مسلمانوں، اور کمزور طبقات کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کرنے کی کوشش، قوانین شہریت پر ممتاز دانشور و صحافی ظہیر علی خان کی تنقید؛ شاہین باغ گلبرگہ کے احتجاجی جلسہ میں ہزاروں مرد و خواتین کی شرکت

Source: S.O. News Service | Published on 16th February 2020, 1:04 PM | ریاستی خبریں |

 گلبرگہ، 16/فروری (ایس او نیوز) ریاست آسام میں 18لاکھ لوگوں کو فہرست رائے دہندگان سے باہر کردیا گیا ہے ان میں سے 4لاکھ 10ہزار مسلمان ہیں جب کہ مابقی 15لاکھ ہندو بھائی ہیں۔ لیکن ان 15لاکھ ہندوؤں میں سے تمام کے تمام اقوام درج فہرست، قبائل درج فہرست اور نہایت غریب قسم کے ہندو لوگ ہیں۔  18لاکھ کی فہرست میں اعلیٰ ذات کے ہندو شامل نہیں ہیں۔اس طرح  مسلمانوں اور دیگر کمزور و غریب طبقات کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز دانشور و منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست جنابظہیر  الدین خان نے 13فبروری کو گلبرگہ میں قائم کردہ شاہین باغ، رنگ روڈ میں منعقدہ جائینٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے منعقدہ مرد و خواتین کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس جلسہ میں ہزاروں خواتین نے  شرکت کی۔ جناب ظہیر علی خان نے کہا کہہمیں جینا یہیں ہے اور مرنایہیں ہے، ہماری قبریں بھی ہندوستان کی زمین پر ہی ہیں، لہٰذا اگر ہم سب مل کر کام کریں تو اس حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے اور ہم سب کامیاب ہو جائیں گے۔ جناب ظہیر علی خان کے ساتھ انڈیا بیت المال۔ گلبرگ کے سیکریٹری اور مسلم و غیر مسلم خواتین بھی اسٹیج پر موجود تھیں۔ 

واضح رہے کہ شہر گلبرگہ کی رنگ روڈ پر واقع شاداب فنکشن ہال کے قریب شہریان گلبرگہ کے 50تا 100اہم سماجی خدمت گزاران،  محبان ملت، سیاسی،سماجی و مذہبی قائیدین نے  سی اے اے، این آر سی اور پی این آ ر کے نفاذ کے خلاف شاہین باغ، گلبرگہ کا قیام عمل میں لایا ہے۔ مذکورہ بالا قوانین کے خلاف احتجاج کے لئے مرکز و ریاست کرناٹک میں جو جائینٹ ایکشن کمیٹی  تشکیل دی گئی ہے، گلبرگہ میں بھی اس کی ضلعی شاخ میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے مشترکہ طور پر احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اس احتجاج میں خواتین روزانہ ہزاروں کی  تعداد میں شامل ہورہی ہیں۔  شاہین باغ گلبرگہ میں خواتین کے احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری ہے۔ ہر روز مختلف مرد و خاتون مقررین مذکورہ بالا قوانین کے سبب عوام میں پھیلی ہوئی دہشت اوربے چینی کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ شہریت سے متعلق منظورہ قوانین کا نفاذ عمل میں نہ لایا جائے اور اس معاملہ میں ایسے قابل قبول قوانین مرتب کئے جائیں جو بلا لحاظ مذہب و ملت ملک کے سارے عوام کے لئے قابل قبول ہوں اوریہ قوانین دستور ہند کے بھی منافی نہ ہوں۔  شان باغ گلبرگہ کا یہ احتجاج جو ایک ہفتہ سے جاری ہے اس میں مزید توسیع کے امکانات بھی ہیں۔ گزشہ دنوں محترمہ کنیز فاطمہ رکن اسمبلی گلبرگہ شمال، حضرت سید ثاقبؓ حسینی فرزند جناب سید عارف حسینی صاحب برادر سجادہ نشین درگاہ بندہ نواز ؒ اور مختلف خواتین نے بھی روزانہ کے احتجاجی جلسوں سے خطاب کیا۔ جلسہ کے منتظمین کے بیان کے بموجب بڑے مقررین مسرزوامن مشرم، ششی کانت سابق آئی اے ایس آفیسر، و دیگر کو بھی ان احتجاجی جلسوں سے خطاب کرنے کی دعوت دی جارہی ہے۔ 

