کسانوں نے حکومت کی فرعونیت کا سر خم کر دیا۔۔۔۔ از: ظفر آغا

Source: S.O. News Service | Published on 24th January 2021, 9:45 PM | اسپیشل رپورٹس |

جی ہاں، جب حاکم وقت کی فرعونیت حد سے گزر جائے تو پھر اس کو خم کرنے کے لئے ایک موسیٰ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہندوستان میں پچھلے چھ سات برسوں میں حاکم دوراں کا گھمنڈ و غرور اور طرز حکومت کسی فرعون سے کم نہیں رہا۔ کسی نے زبان کھولی تو اس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا۔ کسی نے احتجاج کیا تو بھیما کورے گاؤں کے احتجاج کی طرح اس کے شرکاء کو اتنی سزا دی گئی کہ پھر کوئی احتجاج کہیں نہ ہو سکے۔ اگر جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے نوجوان طلبہ نے حکومت وقت کے خلاف سر اٹھایا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے گینگ قرار دے دیئے گئے اور یونیورسٹی میں گھس کر غنڈوں نے گھنٹوں وہاں کے طلبا کے ساتھ مار پیٹ کی اور پولیس باہر خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی۔ پچھلے برس اسی سردی کے موسم میں خود پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گھس کر سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبا سے مار پیٹ کی۔ جب شاہین باغ میں عورتوں کا احتجاج مہینوں چلا تو مشرقی دہلی میں فساد کروا کر پوری مسلم قوم کو سبق سکھایا گیا۔ یہ سارے مظالم خود مرکزی حکومت کے اشارے پر کیے گئے۔ اتر پردیش میں تو یوگی حکومت کی فرعونیت نے فرعونوں کو بھی مات دے دی۔ یہاں تک کہ اگر حکومت کے خلاف ٹوئٹ کیا تو اس کو جیل، سی اے اے قانون کے خلاف کسی نے منہ کھولا تو اس کو جیل، حد یہ ہے کہ مخالفین کے مکان تک گروا دیئے گئے۔

صاحب، یہ سچ ہے کہ آزاد ہندوستان میں حکومت مخالفین نے اتنے ظلم نہیں جھیلے جتنے پچھلے ساڑھے چھ برس میں جھیلے۔ لیکن وہ مثال ہے کہ جب ’پاپ کا گھڑا پھر جاتا ہے تو وہ ایک دن پھوٹ جاتا ہے۔‘ مودی حکومت کے ساتھ آخر وہی ہوا۔ وہ غریب کسان جس کو ہندوستان میں کوئی پوچھتا نہیں، آخر اس نے مودی حکومت کا غرور توڑ دیا اور وہ نریندر مودی اور امت شاہ جو اقتدار کے نشے میں کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں، آخر ان کے حامیوں نے بھی پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کے کسانوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے۔ آپ کہیں گے وہ کیسے، کیونکہ ابھی تک حکومت نے کسانوں کی ایک بھی مانگ نہیں مانی! بجا، حکومت نے کسانوں کی کوئی مانگ نہیں مانی، لیکن آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ جب پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کے کسانوں نے دہلی کی طرف کوچ کرنا شروع کیا تو مودی حکومت نے اعلان کر دیا کہ کسان دہلی میں قدم نہیں رکھ سکتے۔ بیچارا کسان ٹھنڈ کے باوجود دہلی بارڈر پر سنگھو، ٹیکری اور غازی پور میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ گیا۔ حکومت نے جب بھی بات چیت کے لئے اس کو بلایا چپ چاپ حکومت سے بات کرنے کے لئے بھی گیا۔ لیکن وہ ایک بات پر ٹکا رہا کہ کھیتی سے متعلق ایم ایس پی اور منڈیوں کے تعلق سے جو مانگیں ہیں حکومت ان کو قبول کرے۔

سب واقف ہیں کہ خود حکومت کی ایما پر کسانوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش ہوئی۔ افسروں اور وزراء نے یہ سوچا کہ ٹھنڈ کی شدت ہے پریشان ہو کر کسان بھاگ جائیں گے۔ بھاگنا تو درکنار وہاں تو جم غفیر بڑھتا ہی چلا گیا۔ آخر جیسے جیسے یوم جمہوریہ یعنی 26 جنوری کا دن قریب آیا تو کسانوں نے اعلان کیا کہ یوم جمہوریہ کا جشن تو دہلی ہی میں منے گا۔ آپ کسی کو جشن منانے سے جمہوری نظام میں روک تو نہیں سکتے، لیکن پھر بھی دہلی پولیس نے کسانوں کو اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ حکومت سپریم کورٹ گئی تو عدالت عظمیٰ نے کہہ دیا یہ معاملہ خود پولیس طے کرے۔

آخر پولیس نے کسانوں کو سمجھانے و بجھانے کی کوشش کی، مگر کسان یہ کہتا رہا کہ وہ یوم جمہوریہ کے روز یعنی 26 جنوری کو اپنی ٹریکٹر ریلی دہلی میں ہی نکالے گا۔ وہ خاموشی اور انتہائی پرامن طریقے سے اپنی ٹریکٹر ریلی کی تیاری کرتا رہا۔ آخر 26 جنوری سے تین روز پہلے یہ عالم ہے کہ دہلی کی سرحدوں پر میلوں لمبی ٹریکٹروں کی قطاریں تیار ہو گئی۔ اب دہلی پولیس کو پسینے آ گئے۔ کسان اس بات پر ٹکا رہا کہ کچھ بھی ہو وہ ٹریکٹر لے کر دہلی آئے گا چاہے پولیس گولی چلا دے!

