سوچھ فنڈس : بی بی ایم پی افسروں کو اے سی بی تحقیق کا سامنا

Source: S.O. News Service | Published on 24th February 2020, 12:08 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،23/فروری(ایس او  نیوز) سوچھ بھارت ابھیان کے تحت مرکز کی جانب سے جاری کردہ فنڈس کے مبینہ غلط استعمال کے معاملے میں حکومت کرناٹک نے بی بی ایم کے متعلقہ افسروں کے خلاف ایک اے سی بی تحقیق کا حکم دیا ہے۔

محکمہ شہری ترقیات (یو ڈی ڈی) کی ایک رپورٹ کی بنیاد پرحکومت نے انسدادِ رشوت خوری قانون کے تحت تحقیق کا حکم دیا ہے۔2016/17اور 2017/18کے دوران مرکز نے سوچھ بھارت ابھیان پروگراموں کے لئے بی بی ایم پی کو108کروڑ روپے جاری کئے تھے۔ لیکن بی بی ایم پی نے مبینہ طورپر صر ف 16کروڑ روپئے اس کے لئے خرچ کئے اوربقیہ ر قم ترقیات اور فٹ پاتھوں کی ری ماڈلنگ کے لئے موڑ دی گئی۔

بنگلور و شہر کے بی جے پی کے ترجمان رمیش نے فنڈس کے مبینہ موڑے جانے کے خلاف یو ڈی ڈی میں شکایت کی تھی۔ انہوں نے افسروں کو فنڈس موڑنے مجبور کرنے کا کچھ سابق وزر اء پر الزام لگایا۔یو ڈی ڈی نے ایک اندرونی تحقیق کی اور پایاکہ بی بی ایم پی نے دیگر مقاصد کے لئے مالیہ کا استعمال کیا۔تاہم اس نے صرف افسروں کو خاطی ٹھہرایااور یہ کہتے ہوئے منتخب نمائندوں کے نام خارج کردئیے کہ نہ رمیش نہ ہی بی بی ایم پی نے ان کے ملوث ہونے کے تعلق سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش کیا۔

ایک نظر اس پر بھی

نظام الدین کے اجتماع میں شریک حضرات جانچ کروالیں: اقلیتی بہبود کے سکریٹر اے بی ابراہیم کی اپیل

ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹر اے بی ابراہیم نے اپنے ایک اخباری بیان میں تبلیغی مرکز نظام الدین کے اجتماع میں مارچ کے دوران شرکت کرنے الوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ضلع یا تعلقہ میں محکمہ صحت سے رابطہ کر کے اپنی جانچ کروالیں۔

کرناٹک سے درجنوں افراد نے مرکز نظام الدین کے اجتماع میں شرکت کی؛ کورونا سے ایک کی موت، باقی کی نشاندہی کر کے کورانٹائن، 13/ افراد میں وائرس نہ ہونے کی تصدیق

دہلی کے مرکز نظام الدین میں 10/ مارچ کو ہوئے اجتماع میں شریک افراد میں سے 24 کے کورونا وائرس کا شکار ہوجانے اور ان میں سے6/افراد کی موت کی خبروں کے بعد اس مرکز کے اجتماع میں شرکت کے بعد اپنے اپنے مقامات پر لوٹنے والے افراد کی نشاندہی کر کے انہیں کورانٹائن کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

بھٹکل: کوروناوائرس کی روک تھام اور لاک ڈاون میں مزید سختی برتنے اب اُڑائے جائیں گے ڈرون کیمرے؛ گلی کوچوں میں آوارہ گردی کرنے والے ہوشیار

صرف کرناٹک ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بھٹکل کو لے کر تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ  اتنے چھوٹے سے علاقہ میں  کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد  بڑھتی جارہی ہے۔چونکہ یہاں کے اکثر لوگ بیرون ممالک میں رہتے ہیں، اس لئے یہ وائرس دوسرے ملکوں سے یہاں آرہی ہے۔  ہمیں دہلی سے فون بھی ...