ملک کے دستور میں زمین اتی کرم کرنے والوں کے مسائل کا حل موجود ہے۔ بھٹکل میں جسٹس ناگ موہن داس کا خطاب

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 13th May 2019, 4:16 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 13/مئی (ایس او نیوز) کرناٹکا ہائی کورٹ کے مؤظف جسٹس ناگ موہن داس نے جنگلاتی زمین اتی کرم کرنے والوں کے حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دستور میں اتی کرم کرنے والوں کے مسائل کاحل موجود ہے۔    

 بھٹکل کے کملاوتی رامناتھ شانبھاگ ہال میں ’جنگلاتی زمین کے حقوق منظوری قانون‘ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے جسٹس ناگ موہن نے کہا کہ ملک میں جنگلاتی زمین کم ہونے کے لئے وہاں پر رہائش اختیار کرنے والے ذمہ دار نہیں ہیں۔سیلاب، آتشزدگی،درختوں کی بیماریاں، معدنیات کے لئے کھدائی، ریلوے ٹریک بچھانا، سڑکوں کی توسیع جیسے معاملات جنگلاتی زمین کھا جاتے ہیں۔ اتی کرم داروں کو ذمہ دار ٹھہرانے والی سرکار ان اسباب پر غور نہیں کررہی ہے۔  جنگلات کی تباہی کے لئے ہمارے کھانے پینے کا انداز بھی ذمہ دار ہے۔اس کے علاوہ محکمہ جنگلات کے افسران اور جنگل لوٹنے والے چوروں کا گٹھ جوڑ بھی جنگلوں کو نقصان پہنچانے کا ایک اہم سبب ہے۔

 ماضی کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب جنگلات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا اندازہ ہوگیا تو انگریزوں نے جنگلات میں گھسنا شروع کیا۔آزادی کے بعد ہندوستانی حکومت نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔ جنگلات کی آمدنی ہی دراصل جنگل واسیوں کے لئے پریشانی کا سبب بن گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں اتی کرم داروں کو اپنے حقوق کا علم ہوناچاہیے۔ اتی کرم داروں کو پورے اتحاد کے ساتھ معاشی اور سیاسی طاقت کا سہارا لے کر اس کے لئے احتجاج جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی 543پارلیمانی سیٹوں میں سے 133سیٹوں پر اتی کرم دار ووٹنگ میں اپنا فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔  انہیں اپنے اس قیمتی حق کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اپنے حقوق کے تحفظ کی کوشش کرنی چاہیے۔ 

 جسٹس ناگ موہن نے کہا کہ ضلع شمالی کینرا اور ساحلی علاقے میں ماہی گیروں کا بہت زیادہ استحصال ہورہا ہے۔محکمہ جنگلات کے افسران سے اتی کرم داروں کو جو نقصان پہنچتا ہے وہ سب انہی افسران سے وصول کیا جانا چاہیے۔

 اتی کرم ہوراٹا سمیتی کے ضلعی صدر رویندرا ناتھ نائک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیش کے جنگل واسی بڑی پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیں۔ اوڑیشہ، چھتیس گڑھ، منی پور، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹرا کے مقابلے میں کرناٹکا کے اتی کرم داروں کی حالت بہت ہی خستہ ہے اور یہاں انہیں انصاف دلانا ممکن نہیں ہورہا ہے۔ اپنے حقوق پانے کے لئے ہمارے لئے عدالت سے انصاف حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہی واحدراستہ ہے۔

 اس موقع پرمجلس اصلاح و تنظیم کے جنرل سیکریٹری مولوی عبدالرقیب ایم جے ندوی نے بھی اظہار خیال کیا۔ ہوراٹا سمیتی بھٹکل تعلقہ صدر راما موگیر نے استقبال کیا۔ اجلاس میں عنایت اللہ شاہ بندری، منجو مراٹھی، دیوراج گونڈا، پانڈو نائک وغیرہ موجود تھے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔

شیوپرکاش دیوراج بنے ضلع شمالی کینرا کے نئے ایس پی۔ ونائیک پاٹل کا کلبرگی تبادلہ۔ بھٹکل سب انسپکٹر کا بھی تبادلہ

ضلع شمالی کینرا کے نئے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر شیوپرکاش دیوراج کو تعینات کیا گیا ہے، جبکہ موجودہ ایس پی ونائیک پاٹل کا تبادلہ کلبرگی کے لئے کردیاگیا ہے۔

مرڈیشور ساحل پر ماہی گیروں اور انتظامیہ افسران کے درمیان پارکنگ جگہ کو لےکر تنازعہ: ماہی گیروں کا احتجاج  

مرڈیشور میں مچھلی شکار پیشہ کے لئے جگہ مختص کرنے اور ماہی گیر کشتیوں کو  محفوظ رکھنے کےلئے جگہ متعین کرنے کے متعلق   ماہی گیروں اور مقامی انتظامیہ کے درمیان پھر ایک بار تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔

بھٹکل محکمہ تحصیل کے عملے  نے   سیاہ پٹی باندھ کرانجام دیں خدمات : ’ بنگلورو چلو ‘احتجاج کی حمایت

کرناٹکا سروئیر،رونیو مینجمنٹ اور رجسٹرار ملازمین سنگھ (کرناٹکا راجیا بھوماپنا ، کندایا ووستھے متو بھو داخلیگل کاریانرواہک نوکررسنگھ  ) کی جانب سے مختلف مطالبات کو حل کرنےکی مانگ لے کر 4ستمبر کو منائی جارہی ’ بنگلورو چلو ‘ احتجاج کی حمایت میں بھٹکل کے مختلف محکمہ جات کے عملے ...