کشمیر میں ’ای بزنس‘ ٹھپ ہونے کے باعث سینکڑوں نوجوان روزی روٹی سے محروم

Source: S.O. News Service | Published on 12th October 2019, 10:56 AM | ملکی خبریں |

سری نگر، 12؍اکتوبر (ایس او نیوز؍یو این آئی) وادی کشمیر میں مواصلاتی نظام پر جاری پابندی کے باعث ای کامرس تجارت ٹھپ ہونے سے سینکڑوں نوجوان روزی روٹی سے محروم ہوگئے ہیں۔

بتادیں کہ ای کامرس سے متعلق ویب سائٹس جیسے ایمزوں، فلپ کارٹ، منترا وغیرہ پانچ اگست سے انٹرنیٹ پر عائد پابندی کی وجہ سے لگاتار بند ہیں جس کے نتیجے میں اس تجارت کے ساتھ وابستہ سینکڑوں لوگ بے روزگار بھی ہوگئے ہیں اور انٹرنیٹ کی بحالی کی کوئی صورت نظر نہ آنے کے باعث مختلف ذہنی بیماریوں کے شکار بھی ہورہے ہیں۔سرور احمد نامی ایک نوجوان نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ میں فلپ کارٹ کے ساتھ کام کرکے روزی روٹی کماتا تھا لیکن گزشتہ دوماہ سے بے کار ہوں۔

انہوں نے کہا: 'میں فلپ کارٹ کے ساتھ کام کرکے اپنی روزی کماتا تھا جس سے مجھے اپنا خرچہ بھی نکلتا تھا اور گھر کا خرچہ بھی لیکن دو ماہ سے یہاں انٹرنیٹ لگاتار بند ہے لہٰذا ہمارا کام بھی بند ہے کیونکہ ہمارا کام انٹرنیٹ پر ہی منحصر ہے، میں گزشتہ دوماہ سے گھر میں بیٹھا ہوں، بالکل بے روزگار ہوں'۔

مشتاق احمد نامی ایک نوجوان جو ای کامرس کے ساتھ وابستہ ہے، نے کہا کہ ہمارا کام بند ہونے سے ہمارا روزگار بند ہوا ہے۔ انہوں نے کہا: 'انٹرنیٹ بند ہونے سے ہمارا کام بھی بند ہوگیا ہے اور ہم فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، ہمارا نہ ہی کمپنی والوں کے ساتھ رابطہ ہے اور نہ ہی گاہکوں کے ساتھ کوئی رابطہ ہے، رابطہ منقطع ہونے سے ہمارا روزگار بھی منقطع ہوا ہے'۔

مشتاق احمد نے کہا کہ اگر اب یہاں کوئی کہیں سے انٹرنیٹ کے ذریعے ای کامرس کے واسطے کوئی چیز خریدتا بھی ہے تو پتہ جموں میں مقیم کسی رشتہ دار کا دیتا ہے اور پھر وہیں سے اس چیز کو لاتا ہے۔ محمد حسین نامی ایک نوجوان نے کہا کہ ای کامرس کے ذریعے میں نے کئی کتابیں خریدی لیکن انٹرنیٹ بند ہونے سے نہ ان سائٹوں پر دستیاب کتابوں کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی ہم خرید سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا: 'میں نے ای کامرس کے ذریعے کئی کتابیں نہ صرف متعبر قیمتوں پر خریدی بلکہ وہ کتابیں یہاں مارکیٹ میں نایاب بھی تھیں، مجھے مزید کتابیں خریدنی تھیں لیکن انٹرنیٹ کی نایابی کے باعث نہ ہی مجھے یہ معلوم ہورہا ہے کہ آیا وہ دستیاب بھی ہیں یا نہیں اور نہ ہی خرید سکتا ہوں کیونکہ پھر یہاں ان سائٹوں کے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ رابطہ ہی نہیں ہوگا'۔

