یوپی اسمبلی میں گونجا الٰہ آباد یونیورسٹی میں فیس چار گنا بڑھائے جانے کا معاملہ، سماجوادی پارٹی کا واک آؤٹ

Source: S.O. News Service | Published on 23rd September 2022, 8:44 PM | ملکی خبریں |

لکھنؤ،23؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) اتر پردیش اسمبلی میں سماجوادی پارٹی کے اراکین کو الٰہ آباد یونیورسٹی میں زبردست فیس اضافہ کو لے کر طلبا کی تحریک کا ایشو اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس سے ناراض سماجوادی پارٹی نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور ایوان سے واکٹ آؤٹ کیا۔

جیسے ہی اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی، اکھلیش یادو کھڑے ہو گئے اور اس ایشو پر بولنے کی کوشش کی، لیکن اسپیکر ستیش مہانا نے انھیں بولنے کی اجازت نہیں دی۔ اس بات سے ناراض سماجوادی پارٹی کے اراکین اسمبلی نے نعرہ بازی کی اور ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد اکھلیش یادو کی قیادت میں سماجوادی پارٹی کے سبھی اراکین اپنے اپنے پارٹی دفتر میں واپس چلے گئے۔

واضح رہے کہ الٰہ آباد یونیورسٹی کے طلبا دو ہفتے سے زیادہ وقت سے فیس میں ہوئے اضافہ کی مخالفت کر رہے ہیں اور طلبا یونین کو پھر سے سرگرم کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ کئی ہاسٹل اور کیمپس کے اندر مارچ نکالنے کے بعد احتجاجی مظاہرہ تیز ہو گیا ہے۔ دراصل الٰہ آباد یونیورسٹی میں شروع ہونے والے نئے سیشن کے طلبا کو بڑھی ہوئی فیس کے حساب سے پیسے جمع کرنے ہوں گے۔ سبھی کورس میں تقریباً ایک ہزار روپے سالانہ فیس لگا کرتی تھی، جو اب چار گنا ہو گئی ہے۔ بڑھائی گئی فیس اب نئے سیشن سے قابل نفاذ ہوگی۔ اس کی مخالفت یونیورسٹی میں طلبا کے ذریعہ پرزور طریقے سے کیا جا رہا ہے۔

اس پورے معاملے میں الٰہ آباد یونیورسٹی کی وضاحت بھی سامنے آئی ہے۔ یونیورسٹی نے بتایا کہ 110 سال بعد فیس بڑھائی گئی ہے۔ 1922 میں یونیورسٹی کے قیام کے بعد سے ایگزیکٹیو کونسل نے تقریباً دو ہفتے پہلے مختلف نصابوں کے لیے فیس میں اضافہ کو منظوری دی تھی۔ یونیورسٹی نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق لائی جا رہی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے فیس میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے، جس کے تحت زیادہ اساتذہ کو کام پر رکھا جانا ہے اور نئے نصاب شروع کیے جانے ہیں۔ یونیورسٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ طلبا میں سے کوئی بھی متاثر نہیں ہوگا، کیونکہ فیس اضافہ صرف 23-2022 تعلیمی سال سے نئے داخلہ لینے والوں کے لیے نافذ ہوگی۔ حالانکہ طلبا کا سوال یہ ہے کہ ایک ہی بار فیس میں چار گنا اضافہ کتنا جائز ہے؟

ایک نظر اس پر بھی

گیان واپی مسجد معاملہ پر الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت، وارانسی عدالت کے فیصلہ پر 31 اکتوبر تک روک

  الہ آباد ہائی کورٹ نے وارانسی کی ایک عدالت کے گیانواپی مسجد کا اے ایس آئی سروے کرانے کے حکم پر لگی روک میں 31 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔ متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد جسٹس پرکاش پاڈیا نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 18 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

انکیتا بھنڈاری کے ملزمین کی پیروی کرنے سے وکیلوں کا انکار، ضمانت عرضی پر سماعت ملتوی، سی بی آئی جانچ کا مطالبہ تیز

اتراکھنڈ کے رشی کیش کی رہنے والی انکیتا بھنڈاری قتل واقعہ کے ملزمین پلکت آریہ، انکت اور سوربھ بھاسکر کی عدالت میں پیروی کرنے سے کوٹ دوار کے وکلا نے انکار کر دیا ہے۔ ک

نوٹ بندی کی آئینی درستگی کو چیلنج کرنے والی 59 عرضیوں پر سپریم کورٹ میں 12 اکتوبر کو ہوگی سماعت

مودی حکومت کی جانب سے 2016 میں نافذ کی گئی نوٹ بندی کے آئینی جواز کے خلاف دائر کی گئی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ میں 12 اکتوبر کو سماعت ہوگی۔ نوٹ بندی کے خلاف عرضیوں پر سپریم کورٹ نے سوال کیا ہے کہ اب اس معاملے میں کیا باقی ہے؟ کیا اس معاملے کی جانچ کرنے کی ضرورت ...

یوپی: لکھیم پور کھیری میں دلخراش سڑک حادثہ، بس اور ٹرک کے تصادم میں 8 افراد ہلاک، 25 سے زائد زخمی

 اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں آج صبح ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ معلومات کے مطابق بس اور ٹرک کے درمیان تصادم میں 8 افراد جاں بحق، جب کہ 25 زخمی ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ لکھیم پور کھیری ضلع کے عیسی نگر تھانہ علاقے کی کھماریا پولیس چوکی کے نزدیک شاردا ندی کے پل پر درجنوں مسافروں ...

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی کشن کو لگا چونا! کاروباری پر عائد کیا 3.25 کروڑ کی ٹھگی کرنے کا الزام، پولیس میں درج کرائی شکایت

 بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور اداکار روی کشن مبینہ طور پر 3.25 کروڑ روپے کی ٹھگی کا شکار ہو گئے ہیں، اس واقعہ کی اطلاع پولیس نے دی ہے۔ گورکھپور صدر سے رکن پارلیمنٹ روی کشن نے گورکھپور کینٹ تھانہ میں ایک بلڈر کے خلاف 3.25 کروڑ کی ٹھگی کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کرایا ہے۔

مرکزی حکومت کے ملازمین کو ملی سوغات، مہنگائی بھتہ میں 4 فیصد کا اضافہ

مرکزی حکومت نے ایک کروڑ سے زیادہ سرکاری ملازمین اور پنشن حاصل کرنے والے افراد کو تہواروں کے موقع پر سوغات پیش کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں مہنگائی بھتہ میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