تبریز انصاری لنچنگ معاملہ: تحقیقاتی رپورٹ میں ڈاکٹروں کی بڑی لاپرواہی سامنے آئی،پولیس پر بھی سوال 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th July 2019, 10:52 PM | ملکی خبریں |

رانچی،12/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا)  گزشتہ ماہ جھارکھنڈ کے سرائے کیلا کھرساواں ضلع میں تبریز انصاری کی چوری کے الزام میں پٹائی کے بعد ہوئی موت کامعاملہ میڈیا کی سرخیاں بن گیا تھا۔اس کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے ایک تفتیشی ٹیم کا قیام کیاگیا جس نے پایا ہے کہ تبریز کی موت کے پیچھے پولیس اور ڈاکٹر دونوں مجرم ہیں۔اس تفتیشی ٹیم میں سرائے کیلا کھرساوا ں کے ڈپٹی کمشنر نے صدر ایس ڈی اوپی کی قیادت میں ایک ایس آئی ٹی کی تشکیل کی تھی جس میں وہاں کے سول سرجن بھی شامل تھے۔اس رپورٹ میں مانا گیا ہیں کہ تبریز انصاری کی موت کے لئے سر پر شدید چوٹ لگی جس سے اس کی رگ پھٹ گئی اور برین ہیمریج ہو گیا۔اس جانچ کمیٹی نے یہ بھی بتایاہے کہ پولیس کو بروقت خبر کرنے کے باوجود وہ حائے حادثہ پر کئی گھنٹے بعد پہنچی اور اس دوران تبریز کی پٹائی مسلسل جاری رہی۔لیکن اس رپورٹ نے ڈاکٹروں کے کردار پر بڑا سوال کھڑا کیا ہے۔ڈیوٹی پر موجود مقامی اسپتال میں کسی بھی ڈاکٹر نے تبریز کے بار بار کہنے کے باوجود ان کا طبی انویسٹی گیشن نہیں کرایا اور جیل جانے کے لئے انہیں فٹ ہونے کی رپورٹ دی۔ جس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑتی چلی گئی۔فی الحال اس معاملے میں اس دن ڈیوٹی پر موجود تھانہ انچارج سمیت کئی پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔لیکن اب اس رپورٹ کی بنیاد پر مقامی ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس دن ڈیوٹی پر دونوں ڈاکٹروں کے خلاف لاپرواہی کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ڈاکٹروں کی گرفتاری ہوگی تو اس پر مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک قانونی رائے نہیں لی گئی ہے لیکن اس معاملے میں حکومت کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ کو بھی رپورٹ کرنا ہے لہٰذا کسی کے خلاف کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

ایک نظر اس پر بھی