شاہین باغ گلبرگہ میں روزانہ ایک ہفتہ سے جو احتجاجی جلسے منعقد ہورہے ہیں ان میں ممتاز سماجی قائیدین سید شاہ حکیم وظیفہ یاب آفیسر ایر فورس، ریاض مبین، شاہ نواز خان شاہین، علیم احمد ریاض خطیب، انجنئیر سید نئیرخورشید،، سلیم احمد، الحاج الیاس سیٹھ باغبان، انجنئیر افضال احمد محمود، حضرت عبدالحکیم اشرفی خطیب گلبرگہ، ہارون رشید خرادی، ظہیر اقبال تماپوری،، ڈاکٹر اکرام الدین باگ، یونس خان قریشی، طاہر حسین، رحیم پٹیل، اعجاز علی، سراج احمد، فتح محمد رضوان، فضل تماپوری، مولانا محمد نوح، سجاد حسین، محترمہ ڈاکٹر سیما، ڈاکٹر رئیسہ فاطمہ، ثریا شاہین صدیقی، انجنئیر عظمہ فاطمہ، اجمیرہ بابی فرسٹ کمرشئیل لیڈی پائیلیٹ آفیسر آف انڈیا ، سجاد حسین مانیال، فاروق احمد ایلپار، نذر محمد خان، یونس خان کے ٹی ایس، منا دھارواڑ، ڈاکٹر غلام ربانی الشارع کالج، مولانا عبدالواحدرشادی، ڈاکٹر حبیب الرحمٰں ن، ذاکر حسین،ضیا اللہ، عظیم الدین ایڈوکیٹ، افضل انصاری، نجم الاسلام احمر، عبدالر حیم پٹیل، محمد محسن، محمد سراج، ریاض خطیب، اعجاز احمد، اعجاز مصور،، طلحہ حسین، منان خان، قاضی رضوان الرحمٰن صدیقی مشہود، عبدالرحیم مرچی سیٹھ، اسد علی انصاری،، امتیاز صدیقی،محترمہ  جویریہ آفرین، ڈاکٹر عارفہ،، مولانا شریف احمد مظہری، منہاج الدین جعفر شاہ اور دیگر کئی ایک اہم  مذہبی،سماجی، سیاسی قائیدین اور جہد کاروں نے شرکت کی ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

ساحلی کرناٹکا میں رُکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں کورونا معاملات؛ مینگلور میں دو دنوں میں 28 اور اُڈپی میں 23 معاملات؛ آج اُترکنڑا میں بھی پانچ پوزیٹو

مہاراشٹرا سے واپس آنے والوں میں  جس طرح کرناٹک کے دیگر اضلاع میں کورونا کے معاملات میں  تشویشناک حدتک اضافہ دیکھنے میں آرہاہے، اُسی طرح  ساحلی کرناٹکا کے اضلاع  اُترکنڑا، اُڈپی اور دکشن  کنڑا میں بھی کورونا کے معاملات میں روز بروز اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

ریاستی بی جے پی حکومت میں میں بغاوت کے آثار، سرگرمیاں تیز ؛ جگدیش شٹر یا پرہلاجوشی کو وزیر اعلیٰ بنانے دو مختلف دھڑوں کی لابی

بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی ) میں دل بدلی کر کے آنے والوں سے پارٹی کے بنیادی ورکرس اور قائدین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، جس کی وجہ سے حکومت پھر ایک مرتبہ ڈانواں ڈول نظر آرہی ہے ۔ یہ بات کے پی سی سی کے کارگزار صدر شیش جارکی ہولی نے کہی۔

مرکزی اور ریاستی بی جے پی حکومتیں کورونا وائرس سے نپٹنے میں ناکام ؛ رام مندر سپریم کورٹ کے فیصلہ سے بن رہا ہے ، مودی اپنے سر سہرانہ بنادھیں : کانگریس

کرناٹک میں کانگریس نے کہا ہے کہ اس ملک کو ترقی کی راہ پر لانے کے لئے پچھلے 50 سال کے دوران جو محنت ہوئی تھی مودی نے اپنے 6 سالہ دور اقتدار میں اس ساری محنت پر پانی پھیر دیا ہے اور ملک کو انہوں نے اسی مقام پر پہنچا دیا ہے جب ملک کی حیثیت صفر تھی ۔کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار اور ...

کرناٹک میں کورونا وائرس کے 141 نئے کیس ، ایک اور موت ، بنگلورو میں سب سے زیادہ 33 معاملہ، ایک ہی خاندان سے 20 افراد متاثرین میں شامل 

کرناٹک میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی ایک اور خاتون کی موت کے ساتھ ریاست میں اب تک اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 49 تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ 141 نئے متاثرین کی نشاندہی کے ساتھ کرناٹک میں جملہ متاثرین کی تعداد 2922 تک پہنچ گئی ہے۔

25؍جون سے ایس ایس یل سی امتحانات؛ کولار میں وزیر تعلیم سریش کمار نے تیاریوں کا اجلاس طلب کیا

25؍جون سے ایس ایس ایل سی امتحانات منعقدہوں گے اورپوری حفاظت اوراحتیاط کے ساتھ امتحان کی کارروائی مکمل کی جائے گی، یہ بات ریاستی وزیربرائے بنیادی وثانوی تعلیم ایس سریش کمار نے کہی، انہوں نے آج یہاں ضلع پنچایت میٹنگ ہال میں کولار چکبالاپور اضلاع کے افسروں کااجلاس طلب کرکے ایس ...