معصوم بچوں کو روتا چھوڑ کر بھٹکلی بہو کو کیا گیا پاکستان جانے پر مجبور؛ خط سوشیل میڈیا پر وائرل؛ پڑھنے والوں کی انکھوں سے رواں ہوئے آنسو؛ کیا کوئی نہیں جو اس کی مدد کرسکے ؟

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th October 2019, 1:22 AM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

پاکستان سے بیاہ کر آئی  قوم نوائط کی  ایک بہو کا شوہر جب دہشت گردی کے الزام میں جیل چلا گیا تو اُس پر کس طرح کے حالات آئے اورجب اس خاتون کا ویزا  کینسل کرکے اُسے  اپنے تین معصوم اور چھوٹے بلکتے بچوں کو  بھٹکل  چھوڑ کر واپس اُس کے وطن  بھیجا گیا تو اُس مظلوم پر کس طرح کی قیامت ٹوٹی، ان تمام واقعات  پر مشتمل ایک جذبات سے مغلوب  خط گذشتہ دنوں وہاٹس ایپ پر تیزی کےساتھ وائرل ہوچکا ہے، خط اس قدر دردناک اور دل کو دہلانے والا ہے کہ پڑھنے والوں کو رُلائے بغیر نہیں رہ سکتا، مگر ان سب کے باوجود ذمہ داران کی خاموشی پر عوام سوالات اُٹھارہے ہیں۔  عوام سوال کررہے ہیں کہ بھلے ہی اُس کے شوہر کی کوئی مدد نہیں کرسکا،  مگر کیا اُس خاتون کی بھی کوئی مدد نہیں کرسکتا جسے اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر جانے پر مجبور کیا گیا ؟ عوام پوچھ رہے ہیں کہ کیا قوم کے ذمہ داروں میں مظلوم لوگوں کی مدد کرنے کا جذبہ ختم ہوچکا ہے ؟  ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق متعلقہ خاتون 23/ستمبر کو پاکستان  چلی گئی  تھی جبکہ اگلے روز یعنی 24 ستمبر کو جذبات سے بھرا وہ خط سوشیل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ متعلقہ خط کو ہو بہو یہاں شائع  کیا جارہا ہے۔

اپنا سب کچھ چھوڑے جارہی ہوں میں، لوٹا دینا میری امانت مجھ تک۔

زندگی کا خوبصورت ترین دن جس دن بہو بن کر گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو ہر طرف سے بھرپور پیار اور بڑوں کی شفقت کے ساتھ رہنے لگی، ابتدائی ایام تو ہر ایک کے خوبصورت ہوتے ہی ہیں گھر کے ہر فرد میں قربانی کا جذبہ اور نئے ماحول میں گھل مل جانے تک عزیمت کے بجائے رخصت پر رخصت اور درگذر کا ماحول رہتا ہے پھر آہستہ آہستہ گھر کی ذمہ داری اور پھر گھر کی بڑی بہو ہونے کے ناطے ذمہ داری کا احساس بڑھنا ایک فطری عمل ہے،
لمحات ایام میں، اور ایام ہفتوں میں، اور ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں میں بیتنے لگے، اگر بچپن کے چند سال الگ کر دئیے جائیں تو تقریباً آدھی زندگی اسی گھر میں بیت گئی،اپنوں اور غیروں کی محبتیں بھی ملی، اجنبی خاندان کو قریب سے دیکھنے ، پرکھنے اور انکے درمیان انکی بن کر رہنے کا موقعہ بھی ملا، اپنوں جیسا سکھ اور گھر کے بزرگوار کی شفقت اور ہمدردی ہمیشہ ساتھ رہی، گھر والوں نے خوب خیال رکھا، اپنائیت کا یہ حال تھا کہ اپنے غیر ہونے کا تصور بھی نہ رہا۔ اور خصوصاً والد بزرگوار کا برتاؤ تو ناقابل  یقین کی حد تک۔ کبھی گھر کے دو ذمہ داروں میں انیس بیس ہوجاتی تو والد بزرگوار میری ہی طرف داری و حمایت میں ہوتے، اور میری بھول چوک و کمی بیشی کو مثبت انداز میں دفاع کرتے، ان کے اس بلند اخلاق و کردار نے بہت جلد مجھے متاثر کیا اور میں ان کی خدمت کو باعثِ افتخار سمجھنے لگی، اور وہ میری تنہائی کو محسوس کرتے، باتیں کراتے یا کسی بہانے اپنی خدمت میں مشغول کراتے، اور پل بھر کیلئے اپنی آنکھوں سے اوجھل رکھنا پسند نہ کرتے۔

