دوبے کو دی تھی ساتھ ہی جان بچانے کے لئے دیوار کی آڑ میں چھپے چھ پولیس اہلکار کی جانکاری بھی ریکھا نے ہی بدمعاشوں کو دی تھی۔ اور بدمعاشوں نے گولیاں برسا کر ان کا قتل کردیا۔ تھانہ انچارج کرشنا موہن رائے چوبے پور نے بتایا کہ سبھی ملزمین کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے اس سے پہلے وکاس کے دو ساتھیوں کو مڈھ بھیڑ میں ہلاک کردیا تھا۔ جبکہ نوکر دیا شنکر کو واردات کے اگلے دن گرفتار کرلیا تھا۔ حالانکہ کلیدی ملزم وکاس چار دن کے بعد بھی پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

رائل سیما لفٹ اریگیشن پروجیکٹ: آندھرا کے خلاف تلنگانہ حکومت پہنچی سپریم کورٹ

 تلنگانہ حکومت اے پی حکومت کے رائل سیما لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی۔ حکومت نے عدالت عظمی سے خواہش کی کہ وہ اس پروجیکٹ کے احکام منسوخ کرے اور ٹنڈر کے عمل کو بھی روکا جائے۔

جموں۔کشمیرمیں آرٹیکل 370 کے خاتمہ کا ایک سال مکمل، ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نےاحتیاطی طور پرحکم امتناعی نافذ کی

گزشتہ سال 5 اگست کو جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام کرنے اور دیگر کئی اہم اقدامات نفاذ کرنے کےحکومت کے فیصلےکو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے وادی کشمیر میں احتیاطی طور پرحکم امتناعی نافذ کردی ہے۔ تاہم ممبئی میں مقیم کشمیری طالب علم ...

کشمیر میں دوسرے روز بھی کرفیو جیسی پابندیاں

انتظامیہ کی جانب سے کرفیو ہٹائے جانے کے اعلان کے برعکس وادی کشمیر بالخصوص ضلع سری نگر کے تمام علاقوں میں بدھ کے روز بھی سخت ترین پابندیاں عائد رہیں اور سڑکوں پر سیکورٹی فورسز اور ان کی گاڑیوں کے سوا کوئی نظر نہیں آیا۔