ملک تباہ، عوام مطمئن، آخر یہ ماجرا کیا ہے!۔۔۔۔ آز:ظفر آغا

Source: S.O. News Service | Published on 6th September 2020, 12:19 PM | اسپیشل رپورٹس |

ابھی پچھلے ہفتے لکھنؤ سے ہمارے عزیزداروں میں سے خبر آئی کہ گھر میں موت ہو گئی۔ پوچھا کیا ہوا۔ پتہ چلا کورونا وائرس کے شکار ہوئے۔ ایک ہفتے کے اندر انتقال ہو گیا۔ پوچھا باقی سب خیریت سے ہیں۔ معلوم ہوا ان کی بہن بھی آئی سی یو میں موت و زندگی کے درمیان ہیں۔ بے چارے منظر بھائی، انتہائی حسین و جمیل اور شاندار شخصیت کے حامل دیکھتے دیکھتے چل بسے۔ اللہ مغفرت فرمائے۔ پھر صاحب دو دن بعد لکھنؤ سے ہی دوسرے عزیزداروں کے بارے میں خبر آئی کہ سارا گھر اسپتال میں بھرتی ہے۔ اور وہاں بھی سب دعاؤں میں مصروف ہیں۔ صاحب ابھی تک کورونا میں دوسروں پر افسوس کرتے تھے، اب خاندان اور عزیزداروں کو رو رہے ہیں۔ بھلا کوئی اس وبا سے بچے تو بچے کیسے۔ ایک ایک دن میں 80 ہزار سے زیادہ افراد اس مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔ ابھی کل کی خبر یہ ہے کہ ملک میں 40 لاکھ افراد اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ کہنے کو ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ مگر صاحب ایمانداری سے ٹیسٹ ہوں تو اب ہم امریکہ سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔ الغرض کورونا وائرس وبا نے ہندوستان کو اپنے شکنجے میں کس لیا ہے۔ لیکن نہ تو حکومت کو فکر ہے اور نہ ہی عوام میں اب اس مرض سے وہ ڈر بچا ہے جو پہلے تھا۔ یوں سمجھیے جو بچ گیا اللہ کا کرم۔ نہیں تو بس کب باری آ جائے۔

دوسری طرف یہ عالم ہے کہ جناب اگر کورونا وائرس سے بچ گئے تو کوئی ضروری نہیں کہ اب بچے ہی رہیں۔ صاحب بیماری نہیں تو بھوک سے بھی موت کا خطرہ ہے۔ آپ پوچھیں گے وہ کیوں! تو جناب آپ نے ہندوستانی معیشت کے تازہ ترین اعداد و شمار نہیں دیکھے کیا! حضرت حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے تین مہینوں میں ہندوستانی معیشت 23.9 فیصد یعنی تقریباً 24 فیصد خسارے میں چلی گئی۔

جی جناب ملک ترقی نہیں کر رہا ہے، بے حد تیزی سے پیچھے کی جانب جا رہا ہے۔ ملک کے ہر معاشی شعبہ میں کام کاج بند ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو نوکریاں نہیں مل رہی ہیں بلکہ نوکریوں سے نکالے جا رہے ہیں۔ ماہرین معاشیات کے مطابق پچھلے تین ماہ میں کوئی بارہ کروڑ افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ یہ ہے مودی جی کا وکاس۔ ان کا وعدہ تھا کہ ہر سال ان کی حکومت دو کروڑ لوگوں کو روزگار دے گی۔ اب یہ عالم ہے کہ مودی دور حکومت میں لوگوں کے منھ کا نوالہ چھینا جا رہا ہے۔

تیسری مشکل یہ ہے کہ ہماری سرحدیں محفوظ نہیں۔ چین کی فوج ہندوستانی سرزمین پر بیٹھی ہے۔ ایک خبر کے مطابق ایک ہزار کلو میٹر سے زیادہ ہندوستانی زمین مشرقی لداخ میں چینی فوج کے قبضے میں ہے۔ سرحد پر جو تنا تنی ہے اس کی خبریں آپ پڑھ ہی رہے ہیں۔ چین سے کب جنگ چھڑ جائے واللہ اعلم! اور اگر جنگ ہو گئی تو کیا حشر ہو کچھ پتہ نہیں۔ ہار جیت تو بعد کی بات ہے۔ ایسے معاشی حالات میں ایک جنگ جو بد حالی پھیلائے گی اس کا ابھی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے۔ الغرض کورونا کے قہر خداوندی سے کون کب مر جائے پتہ نہیں۔ اگر زندہ بچے تو بھوک اور بے روزگاری کا شکار کون کب ہو یہ بھی پتہ نہیں۔ ملک میں کب دشمن در آئیں یہ بھی نہیں معلوم۔ جنگ ہو جائے تو کیا حالات ہوں اس کی بھی کوئی خبر نہیں۔ بس یوں سمجھیے کہ اب ایک اللہ کا بھروسہ بچا ہے اور بس کچھ دوسرا آسرا نہیں۔