 اس دوران الله پاک نے اولاد جیسی نعمت سے بھی نوازا ، یہ اولاد میری کم ، اپنے دادا دادی کے زیادہ قریب رہی، ہر وقت انھیں انکی فکر سوار رہتی۔ انکی اپنائیت کا یہ حال تھا کہ مجھے اپنی باجی سے براہ راست ملاقات تو دور کی بات بچوں کو تک اپنی خالہ کے گھر بھیجنے سے ہچکچاتے۔

 ابھی چند مدت گذری ہی تھی کہ مالک رب العالمین کی طرف سے آزمائشی دور کا آغاز ہوا، اور لمحہ بہ لمحہ زمین اپنی کشادگیوں کے باوجود سکھڑنے اور تنگ ہونے لگی، گھر کا انتظام و انصرام، دیکھ ریکھ اور ذمہ داری ایک ایک کرکے کمزور کندھوں پر پڑھنے لگی، اس دوران گھر کے بزرگوار اولاد کی تعلیم و تربیت کے خاطر گھر چھوڑ کر دوسرے شہر میں بسیرا کرنے لگے، پھر گھر میں میری تنہائی کے پیشِ نظر والد بزرگوار نے اپنی کمزوری اور نقاہت کے باوجود ہمارے ساتھ رہنے کو ترجیح دی، جن کی شفقت اور ہمدردی زندگی بھر بھلائی نہیں جاسکتی۔ اس دوران شوہر نامدار کی آمدنی وخرچ میں توازن نہ ہونے کی وجہ سے  گھر میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا، تنگی و فراوانی کے باوجود پھر بھی سکھ کی نیند نصیب تھی کہ اچانک کسی الزام میں شریک حیات سے فراق کا سانحہ پیش آیا، ایک طرف اک عرصہ بعد اپنے والدین سے ملاقات کی خوشی کی انتہاء نہ تھی کہ اچانک اس سانحہ نے خوشیوں کو رات کے تاریک اندھیرے غاروں میں ڈھکیل دیا، وقتی خوشیاں غموں کے پہاڑ تلے دب کر رہ گئیں، زندگی کا یہ لمحہ ناقابلِ فراموش تھا کہ گھر میں صرف اپنی اولاد اور پھر چند دنوں کا نوزائیدہ بچہ، گویا اولاد باپ کی زندگی ہی میں سایہ عاطفت سے محروم بلکہ یتیم ہو کر رہ گئی۔

