ا من معاہدہ شکنی کے متعلق خبریں افواہ اور بے بنیاد ہیں: ترجمان طالبان

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 8th March 2020, 9:13 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن/8مارچ (آئی این ایس انڈیا)طالبان نے امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 29 فروری کو امریکہ کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔طالبان ترجمان سہیل شاہین نے اپنی ٹوئٹ میں امریکی ٹی وی پر شائع ہونے والے امریکی خفیہ ادارے کے تین اہلکاروں کے دعووں کی تردید کی ہے۔ مذکورہ خبر میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ طالبان امریکہ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ برقرار رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد طالبان افغان حکومت گرا کر خود اقتدار پر قابض ہو سکتے ہیں۔البتہ سہیل شاہین نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ امن معاہدے پر عمل درآمد تسلی بخش رفتار میں آگے بڑھ رہا ہے۔امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبر میں کہا گیا تھا کہ امریکی انتظامیہ کے پاس انٹیلی جنس رپورٹیں موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ طالبان سمجھوتے میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری کا ارادہ نہیں رکھتے۔اس سے قبل ایک بیان میں سہیل شاہین نے کہا تھا کہ اگر معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ ہو جاتا ہے تو طالبان بین الافغان مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ بین الافغان مذاکرات کے لیے وفد اور ایجنڈے کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔طالبان اور امریکہ کے درمیان 29 فروری کو طے پانے والے معاہدے کے باوجود افغانستان میں پرتشدد واقعات جاری ہیں۔ طالبان کی جانب سے افغان فورسز اور پولیس کے خلاف حملے کیے گئے جب کہ امریکہ نے بھی طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔چند روز قبل کابل میں چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی ریلی میں فائرنگ سے درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ البتہ اس حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ (داعش) نے قبول کی تھی۔حالیہ کشیدگی کے باعث بعض مبصرین اس معاہدے کے مستبقل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہے تھے۔ البتہ طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔امریکہ- طالبان 29 فروری کو طے پانے والے معاہدے میں 14 ماہ کے اندر امریکی فوج کے انخلا اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا تھا۔امن معاہدے میں طالبان نے امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے خلاف حملے نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ معاہدے میں یہ بھی شامل تھا کہ طالبان افغانستان کی سرزمین امریکہ سمیت دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی