کرناٹک: باغیوں پر عدالتی فیصلے سے بی جے پی پریشان، ضنمی انتخاب میں جیتنی ہوں گی 7 سیٹیں

Source: S.O. News Service | Published on 13th November 2019, 8:26 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،13/نومبر(ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک کے 17 باغی ممبران اسمبلی کو سپریم کورٹ نے بھی نااہل ہی قرار دیا ہے، لیکن ان کے انتخاب لڑنے پر لگی روک ہٹا دی ہے، سپریم کورٹ نے بدھ کو دیئے فیصلے میں ممبران اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے کرناٹک اسمبلی کے سابق اسپیکر کے فیصلے کو برقرار رکھا، لیکن اسمبلی کی مدت مکمل ہونے تک ان کے انتخاب لڑنے پر لگی پابندی ہٹا دی، اب یہ 17 ممبر اسمبلی 5 دسمبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب لڑ سکتے ہیں۔

کرناٹک میں ان 17 میں سے 15 سیٹوں پر 5 دسمبر کو ضمنی انتخاب ہونے ہیں، باقی دو 2 اسمبلی سيٹیں مسكی اور راج راجیشوری سے منسلک عرضیاں کرناٹک ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہیں، سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے کرناٹک میں حکمراں بی جے پی کی ٹینشن ضرور بڑھ گئی ہے، اسی ٹینشن سے نمٹنے کی قواعد میں وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے آناً فاناً میں اعلان کر دیا کہ یہ تمام 17 رکن اسمبلی جمعرات کو بی جے پی میں شامل ہوں گے، اسی کے ساتھ کرناٹک میں بی جے پی کا کھیل بھی کھل کر سامنے آگیا ہے۔

غور طلب ہے کہ چند ماہ قبل ہوئے ڈرامائی واقعات میں ان ممبران اسمبلی نے اپنا رخ بدل لیا تھا، جس کے بعد کانگریس اور جےڈی ایس کی مخلوط حکومت اقلیت میں آگئی تھی۔ اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہنے پر كماراسوامی حکومت نے استعفی دے دیا تھا۔ اس کے بعد بی جے پی نے آسانی سے حکومت بنا لی۔

ان ممبران اسمبلی کو نااہل قرار دیئے جانے کے بعد 225 ارکان والی اسمبلی کی تعداد 207 ہو گئی اور اکثریت ثابت کرنے کے لئے 104 ہی چاہیے تھے جبکہ بی جے پی کے پاس 106 ممبران اسمبلی کی حمایت تھی، جس میں اس کے 105 اور ایک دیگر۔ ایسے میں ان کی حکومت بننے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔

لیکن اب ضمنی انتخابات میں 15 نشستیں بھرنے کے بعد اکثریت کے اعداد و شمار 112 ہو جائے گی، ایسے میں بی جے پی کو حکومت بچائے رکھنے کے لئے کم از کم 6 سیٹوں پر اپنے ممبران اسمبلی کی جیت یقینی کرانی ہوگی۔

ممبران اسمبلی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے کہا تھا کہ شام تک انتظار کریں اور شام ہوتے ہوتے انہوں نے اعلان کر دیا کہ تمام نااہل 17 ممبر اسمبلی جمعرات کو بی جے پی میں شامل ہوں گے۔

یہاں غور طلب ہے کہ جن 15 سیٹوں پر ضمنی انتخاب ہو رہے ہیں فی الحال ان میں سے 3 سیٹوں پر جے ڈی ایس اور 12 پر کانگریس کے امیدوار جیتے تھے، یعنی ان سیٹوں پر جےڈی ایس اور کانگریس کی مضبوط گرفت ہے۔ ایسے میں ان میں سے کم از کم 7 نشستیں جیتنا بی جے پی کے لئے ٹیڑھی کھیر ثابت ہوگی۔

ایک نظر اس پر بھی

  مسلم متحدہ محاذ، جماعت اسلامی ہند اور کئی تنظیموں کے ایک نمائندہ وفدکا سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا سے ملاقات اور شہریت ترمیمی بل   کی مخالفت اور دستور کے تحفظ میں تعاون کرنے کی اپیل

مسلم متحدہ محاذ، جما عت اسلامی ہند، سدبھاؤ نا منچ بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن کرناٹک، ایف ڈی سی اے، ایس آئی او، اے پی سی آر  اور مومنٹ فار جسٹس جیسے ہم خیال تنظیموں کی قیادت میں مسلم نمائندوں کا ایک وفد 7 / دسمبر 2019  ء  بروز سنیچر، سابق وزیر اعظم شری ایچ ڈی دیوے گوڈا سے ملاقات کرتے ...

ہوناورمیں پریش میستا کی مشتبہ موت کوگزرگئے2سال۔ سی بی آئی کی تحقیقات کے باوجود نہیں کھل رہا ہے راز۔ اشتعال انگیزی کرنے والے ہیگڈے اور کرندلاجے کے منھ پر کیوں پڑا ہے تالا؟

اب سے دو سال قبل 6دسمبر کو ہوناور میں دو فریقوں کے درمیان معمولی بات پر شرو ع ہونے والا جھگڑا باقاعدہ فرقہ وارانہ فساد کا روپ اختیار کرگیا تھا جس کے بعد پریش میستا نامی ایک نوجوان کی لاش شنی مندر کے قریب واقع تالاب سے برآمد ہوئی تھی۔     اس مشکوک موت کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر پورے ...

کاروار:ہائی وے توسیع کے لئے سرکاری زمین تحویل میں لینے پرمعاوضہ کی ادا ئیگی۔ ملک میں قانون وضع کرنے کے لئے ضلع شمالی کینرا بنا ماڈل

نیشنل ہائی وے66 توسیعی منصوبے کے لئے سرکاری زمینات کو تحویل میں لینے کے بعد خیر سگالی کے طورمعاوضہ ادا کرنے کی پہل ضلع شمالی کینرا میں ہوئی جس کی بنیاد پر نیشنل ہائی وے ایکٹ 1956میں ترمیم کرتے ہوئے ملک بھر میں تحویل اراضی پرمعاوضہ ادائیگی کا نیا قانون2017میں وضع کیا گیا ہے۔