 اب لمحہ لمحہ انتظار میں کٹنے لگا، صبح شام کانوں میں آواز گونجنے لگتیں " میں آرہا ہوں، شام تک پہونچ جاؤنگا, بس اب تو کچھ ہی دیر کا مسئلہ ہے،" بیتاب آنکھیں بار بار گھر کے دروازے پر ٹک جاتی، کان ہر وقت آمد کی خبر سننے کے لئے بے تاب رہنے لگے، گیٹ اور دروازے کی ہر آہٹ پر کان کھڑے ہوجاتے، ہمہ وقت انتظاری کی کیفیت طاری رہتی، ہر طرف ان کی پرچھائیاں نظر آتیں، ایک طرف کمی کا احساس تو دوسری طرف اولاد کے سر پر والد کے ہوتے ہوے نہ ہونے کا غم، اب تو نیند نے بھی آنکھوں کو خیرباد کردیا، تنہائیوں نے گھر میں بیڑا ڈال دیا، اب خوف میں اضافہ ہونے لگا ہر آواز و آہٹ پر دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگتی، غیر تو غیر اپنے بھی ملاقات اور گفتگو سے کھینچنے لگے، اپنوں کے درمیان غیر بن گئی، اپنوں کے اس رویے نے مزید ذہنی الجھنوں میں مبتلا کردیا، اب تو میں اپنے آپ کو زمین پر بوجھ محسوس کرنے لگی، پھر بھی گھر والوں کا سلوک قابلِ تعریف رہا، ٹوٹتے غم کے پہاڑ کو سہارا دینے اور اس مشکل وقت میں ساتھ دینے گھر کے بزرگوار نے قربانیاں دیں، ان کے رویے اور سلوک اور تسلی آمیز کلمات نے مزید ٹوٹنے سے بچا لیا۔ ایک طرف یہ احوال، تو دوسری طرف نامعلوم الزام میں گرفتار شوہر نامدار ودیگر افراد کی رہائی کی کوششیں تیز ہونے لگی، اپنوں کے علاوہ قومی ذمہ داروں نے بھی ممکن حد تک اپنا تعاون پیش کیا جس سے دو ایک افراد برئ الذمہ ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے اور باقی افراد آج کل کی تسلی میں سالہا سال سے بغیر اثبات جرم کے سلاخوں کے پیچھے کال کوٹھری میں رہنے پر مجبور کر دئے گئے، نہ جرم ثابت نہ عدالت میں پیشی۔

 جوانی کے یہ خوبصورت لمحات اپنوں سے دور، آزادی سے محروم ہو کر روشن مستقبل کا خواب سجائے زندگی برباد ہوتے دیکھ رہے ہیں۔
والدین دور دراز کا سفر طئے کرکے آئے بھی، چلے بھی گئے، پتا تک نہ چلا، باوجود کوشش کے مزید رہنے کی مہلت بھی نہ مل سکی ۔ 

اس سانحے نے خوشی کے لمحات کو بھی غموں میں بدل کر رکھدیا۔ اب تک تو شوہر نامدار کی وجہ سے خواہشات نہ سہی ضروریات تو پوری ہو ہی رہی تھیں کہ اب ضروریات کی تکمیل کا غم کھانے لگا،  #(الله بھلا کرے دو منجھلے برادر نسبتی کا جنھوں نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے اپنے والدین کے اشاروں پر گھریلو ضروریات پر بھرپور توجہ دی اور بڑے دل کا مظاہرہ کیا اور کبھی کسی کمی کا احساسِ ہونے نہ دیا، اور رہے دو چھوٹے جن سے کم عمری کی وجہ سے بے تکلفی بھی تھی، ہر ضرورت کا خیال رکھتے اور اپنی خدمات پیش کرتے، امی تو بہرحال امی ہی تھیں جنھوں نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں اور انکی ضروریات و خواہشات کی تکمیل میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھیں وہ کیسے میری ضروریات وغیرہ سے واقف نہ ہوتیں اور میرا خیال نہ کرتیں، چونکہ وہ عام عورتوں کے مقابلے مزاجاً اپنی الگ شناخت رکھتی تھیں اس لئے ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے میں دیر تو ضرور لگی لیکن کبھی گلے شکوے کی نوبت نہیں آئی، پھر کیا تھا؟ اپنی ہر بات خواہ خوشی کی ہو یا ناگواری کی شیئر کرنے سے نہیں ہچکچاتیں، بلکہ دل کی اکثر نئی پرانی باتیں کہکر اپنا دل ہلکا کرتیں، والد بزرگوار وقتاً فوقتاً ہنستے ہنساتے اور دل لگی کرتے، اور میں احترام کے سبب لب کشائی کی جرات نہ کر پاتی حالانکہ وہ اکثر ردعمل کا انتظار کرتے، اور میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ نظریں جھکا کر پرے ہٹ جاتی، امی چونکہ اتنی زیادہ گھل مل گئیں تھی کہ ساس ہونے کا احساس کم دوستی کا زیادہ ہونے لگا۔
 الغرض یہ تمام افراد قابل قدر ہیں اور میں انکی تہہ دل سے مشکور و ممنون ہوں کہ انھوں نے ناقابل تصور کی حد تک بہترین سلوک روا رکھا۔ الله پاک ان تماموں کو جزائے خیر عطا فرمائے اور دونوں جہانوں میں سرخروئی و سربلندی نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین)#.