اب یہ معاملہ سیاسی بن گیا، اب حکومت وقت کو یہ فیصلہ لینا تھا کہ آیا کسانوں کو دہلی میں آنے دے یا گولی چلا کر ان کو دہلی بارڈر پر ہی روک دے۔ جب صورت حال یہ ہو گئی تو ایک دم سے دہلی پولیس پیچھے ہٹ گئی۔ اور وہ پیچھے اس لئے ہٹی کہ مودی حکومت کو اندازہ ہو گیا کہ سینکڑوں کیا اگر یوم جمہوریہ کے روز دہلی بارڈر پر دس کسان بھی مار دئیے گئے تو حکومت کی ناک کٹ جائے گی۔ کیونکہ آپ جمہوری نظام میں کسی کو یوم جمہوریہ کا جشن منانے سے کیسے روک سکتے ہیں اور وہ بھی گولی چلا کر! اب بات صاف تھی اور وہ یہ کہ اگر 26 جنوری کے روز کسانوں پر گولی چلی اور کسان مرے تو پھر یہ جلیانوالا باغ بن جائے گا۔

بس فرعون وقت کے پیر کانپ گئے اور 23 جنوری کو کسانوں کو دہلی میں ٹریکٹر ریلی نکالنے کی اجازت دے دی۔ دراصل یہ پولیس کا فیصلہ نہیں تھا، یہ سیاسی فیصلہ امت شاہ کی ہوم منسٹری اور پی ایم او کا فیصلہ تھا، جس کا اعلان دہلی پولیس کے ذریعہ کروایا گیا۔ حکومت ہند نے کسانوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اب کسان دہلی میں اپنی مرضی کے مطابق آؤٹر رنگ روڈ پر جشن منائے گا اور حکومت چپ چاپ تماشہ دیکھتی رہے گی۔

لیکن یہ تماشہ معمولی تماشہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ کسانوں نے پورے ہندوستان کو یہ سبق دے دیا کہ اگر تم حق پر ہو، متحد ہو اور ان کی طرح بے خوف و خطر قربانی دینے کو تیار ہو تو بڑے سے بڑے فرعون کا سر جھکایا جا سکتا ہے۔ کسانوں کی یہ فتح تاریخ میں رقم ہوگی۔ کیونکہ کسانوں کی اس زبردست کامیابی کے بعد ملک میں نا جانے کتنے احتجاج پھوٹیں گے اور اب حکومت وقت کی فرعونیت ان کو کچل نہیں سکے گی۔ کسانون نے پورے ملک کو سمجھا دیا کہ فرعون کے خلاف موسیٰ بن جاؤ تو دریا میں راستہ بن ہی جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

’ وشوگرو‘ کسے کہاگیا ؟ : عوامی تحریکات کو غلط رخ دینے والے ’آندولن جیوی‘ کون ہیں ؟ معروف کنڑا روزنامہ پرجاوانی کی خصوصی رپورٹ

کرناٹک کی بات کریں تویہاں  بی جےپی کی کوئی بنیاد ہی نہیں تھی ۔ ہبلی عیدگاہ میدان اور چک منگلورو کے بابابڈھن گری جیسے تنازعوں کے سہارے بی جے پی  یہاں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوئی ہے، گائے ذبیحہ کا معاملہ چھیڑ کر  اور  فرقہ وارانہ نفرت بو کر بی جے پی نے  ساحلی پٹی پراپنی  جڑیں ...

مسلمانوں پر ملک کی آبادی بڑھانے کا الزام غلط۔سابق چیف الیکشن کمشنر نے اپنی نئی کتاب میں اعداد وشمار پیش کئے ، 70سال میں مسلمانوں کی آبادی صرف4فیصد بڑھی

ملک کے سابق چیف الیکشن کمشنر اور چار کتابوں کے مصنف ایس وائی قریشی نے اپنی تازہ تصنیف’آبادی کا تصور۔ ہندوستان میں اسلام،فیملی پلاننگ اورسیاست‘ منظر عام پر پیش کی ہے۔

ریزرویشن معاملہ: حکومت کا تعصب ایک طرف لیکن مسلمان اپنے حقوق کی حصولیابی اورسرکاری اسکیمات سے فائدہ اٹھانے میں بھی ناکام۔۔۔۔ روزنامہ سالارکا تجزیہ

کرناٹک میں مختلف طبقات کی طرف سے ریزرویشن کی مانگ کو لے کر ماحول جس طرح دن بہ دن گرمی اختیار کرتا جا رہا ہے اسی درمیان یہ بات بھی سامنے آئی کہ تمام طبقات کیلئے حکومت کی طرف سے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ریزرویشن دینے کا وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کی طرف سے اعلان کیا گیا-

انکولہ کے ڈونگری دیہات کے طلبا جان ہتھیلی پرلے کرتعلیم حاصل کرنے پر مجبور؛ ایک ماہ کے اندر بریج تعمیر کرکے دینے کا ایم ایل اے نے کیا وعدہ

انکولہ تعلقہ کے  ڈونگری  دیہات کے طلبا کےلئے تعلیم حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہاں کے طلبہ کو  ہر روز خطرناک حالت میں جان ہتھیلی پر لےکر ندی پارکرتےہوئے  اسکول پہنچنا ہوتاہے۔

 کیا بھٹکل جالی ساحل سیر و تفریح کے لئے ہوگیا ہے غیر محفوظ؟ شہریوں کے لئے کیا ہے اس کا متبادل ؟!

بھٹکل تعلقہ میں  مرڈیشور ساحل اور مرڈیشور کا  مندر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ سیاحتی مرکز ہے۔ اس کے بعد بھٹکل شہر سے قریب جالی بیچ ان دنوں سیر و تفریح کرنے والوں کے لئے بہت زیادہ دلکش بنتا جارہا ہے۔