تبلیغی جماعت نے حکومت کی ناکامی کا کیا انکشاف، بار بار گزارش کے بعد بھی نہیں ملی مدد

Source: S.O. News Service | Published on 1st April 2020, 2:31 PM | ملکی خبریں |

سینکڑوں افراد حکومت اور دہلی پولیس کی بے توجہی کی وجہ سے پھنسے ہوئے تھے، تنقید کا سامنا کررہے نظام الدین مرکز کی وضاحت

نئی دہلی،یکم اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی) نظام الدین واقع تبلیغی جماعت مرکز میں شامل ہوئے تقریباً 35 افراد میں اب تک کورونا پازیٹیو کی تصدیق ہو چکی ہے اور 9 افراد اس مہلک وائرس کی وجہ سے جاں بحق بھی ہو چکے ہیں -

اس پورے معاملہ میں تبلیغی جماعت لوگوں کی تنقید کا نشانہ بن رہی ہے، حالانکہ تبلیغی جماعت نے سبھی الزامات کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے اور کہا ہے کہ مرکز میں جمع لوگوں کے لیے ذمہ دار حکومت اور مقامی انتظامیہ ہے کیونکہ بار بار گزارش کے باوجود انہیں مدد نہیں دی گئی-

دراصل مرکز میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا تھا جس میں ملک و بیرون ممالک کے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی تھی-

ہندوستان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے تقریباً 1500 لوگ مرکز میں پھنس گئے اور نکل نہیں پائے تبلیغی جماعت کے ذریعہ ایک پریس نوٹ جاری کر کے جانکاری دی گئی ہے کہ پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے کوششیں کی گئیں لیکن انتظامیہ سے تعاون نہیں ملا جس کی وجہ سے مجبوراً سبھی کو مرکز میں ہی رہنا پڑا-

پریس نوٹ میں تبلیغی جماعت نے بتایا ہے کہ 22 مارچ کو جب وزیر اعظم مودی نے جنتا کرفیو کا اعلان کیا تو فوری طور پر پروگرام روک دیا گیا- چونکہ ریلویز نے بھی اچانک اپنی سبھی خدمات روکنے کا اعلان کر دیا تھا اس لیے مہمانوں کا بڑا گروپ اپنے گھروں کو لوٹنے سے قاصر تھا-

تبلیغی جماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ نے اچانک 23 مارچ کو 6 بجے صبح سے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا جس کے بعد جو لوگ روڈ ٹرانسپورٹ کا استعمال کر کے گھر واپس جانا چاہتے تھے وہ مرکز میں ہی پھنس گئے- پھر اگلے دن پی ایم مودی نے پورے ہندوستان میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا- اس طرح اپنے اپنے شہروں کو جانے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کر رہے لوگ مرکز میں ہی پھنس کر رہ گئے-

تبلیغی جماعت نے پریس نوٹ میں بتایا کہ 24 مارچ 2020 کو حضرت نظام الدین پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کا اچانک ایک نوٹس آتا ہے اور مرکز کے احاطہ کو بند کرنے کا حکم دیا جاتا ہے- اس کے جواب میں مرکز لکھتا ہے کہ ایک دن پہلے ہی تقریباً 1500 لوگوں کو مرکز روانہ کر چکا ہے اور احاطہ خالی کرنے کا عمل جاری ہے- ساتھ ہی مرکز نے یہ بھی لکھا کہ تقریباً 1000 افراد دوسری ریاستوں کے مرکز میں موجود تھے جن کی روانگی کے لیے گاڑی پاس مہیا کیے جانے کی اپیل بھی کی گئی تھی-

واضح رہے کہ میڈیا میں 25 مارچ کو مرکز کے ذریعہ لکھا گیا ایک خط پہلے ہی سامنے آ چکا ہے جس میں لاک ڈاؤن کے دوران مرکز میں پھنسے لوگوں کو ان کے گھر بھیجنے کے لیے گاڑی پاس مہیا کرانے کی گزارش کی گئی تھی- یہ خط نظام الدین تھانہ کے ایس ایچ او کے نام لکھا گیا تھا- لیکن اس پر فوری کارروائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد مرکز میں ہی پھنسے رہے-

مرکز نے اپنے اوپر لگ رہے الزامات کی تردید کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے گاڑیوں کا انتظام کیا گیا تھا اور ان گاڑیوں کی فہرست دہلی پولیس کو بھی دی گئی تھی تاکہ پاس مل سکیں - لیکن اس کا کوئی جواب دہلی پولیس کی جانب سے نہیں آیا-

اس پورے معاملہ میں دہلی پولیس کٹہرے میں کھڑی نظر آ رہی ہے، لیکن کچھ لوگ مرکز کا نام لے کر ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں -

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو ایئر پورٹ پر بم رکھنے کا معاملہ ؛ ملزم آدتیہ راؤ سے پوچھ تاچھ کیلئے مرکزی وزارت داخلہ سے اجازت کا انتظار

گودی میڈیا نے منگلورو ایئر پورٹ پر بم رکھ کر تہلکہ مچانے والے سنگھ پریوار سے جڑے نوجوان آدتیہ راؤ کے معاملہ پر پوری طرح اب تک خاموشی اختیار رکھی ہے اور اب تک اس سلسلہ میں کوئی خبر ہی نہیں دی گئی تھی، اس معاملہ پر پردہ ڈالنے کی بھی کوشش جاری ہے ،

مزدوروں کا 85 فیصد ریل کرایہ مرکز کے ذریعہ ادا کرنے کا جھوٹ عدالت میں بے نقاب

مہاجر مزدوروں کو ان کے آبائی وطن روانہ کرنے کے لیے ریلوے کا 85 فیصد کرایہ مرکزی حکومت کی جانب سے ادا کیے جانے کا بی جے پی کاجھوٹ آج اس وقت بے نقاب ہوگیا جب سپریم کورٹ کے روبرو مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ریلوے کرائے کا پورا خرچ ریاستی حکومتوں ...

بنگال بی جے پی صدردلیپ گھوش کا شرمناک بیان، کہا ”ٹرینوں میں مزدوروں کی موت معمولی واقعہ“

مغربی بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش نے شرمک اسپیشل ٹرین میں بھوک اور پیاس کی وجہ سے ہونے والی اموات کو 'معمولی اور چھوٹا' واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لیے انڈین ریلوے کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اس چھوٹے سے واقعے کو حد سے زیادہ حساس ...