مختصر یہ کہ یہ بیتے ایام خود قیامت سے کچھ کم نہ تھے کہ ایک اور آزمائش آن پڑی، وقت وقت پر حکومتی اداروں کی طرف سے اقامتی اجازت نامہ تجدید کی صورت میں بروقت مل جایا کرتا تھا جو اب کی بار رد کردیا گیا، زندگی کا ایک طویل عرصہ یہاں گزارنے کے بعد حکومت کا یہ رویہ ناقابلِ یقین تھا، ایک طرف معصوم اولاد جن کی کوئی سفری دستاویز تیار نہ تھی اور جس کی تیاری اتنے کم وقفے میں ممکن بھی نہ تھی اور اس پر یہ کہ پہلے پندرہ دن پھر اچانک دو چار دن کے اندر اندر ملک چھوڑ دینے کا حکم نامہ بذریعہ فون، جھنجھوڑ کر رکھ دیا،  الله پاک کی اس آزمائش پر بھی سرخم تسلیم کرتے حکومتی ادارے سے رابطہ کی کوشش کی گئی، اس کی تگ و دو میں برادرن عزیز اپنے والد محترم کی طبیعت ناساز رہنے کے باوجود پورے انہماک اور خوش دلی سے پیش پیش رہے،  مسلسل ذہنی تناؤ اور سفری تھکاوٹ پھر رات تک انتظاری کے کٹھن لمحات کے بعد جب باریابی نصیب ہوئی تو مزید مہلت کی بازگشت سنائی گئی، چونکہ ذہن بادل ناخواستہ ہی سہی سفر پر تیار ہوچکا تھا کہ اچانک حکومتی ادارے کی طرف سے مزید دو ماہ کی مہلت کی پیشکش نے ورطہ حیرت میں ڈال دیا، ایک طرف "مہلت" خوشی کا مژدہ سنارہی تھی تو دوسری طرف حکومتی اداروں کی چال لگ رہی تھی کہ کسی طرح مدت اقامہ کی حد تجاوز کرنے کی پاداش میں بدنام و رسوا کیا جائے اور دوسروں کے لئے رکاوٹ کھڑی کر دی جائے، بہرحال ہماری طرف سے مہلت کی پیشکش کے انکار پر ادارے کی طرف سے خیر خواہانہ انداز اختیار کیا گیا پھر آہستہ آہستہ یہ انداز دباؤ میں تبدیل ہونے لگا، جب صورت حال یوں بدلنے لگی تو ادارے کی نیت پر شک کے بادل منڈلاتے نظر آنے لگے اور میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی، اب ذہنی تناؤ اتنا شدید تھا کہ کوئی فیصلہ لینے کی سکت تک نہ رہی، ویسے بھی ان چند سالوں میں شوہر نامدار کے فراق میں اتنا ٹوٹ چکی تھی کہ میں اپنی زندگی کے پل پل گننے لگی تھی پھر ابوجان کی وفات نے رہی سہی کسر پوری کردی تھی۔

بالآخر اسی دباؤ اور تناؤ نے رہی سہی قوت فیصلہ کو ختم کردیا اور قدم قدم کا فیصلہ دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، الله بھلا کرے باجیوں اور برادر نسبتی کا جنھوں نے بروقت حالاتِ کی نزاکت سے واقف کراتے ہوے شوہر نامدار کی رائے کے خلاف صحیح فیصلے تک پہنچنے میں مدد کی، چونکہ برادر اسی میدان کا کھلاڑی ہے اس سے زیادہ اور کسی کو کیا پتا ہوسکتاہے، بہرکیف رات دیر گئے ملک  چھوڑنے کا اجازت نامہ مل ہی گیا۔

