سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر جواب طلب کیا

Source: S.O. News Service | Published on 26th October 2021, 5:17 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،26؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے ہزاروں کروڑ روپے کے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر سوال اٹھانے والی عرضی پر پیر کو مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ جسٹس اے۔ ایم کھانولکر اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے سماجی کارکن راجیو سوری کی درخواست پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ وہ حکومت سے ہدایات لینے کے بعد جواب داخل کریں گے۔ سپریم کورٹ اس درخواست پر جمعہ کو سماعت کرے گی۔

ایڈوکیٹ شکھل سوری کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو 28 اکتوبر 2020 کو مرکزی شہری ترقیاتی وزارت کا نوٹیفکیشن کالعدم کرنے کا حکم دے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ زمین کے استعمال سے متعلق تبدیلیاں قانون کو نظرانداز کرتے ہوئے کی گئی ہیں۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت لوگوں کے زندگی کے حق کی ضمانت کے خلاف ہے۔ لوگوں کو صحت مند زندگی سے لطف اندوز ہونے کا حق اس آرٹیکل میں دیا گیا ہے۔

درخواست میں ضروری ماحولیاتی کلیئرنس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ درختوں کی کٹائی اور زمین کی کھدائی سے متعلق سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کی ہدایات دے۔

واضح رہے کہ راشٹرپتی بھون سے انڈیا گیٹ تک تقریباً 3 کلومیٹر کے دائرے میں پارلیمنٹ ہاؤس اور کئی وزارتوں اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر نو پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بھیما کوریگاؤں معاملے کی ملزم سدھا بھاردواج کی مشکلات میں اضافہ، ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی این آئی اے

چھتیس گڑھ کی معروف سماجی کارکن اور وکیل سدھا بھاردواج کو ممبئی ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی ضمانت کے خلاف قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