تو جناب یہ ہے مودی جی کا نیا ہندوستان جہاں نہ وقت کا ٹھکانہ اور نہ ہی زندگی کی خیر۔ ایسا ہندوستان تو کسی نے تصور ہی نہیں کیا تھا۔ مگر اب ملک کی سو کروڑ سے زیادہ آبادی مودی جی کے اسی ہندوستان میں خوشی خوشی جی رہی ہے۔ جی ہاں، ہندوستان پر ایک نگاہ ڈالیے تو راوی چین لکھتا ہے، کہیں کوئی احتجاج نہیں، حکومت کے خلاف کوئی دھرنا مظاہرہ نہیں۔ عام ہندوستانی مودی حکومت سے مطمئن نظر آتا ہے۔ مودی مانند بادشاہ ملک کے حاکم ہیں۔ کہیں کوئی ان سے نہ سوال کر سکتا ہے اور نہ ہی جواب طلب کر سکتا ہے۔ یہ عجیب صورت حال ہے جس کا کہیں کوئی جواب نہیں۔ ملک کے جو حالات ہیں ان میں چہار سو آگ لگی ہونی چاہیے تھی۔ مگر ہندوستانی سڑکوں پر سکون ہے۔ آخر یہ کیوں اور کیسے! نریندر مودی اور تو کچھ نہیں جانتے اور نہ ہی کچھ کرنے کے اہل ہیں۔ لیکن وہ عوامی نفسیات کے جتنے بڑے ماہر ہیں شاید ایسا کوئی دوسرا ماہر نفسیات پیدا نہیں ہوا۔ عوام اپنے مسائل کے بجائے بے معنی اور بے وجہ مسائل میں الجھے رہیں، ملک میں امن و امان قائم رکھنے کا یہی نسخہ ہے جس کا استعمال مودی جی بدرجہ اتم کر رہے ہیں۔ یعنی عوام کو ہمیشہ ایک فرضی دشمن کے جال میں باندھے رکھو اور عوام یہ سمجھتے رہیں کہ مودی ہی ان کو اس دشمن سے نجات دلا سکتے ہیں۔ وہ دشمن کبھی ملک میں رہنے والا مسلمان ہو سکتا ہے، کبھی پاکستان ہو سکتا ہے اور ان دنوں چین ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی نہ ملے تو ملک کا ٹی وی عوام کے لیے ایک دشمن پیدا کر سکتی ہے۔ جیسے آج کل ریا چکرورتی ٹی وی پر ملک کی دشمن بنی ہوئی ہے اور روز ٹی وی اینکر شام کو اس ویلن سے ملک کو بچانے کے لیے اس کا قتل کرتے ہیں۔

صاحب عجیب عالم ہے ہندوستانی نیوز چینل کا۔ سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کو ایک 'سوپ اوپیرا' بنا دیا گیا ہے۔ ارنب گوسوامی اور راج دیپ سردیسائی نے اس معاملے پر ملک کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ راجپوت ہیرو بن گئے ہیں اور ریا چکرورتی ویلن بن گئی ہیں۔ فلم انڈسٹری کی ایک خودکشی سارے ملک کے لیے زیربحث ہے۔ ملک کی معیشت کہاں جا رہی ہے، کورونا وائرس کی وبا ہر گھر پر دستک دے رہی ہے، روزگار کا پتہ نہیں، چین کی فوجیں ملک میں در آئی ہیں، ان باتوں کا نہ ٹی وی پر ذکر اور نہ ہی عوام میں کوئی چرچہ۔ بس ایک فرضی دشمن ہے جس کا قتل مودی جی کے ہاتھوں ہوتا ہے، عوام مسلمان کی موب لنچنگ کرتے ہیں، اینکر روز ٹی وی لنچنگ کرتے ہیں۔ آج کل ریا چکرورتی کی لنچنگ روز ہو رہی ہے۔ الغرض ایک افیم ہے جو عوام کو روز پلائی جا رہی ہے۔ اور اب سارا ملک اسی افیم کے نشے کا عادی ہو چکا ہے۔ ملک تیزی سے ترقی کے بجائے تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ مگر کسی کو فکر نہیں۔ بس سب روز فرضی دشمن کو مار کر خوش ہیں۔ ادھر اصل دشمن چین کی نیند سو رہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ایک تھا لبراہن کمیشن ............آز: معصوم مرادآبادی

 بابری مسجد انہدام سازش کیس کے تمام ملزمان کو بری کئے جانے کے خلاف سی بی آئی نے ابھی تک اونچی عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا ہے۔ دو ہفتے قبل سی بی آ ئی  کی خصوصی عدالت نے ناکافی ثبوتوں کی وجہ سے  ملزمان کو سزا دینے اور اس معاملے میں سازش کی تھیوری کو  تسلیم کرنے سے انکار کردیا ...

پانچ کروڑ کی لاگت سے بنابھٹکل کا نیاہائی ٹیک بس اسٹانڈ۔  افتتاح کے لئے ہوگیا تیار

بھٹکل شہر کے قلب میں واقع نئے بس اسٹانڈ کا تعمیری کام تقریباً مکمل ہوگیا ہے اور اب صرف افتتاح کی تاریخ کا اعلان ہونا باقی ہے، جس کے تعلق سے  سرسی ٹرانسپورٹ کمشنر ویویکا نندہیگڈے نے بتایا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی مدت ختم ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے ۔

6 دسمبر 1992 کو مسجد گرانے کی بھی سازش ہوئی اور ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی بھی۔۔۔۔ از: ظفر آغا

6 دسمبر 1992 کے روز جب بابری مسجد ایودھیا میں ڈھائی گئی تو اس دن میں تقریباً 11 بجے صبح پریس کلب آف انڈیا دہلی پہنچ گیا۔ وہ عجیب دن تھا جو آج بھی بخوبی میرے دماغ میں نقش ہے۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ وہ اتوار کا دن تھا۔ عموماً اتوار کو پریس کلب دن بھر خالی پڑا رہتا ہے۔