 اب کیا تھا؟ اب اپنے ہی گھر میں سالہا سال گزارنے کے باوجود اچانک مہمان بن گئی۔ اب اپنے شوق سے جمع کردہ چیزیں اور اپنے کپڑے لتھے سب وارثوں کے لگنے لگے، گھر کی درودیوار پر نظر پڑتی تو بے اختیار ذہن میں یہ سوال گونجتا، پھر کب؟ اور کتنا انتظار؟ کیا پھر اپنے آشیانے میں لوٹ پاوگی؟ کیا یہ درودیوار میرا انتظار کریں گے؟ یا مجھے بھول جائیں گے؟ 

ان حالات میں پہلے ہی دماغ ماؤف ہو چکاتھا سفر کی تیاری تو دور کی بات، بات کرنے اور سننے کی سکت تک باقی نہ رہی، ایک طرف سالہا سال سے شریکِ حیات کے فراق کا غم اور اب اولاد سے فراق کے تصور ہی نے دل پارہ پارہ کرکے رکھدیا، پہلے تو رات کی تنہائی میں اونگھ کی حالت میں جھٹکے لگتے تھے ، اب تو بیداری میں لگنے شروع ہوگئے، بالآخر بے خیالی میں ہی میری  یہ بات امی کی موجودگی میں زبان پر آہی گئی " کیا اب میں کبھی اپنے میاں سے نہ مل سکوں گی؟ اور کیا مجھے اپنی اولاد سے الگ رہنا پڑیگا؟"  ، یہ جملے ابھی زبان سے نکل کر ان کے کانوں سے ٹکرائے نہ تھے کہ وہ اپنا ہوش کھو بیٹھیں، پھر تسلی بخش کلمات اور سرپرستی کا دلاسہ دیتی رہیں۔

ایسے تیسے رات آگئی، بستر پر بچے سوالات پر سوالات کرتے جارہے تھے میں تسلی دیتے دیتے تھک چکی تھی، آہستہ آہستہ رات گہری ہونے لگی ، بچے بھی دن بھر تھکے بستر پر ایک ایک کرکے آنکھیں بند کرنے لگے، ایک میں تھی جس کی آنکھوں سے نیند غائب ہوئے زمانہ بیت چکا تھا، اپنے آپ کو تسلی دینے کے لئے کئی سالوں سے رات بھر بستر پر پڑی ماہی بے آب کی طرح تڑپتی اور بلبلاتی رہتی، اور اسی حالت میں صبح نمودار ہوجاتی۔ لیکن آج کی رات ان تمام راتوں کے مقابلے میں نہ صرف خوفناک و المناک تھی بلکہ کٹھن اور ناقابلِ برداشت تھی، کیونکہ یہ اپنے بچوں کے ساتھ اس گھر میں آخری رات تھی۔ بچے سو چکے تھے اور میری آنکھوں سے نیند ندارد، میں ایک ایک بچے کو پیار کرتی ، چومتی، بوسے پر بوسہ دیتی رہی، اور دعاؤں پر دعائیں مانگتی رہی اور اپنے مالک سے بچوں کی حفاظت و سلامتی اور حالاتِ بہتر ہونے کی التجاء کرتی رہی۔

دوسری طرف چاند کھڑکی سے مجھے اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا جیسے وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہ رہاہو، میں دل ہی دل میں اس سے باتیں کرنے لگی ہی تھی کہ مؤذن کی آذان نے چونکا دیا۔

بالآخر وہ دن اور وہ گھڑی آ پہونچی جس سے میں ہمیشہ بچنے کی کوشش کیا کرتی تھی اور اللّٰہ رب العزت سے ہمیشہ دعا کرتی رہتی تھی، پھر بھی مالک کی مرضی کے آگے بندے کی کہاں چلتی؟ اور اسکی حکمت و مصلحت کو کون جانتا ہے؟  بہرحال اسی میں اسکی مرضی اور اسی میں خیر کی امید بلکہ یقین کرتے ہوئے حالات کا سامنا کرنا تھا۔

