ٹرمپ کے مالیاتی ریکارڈ کا انکشاف کیا جا سکتا ہے: امریکی سپریم کورٹ

Source: S.O. News Service | Published on 10th July 2020, 10:50 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن،10؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) امریکہ کی عدالت عظمیٰ نے جمعرات کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکس گوشوارے منظر عام پر لانے کیلئےمین ہٹن کے ڈسٹرکٹ اٹارنی کے مطالبے کو تو تسلیم کیا ہے؛ تاہم ایک الگ مقدمے میں جس میں کانگریس نے صدر کا مالیاتی ریکارڈ طلب کیا تھا، عدالت نےبیشتر ریکارڈ تک کانگریس کی رسائی فی الحال روک دی ہے۔

صدر ٹرمپ کیلئے دو مقدمات پر فیصلے کم مدتی فتح بھی ہیں اور شکست بھی، کیونکہ وہ گزشتہ دو برس سے اپنے مالیاتی ریکارڈ کو منظر عام پر لانے سے رکے ہوئے ہیں۔

تاہم، مین ہٹن کے ڈسٹرکٹ اٹارنی والے مقدمے میں سپریم کورٹ کے ججوں نے صدر ٹرمپ کےوکیل اور محکمہ انصاف کے اِن دلائل کو مسترد کر دیا کہ جب تک صدر اپنے منصب پر فائز ہیں، ان کے خلاف تحقیقات نہیں ہو سکتی یا استغاثہ کو ریکارڈ حاصل کرنے کیلئے عمومی حالات کی بجائے غیر معمولی حالات ظاہر کرنا ہونگے۔ ایک گرینڈ جیوری نے صدر ٹرمپ کے ٹیکس گوشوارے طلب کئے تھے۔

چونکہ گرینڈ جیوری کی تحقیقات خفیہ ہیں، اس لئے اس فیصلے سے ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کے مالیاتی ریکارڈ جلد منظر عام پر نہیں آ سکیں گے۔

کانگریس کی جانب سے ریکارڈ کی طلبی والے مقدمے میں، عدالتِ عظمیٰ کا کہنا ہے کہ ماتحت عدالت نے مقدمے میں دی گئی تقسیم اختیارات کی دلیل پر پوری طرح سے غور نہیں کیا۔ اس لئے کانگریس فی الحال ریکارڈ کو پوری طرح سے نہیں دیکھ سکتی۔

سپریم کورٹ کیلئے صدر ٹرمپ کے تعینات کردہ دو ججوں جسٹس نیل گورسچ اور جسٹس بریٹ کیوانوگ نےبھی دونوں مقدمات میں چیف جسٹس جان رابرٹس اور چار لبرل خیالات کے حامی ججوں کے موقف سے اتفاق کیا۔ دونوں فیصلے چیف جسٹس رابرٹس نے تحریر کیے۔

اس فیصلے سے دونوں مقدمات اب دوبارہ ماتحت عدالتوں میں واپس بھیج دئے گئے ہیں۔

کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا کی وجہ سے ایک مقدمے میں اس سال مئی میں ٹیلیفون پر شنوائی ہوئی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

ایران کے ساتھ مذاکرات میں خلیجی ممالک اور اسرائیل کو شامل کیا جائے گا: بلنکن

امریکا کے نو منتخب صدر جوبائیڈن کے نامزد وزیرخارجہ انتھونی بلنکن نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گی۔ان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے جوہری مذاکرات میں خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کو شامل کیا جائے گا۔

حکومت مخالف ایرانی مذہبی عالم کا اسرائیل سے مصالحت کا مشورہ

ایران کے ایک سرکردہ مذہبی رہ نما اور حکومت پر سخت تنقید میں شہرت رکھنے والے آیت اللہ عبدالحمید معصومی تہرانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ دشمنی رکھنا عقل اور منطق کے خلاف ہے۔ انہوں نے ایرانی حکومت سے زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ صلح کرے جیسا کہ بعض عرب ممالک نے کی ہے۔

جوہری معاہدے کے حوالے سے بائیڈن کی ٹیم اور ایران کے درمیان خفیہ بات چیت

منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ذمے داران نے جوہری معاہدے میں واپسی کے حوالے سے ایران کے ساتھ خاموشی سے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔ تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان یہ سمجھوتا جولائی 2015ء میں طے پایا تھا۔ اسرائیلی نیوز نیٹ ورک "چینل 12" اور اسرائیلی اخبار "د ٹائمز آف ...