محمد حسین نے کہا کہ میں نے ایک اہم کتاب منگوائی تھی لیکن پھر پانچ اگست کو جب انٹرنیٹ بند ہوا تو یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ وہ کتاب یہاں پہنچی بھی تھی یا نہیں۔ وادی میں مواصلاتی نظام پر جاری مکمل پابندی کے باعث اہلیان وادی 'ایمزون' اور 'فلپ کارٹ' کی ای کامرس کی فیسٹول سیلوں سے مستفید ہونے سے محروم رہ گئے ہیں۔

مواصلاتی نظام پر جاری پابندی پر اظہار مایوسی ورنج کرتے ہوئے اہلیان وادی نے کہا کہ انٹرنیٹ پر جاری پابندی کی وجہ سے وہ ان ای کامرس سائٹوں سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ قابل ذکر ہے وادی میں پانچ اگست سے مواصلاتی نظام پر جاری مکمل پابندی کے باعث لوگوں کو گوناں گوں مشکلات ومسائل درپیش ہیں، طلبا، تجار وغیرہ کے مشکلات ہر گزرتے دن کے ساتھ دو بھر ہو رہے ہیں اگرچہ انتظامیہ نے لینڈ لائن سروس کوبحال کیا ہے لیکن اس سے لوگوں کو درپیش مشکلات ومسائل میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹکا اسمبلی کے سابق باغی اراکین کی نااہلیت برقرار۔ لیکن انتخاب لڑ نے پر نہیں ہوگی پابندی۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ

سابقہ اسمبلی میں جن 17 کانگریس اور جے ڈی ایس اراکین نے بغاوت کی تھی، انہیں سپریم کورٹ سے تھوڑی سے راحت ملی ہے جس کا اثر ریاستی بی جے پی حکومت پر بھی پڑنے والا ہے۔

ایودھیا معاملہ سے منسلک وہ شخصیات، جن کےکام کی وفاداری مذہب پربھاری ثابت ہوئی

سپریم کورٹ کے فیصلےکے بعد ایودھیا معاملے(مندر- مسجد تنازعہ) کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ 135 سال پہلے1885 میں شروع ہوئےایودھیا تنازعہ کی قانونی لڑائی میں کچھ کردارایسے رہے ہیں، جنہیں ان کی ڈیوٹی کے فرائض کولےکرہمیشہ یاد رکھا جائےگا،

مہاراشٹر: کانگریس - این سی پی نےصدر راج کوغیرضروری بتایا، مودی حکومت پرعائد کیا بڑا الزام

  کا نگریس اور این سی پی نے آج یہاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مرکزی حکومت پر بڑا الزام عائد کرتے ہوئے مہاراشٹرمیں صدرراج کوغیرضروری قرار دیتے ہوئےاسے جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ قراردیاہے۔ دونوں جماعتوں نے یہ بھی کہا کہ  شیوسینا کے ساتھ سمجھوتہ پرابھی غورنہیں ...

اسدالدین اویسی نےکہا- بابری مسجد کے لئے پانچ ایکڑ زمین کے حق میں نہیں ہے مجلس اتحاد المسلمین

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدراوررکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے منگل کو کہا کہ ان کی پارٹی ایودھیا معاملے پرسپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ایک مسجد کی تعمیر کے لئے دی جانے والی پانچ ایکڑ کی اراضی کے حق میں نہیں ہے

نمونیا ایک ایسا مرض، جس کا علاج موجود، پھر بھی مہلک ترین مرض؛ ایک سال میں آٹھ لاکھ بچے جاں بحق

عالمی ادارہ صحت نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق نمونیا کے مرض میں مبتلا ہو کر گزشتہ برس آٹھ لاکھ شیر خوار اور کم عمر بچے ہلاک ہوئے۔ پاکستان، نائجیریا، بھارت، جمہوریہ کانگو اور ایتھوپیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں نمونیا کے باعث ہلاک ہونے بچوں کی تعداد تقریباً چار ...