صبح سے شام ہونے کو آئی، جوں جوں سفر کا وقت قریب ہوتا گیا میں غم سے نڈھال ہونے لگی، گھر میں اعزاء و اقارب کا ہجوم امڈ پڑا، کوئی تسلی دیتا تو کوئی خاموش تھا، کوئی آنسو روک رہا تھا تو کوئی بے قابو ہوکر مالک دو جہاں سے شکوے شکایت کر رہا تھا اور میں تھی جو اپنے آپ میں گم تھی، کوئی میرے چہرے پر غم کے ساتھ آنسو نہ پاکر میرے صبر و تحمل کا تذکرہ کر رہا تھا۔ بیچاروں کو کیا پتا کہ رات کی تنہائی میں رو رو کر بلک بلک کر آنسو خشک ہوچکے تھے، اب اگر میں بے قابو ہو جاتی تو آنکھوں سے آنسو کے بجائے خون کی لڑیاں بہہ جاتیں جسے دیکھنے والا برداشت نہ کر پاتا۔

میں بار بار مالک ذوالجلال کی طرف متوجہ ہوکر خیر و عافیت کی طلبگار تھی گویا میں بار بار موت کی تمنا کرے جا رہی تھی کہ اے کاش! اپنی اولاد سے اس عارضی فراق کے مقابلے دائمی فراق دیدے کہ کم از کم ہمیں یہ احساس تو رہے کہ دور نہیں قریب ہی ہیں، سفر کے لیے سواری کیا آگئی مجھے تو اپنا جنازہ نظر آنے لگا میں بار بار آنکھیں آسمان کی طرف اٹھائے گویا ملک الموت کا انتظار کر رہی تھی، والد بزرگوار سے الودعی ملاقات اور دعا کی درخواست کے لئے ہاتھ بڑھایا تو ضعف اور کمزوری کی وجہ سے آواز تو کجا بہت دیر تک ہاتھ پکڑے مجھ پر نظریں جمائے مجسمہ بنے تھے گویا زبان حال سے دعا بھی دیئے جارہے تھے اور آئندہ ملاقات کی غیر یقینی کیفیت کا اظہار بھی کر رہے تھے۔ اور مجھے بھی یہ احساس ستائے جارہا تھا کہ میں ایک مشفق اور ہمدرد سرپرست کی سر پرستی محروم ہو رہی ہوں۔

بالآخر رخت سفر باندھا گیا، پھر بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ کیا واقعی میں سب چھوڑ چھاڑ کر چلی جا رہی ہوں یا وقتی غنودگی کا غلبہ ہے یا پھر خواب دیکھ رہی ہوں؟ میں بار بار خود  اپنے ہاتھوں کو نوچ نوچ کر تسلی کرنے میں لگی رہی۔ 

قسمت کا لکھا کون مٹا سکتا ہے؟ اپنے سامنے اپنی چہیتی اور لاڈلی اولاد کو روتا بلکتا چھوڑ کر الوداع کہتے نکل پڑی، کہنے کو تو میں نکلی لیکن میں صرف زندہ لاش تھی، جسم سفر پر روانہ ہوا اور میری روح گھر پر ہی رہ گئی، راستے بھر نہ آنکھ جھپکی اور نہ خیالوں کی دنیا سے جدا ہوئی، وقفے وقفے سے چھوٹا بیٹا فون پر فون کرتے جارہا تھا اور کہے جارہا تھا کہ "تو وڑلی خراب، ماکا سوڑون گیلی توں"۔ بیچارے معصوم کو کیا پتا ؟ کہ کن حالات  نے نکلنے پر مجبور کیا، کیا کوئی ماں اپنی کم عمر اولاد سے بخوشی دور رہ سکتی ہے؟ اولاد سے فراق کے تصور سے ہی کلیجہ منھ کو آنے لگتا ہے۔ اب جب یہ حقیقت بن جائے تو زندگی عذاب سے کم نہیں۔

