”تبریز کی نہیں ہوئی ماب لنچنگ، کوئی نہیں قاتل“ چارج شیٹ سے قتل کا الزام ہٹا،پولیس رپورٹ سے سبھی حیران و پریشان

Source: S.O. News Service | Published on 10th September 2019, 10:43 AM | ملکی خبریں |

رانچی،10؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) جھارکھنڈ کے سرائے کیلا میں موب لنچنگ کے شکار ہوئے تبریز انصاری کے معاملے میں حیران کرنے والی بات سامنے آئی ہے۔ اب فرد جرم سے قتل کا الزام ہٹا لیا گیا ہے۔ پولس نے 29 جولائی کو اس سلسلے میں عدالت میں فرد جرم پیش کی تھی۔

تبریز انصاری موب لنچنگ معاملہ کا کیس دیکھ رہے وکیل الطاف حسین نے انگریزی نیوز پورٹل ’دی کوئنٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’پوسٹ مارٹم رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ تبریز کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی۔ بھیڑ کے ذریعہ پٹائی کرنے کی وجہ سے تبریز کے سر پر زخم بن گیا تھا۔ ایسے میں یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ تبریز کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔‘‘

اس سلسلے میں جانچ کرنے والے افسر کا دعویٰ ہے کہ تبریز کی موت دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ افسر نے اس کے ساتھ ہی ڈاکٹروں کے ذریعہ اس معاملے میں جانچ رپورٹ کا حوالہ بھی دیا۔ انھوں نے کہا کہ دو ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔

تبریز انصاری کیس کے وکیل الطاف حسین پولس کی جانچ پر پہلے ہی اعتراض ظاہر کر چکے ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں 31 اگست کو عدالت میں ایک عرضی بھی داخل کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ پولس اپنی لاپروائی کو چھپانے کے ساتھ ملزمین کو بچانے کے لیے ’دورۂ قلب‘ جیسے لفظ کا استعمال کر رہی ہے۔

دوسری طرف اس موب لنچنگ معاملے میں ہیومن رائٹس لاء نیٹورک کے وکیل امن خان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں یہ کہنا کہ تبریز کی موت صرف دورۂ قلب کی وجہ سے ہوئی، یہ پوری طرح سے غلط ہے۔ انھوں نے کہا کہ فرد جرم سے قتل کی دفعہ 302 کو ہٹانے کے لیے پولس کے پاس کوئی بنیاد نہیں ہے۔

واضح رہے کہ جھارکھنڈ کے سرائے کیلا میں 17 جون کو تبریز انصاری پر بھیڑ نے اس وقت حملہ کر دیا تھا جب وہ اپنے رشتہ دار کے یہاں سے گھر لوٹ رہا تھا۔ چوری کے شبہ میں بھیڑ نے تبریز انصاری کو کھمبے سے باندھ دیا تھا اور اس کی خوب پٹائی کی تھی۔ بھیڑ نے ان کے ساتھ کئی گھنٹوں تک مار پیٹ کی اور پھر پولس کے حوالے کر دیا تھا۔ موقع پر پہنچی پولس سنگین طور سے زخمی تبریز کو ضلع اسپتال لے کر گئی تھی۔ بنیادی علاج کے بعد ڈاکٹروں نے پولس کو اس بات کی منظوری دے دی تھی کہ وہ تبریز کو لے جا سکتے ہیں۔ چار دن بعد جب تبریز انصاری کی حالت بگڑ گئی تو اسے دوبارہ اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

’شاہین باغ‘ خاتون مظاہرین کا حوصلہ بڑھانے پہنچیں 8 ریاستوں کی خواتین

 قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے لئے آٹھ ریاستوں سے آنے والی خواتین نے کہا کہ ہم سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف آپ کی تحریک کی حمایت کرنے اور آپ کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر چلنے آئی ہوں۔

کانپور پہنچی یشونت سنہا کی ’گاندھی شندیس یاترا‘، سی اے اے کو بتایا مودی حکومت کی ’نوٹنکی‘

 ممبئی سے گاندھی شانتی سندیش یاترا لے کر منگل کو کانپور پہنچے سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے کہا کہ ایک طرف ملک میں جہاں جمہوریت خطرے میں ہے تووہیں ملک کی گرتی معیشت سے پوری دنیا فکر مند ہے۔