نکلنے کو تو نکل چکے اب کس طرح اپنوں کا سامنا کروں؟ سمجھ سے بالا ہے، امی سے ملاقات کا شوق ہے لیکن اپنوں میں اجنبیت کا خوف ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پروردگار ہر مشکل آسان فرمائے، اور غیبی طریقے سے بے بنیاد الزام میں گرفتار افراد کی رہائی کے اسباب مہیا فرماکر اپنے بال بچوں و اعزاء و اقارب کے ساتھ بقیہ زندگی بغیر آزمائش کے گزارنے کے فیصلے فرمائے۔ آمین یارب العالمین

ایک نظر اس پر بھی

کاروار میں رابطہ ملت کی جانب سے برادران وطن میں سیرت ﷺکتابچے کی تقسیم : محبت و یگانگت کا پیغام

قرآن ، بائیبل اور بھگوت گیتا سمیت کوئی بھی مذہبی کتاب نفرت کی تعلیم نہیں دیتی ، ہر ایک مذہب انسانوں سے پیار و محبت کی تعلیم دیتی ہیں۔ کاروار کےسماجی کارکن ،جن شکتی ویدیکے کے صدر مادھونایک نے ان خیالات کا اظہار کیا۔

بھٹکل شرالی کی دختر انجمن ڈاکٹر انیسہ شیخ کو ملی ڈینٹل شعبہ میں اعلیٰ ترین کامیابی : جملہ مضامین کے علاوہ مینگلور کالج کی بہترین طالبہ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا

دختر ِ انجمن  کاگولڈ میڈل اور رابطہ گولڈ میڈل ایوارڈ سے سرفراز  بھٹکل  کی  ڈاکٹر انیسہ شیخ طبی میدان میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے اے جے اسپتال مینگلورو میں بھی  امتیازی نمبرات سے کامیاب  ہونے کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور کالج کی بہترین طالبہ کا ایوارڈ حاصل ...

بھٹکل فاریسٹ افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ لےکر اتی کرم داروں کی طرف سے میمورنڈم

بھٹکل زونل فاریسٹ افسران اور ان کے ماتحت عملہ کی طرف  سے  فاریسٹ اتی کرم داروں کو لگاتار ہراساں کیاجارہاہے، متعلقہ افسران کے خلاف قانونی کارروائی کامطالبہ لےکر ضلع ارینیا حقو ہوراٹ ویدیکے کی جانب سے پیر کو سرسی کے چیف فاریسٹ آفیسر کو میمورنڈم دیاگیا ۔

بھٹکل شرالی کی دختر انجمن ڈاکٹر انیسہ شیخ کو ملی ڈینٹل شعبہ میں اعلیٰ ترین کامیابی : جملہ مضامین کے علاوہ مینگلور کالج کی بہترین طالبہ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا

دختر ِ انجمن  کاگولڈ میڈل اور رابطہ گولڈ میڈل ایوارڈ سے سرفراز  بھٹکل  کی  ڈاکٹر انیسہ شیخ طبی میدان میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے اے جے اسپتال مینگلورو میں بھی  امتیازی نمبرات سے کامیاب  ہونے کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور کالج کی بہترین طالبہ کا ایوارڈ حاصل ...

آئی ایم اے کے اثاثوں کو نیلام کرنے حکومت کا فیصلہ، کامپٹنٹ اتھارٹی کے ذریعہ سرمایہ کاروں کو رقم لوٹانے کی طرف پہلا قدم

کروڑوں روپیوں کے آئی ایم اے فراڈ کیس کی جانچ کے مرحلے میں ریاستی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے آئی ایم اے کے سربراہ منصور خان کے جن اثاثوں کو ضبط کیا گیا ان کوریاستی حکومت نے نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دیوے گوڈا نے بی جے پی کی حمایت کا واضح اشارہ دیا ضمنی انتخاب بی جے پی ہار بھی گئی تو حکومت کو خطرہ نہیں

ریاست میں ایک او ر بار بی جے پی اور جے ڈی ایس کے درمیان مفاہمت کے واضح اشارے دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور جے ڈی ایس سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابا ت کا نتیجہ جو بھی ہو لیکن ریاست میں بی جے پی حکومت کے استحکام کو متاثرہونے نہیں دیا جائے گا۔

مہاراشٹر سیاسی گہما گہمی پر دیوے گوڑا کا بڑا بیان ’’سیاست میں کوئی کسی کا مستقل دوست یا دشمن نہیں‘‘

سابق وزیر اعظم اور جنتا دل سیکولر کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڑا نے مہاراشٹر میں بدلتے ہوئے سیاسی واقعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ سیاست میں کوئی کسی کا مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا اور وقت کے مطابق حالات بدلتے رہتے ہیں۔

سرمائی اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے وینکیا نائیڈو نے 17 نومبر کو کل جماعتی میٹنگ بلائی

راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے 18 نومبر سے شروع ہو رہے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کو کامیاب بنانے سمیت دیگر اہم مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ایوان بالا میں مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کی 17 نومبر کو میٹنگ بلائی ہے۔

شاعر مشرق علامہ اقبال کی یوم پیدائش ؛ کیا آج کا پاکستان علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ہے؟

پاکستان قائم ہونے کے 72 سال بعد آج بھی علمی و ادبی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال اصل میں کس طرح کا پاکستان دیکھنا چاہتے تھے۔انہیں مفکر پاکستان کہا جاتا ہے۔ ہندوستان سے تاج برطانیہ کی رخصتی اور دو آزاد مملکتوں کے قیام سے بہت پہلے علامہ اقبال ...

 دلوں کو تقسیم کرنے والی دیوارِ برلن کی یادیں اب بھی باقی ہیں 

جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی تاریخی دیوارِ برلن کو گرے 30 سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن اس کی یادیں آج بھی باقی ہیں۔دیوار کی موجودگی تک یہ ملک مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کہلاتا تھا۔ یہ دیوار 1961 میں تعمیر کی گئی تھی۔دیوار برلن جنگ عظیم دوم کے بعد تعمیر ہوئی تھی۔

بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ؛ خدا کی قسم، کوئی بھی ذی شعور مندر اور مسجد کے لئے اپنے گھر کو آگ نہیں لگائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از: سید خرم رضا

بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ پر ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کا فیصلہ دس دن کے اندر آنے والا ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر ہندو اور مسلمانوں کی تمام نمائندہ تنظیموں کے رہنما اپیل کر رہے ہیں کہ عوام کو خوش دلی سے عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے اسے قبول کرنا چاہیے۔ فیصلہ اگر حق میں ...

لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کا بیٹا سیف الاسلام کہاں ہے؟

جرائم کی بین الاقوامی عدالت نے ایک اعلان میں بتایا کہ وہ اُس مقام کے حوالے سے تقریبا مصدقہ معلومات رکھتی ہے جہاں لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کا بیٹا سیف الاسلام موجود ہے۔ سیف الاسلام جون 2017 میں الزنتان شہر کی جیل سے رہا ہونے کے بعد سے روپوش ہے۔مذکورہ عدالت کی پراسیکیوٹر ...

زچگی کے معاملات میں محکمہ صحت کا خلاصہ؛ اُڈپی میں سیزیرین کی بڑھ رہی ہے تعداد۔ جنوبی کینرا میں زیادہ ترہوتی ہے نارمل ڈیلیوری

محکمہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق اڈپی ضلع  کے اسپتالوں میں  بچوں کی پیدائش کے لئے سیزیرین آپریشن کا طریقہ اپنانے کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، جبکہ جنوبی کینرا میں قدرتی طور پر زچگی (نارمل ڈیلیوری) کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ...

البغدادی سے تو چھٹی ملی لیکن دہشت گردی سے چھٹی مشکل ۔۔۔۔ از: ظفر آغا

جولائی 2014 کی چلچلاتی گرمیوں میں ایک صبح عراق کے شہر موصل کی النور مسجد میں ایک غیر معروف شخص خطبہ دینے کھڑا ہوا اور اس نے یہ اعلان کیا کہ اس وقت سے یہاں ایک اسلامی خلافت کا قیام ہو گیا۔ اس غیر معروف شخص کا نام ابو بکر البغدادی تھا اور اس کے اس بیان نے دنیا بھر میں ایک تہلکہ مچا ...