کامن انٹرنس ٹیسٹ CET کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر؛ بھٹکل میں 14 طلبہ غیر حاضر

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 1st August 2020, 1:08 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 31 جولائی (ایس او نیوز) امسال پہلی بار بھٹکل میں کامن انٹرنس ٹیسٹ CET کا انعقاد کیا گیا اور پہلی بار  انجمن پی یو کالج  کو اس امتحان کا سینٹر بناتے ہوئے انجمن اسٹاف کو موقع فراہم کیا گیا۔  انجمن انتظامیہ نے بھی کالج کو سینٹر بنانے کی  ہدایت ملتے ہی   ایک ہی دن کے اندر تمام تیاریوں کو مکمل کرتے ہوئے تعلقہ کے طلبہ کے لئے امتحان کا موقع فراہم کیا۔

بھٹکل تعلقہ کے ساتھ ساتھ دوسرے اضلاع کے بھی بعض طلبہ جو بھٹکل میں مقیم  تھے، اپنا سینٹر تبدیل کرتے ہوئے بھٹکل میں ہی سی ای ٹی امتحانات میں شریک ہوئے تھے اور انجمن پی یو کالج پرنسپال  محمد یوسف کولا کے مطابق 253 طلبہ کے نام  امتحانات کی لسٹ میں دئے گئے تھے۔

جمعرات اور جمعہ دو دن امتحانات منعقد ہوئے تھے ۔ بائیولوجی، فزیکس، کیمسٹری اور میتھس  جملہ چار امتحانات دینے تھے،  جن کو انجینرنگ کے لئے جانا ہے، اُن کے لئے بائیولوجی کا ایک پرچہ کم تھا۔

پرنسپال محمد یوسف کولا نے بتایا کہ بائیولوجی پرچہ  کو چھوڑ کر دیگر تینوں امتحانات میں 14 طلبہ مسلسل غیر حاضر رہے۔

امتحانات کے لئے نگراں کار کے طور پر  ڈی ڈی پی آئی ہریش گاونکر کو ذمہ داری سونپی گئی تھی جو  امتحانات کے موقع پر  سینٹر میں حاضر رہتے تھے،  جبکہ   نقل نویسی روکنے کے لئے بھی  انتظامیہ کی طرف سے فلائنگ اسکواڈ کا تقرر کیا گیا تھا جو امتحان کے دوران  برابر اپنی ذمہ داری انجام دے رہے تھے ۔

کوویڈ وباء کے چلتے طلبہ کو امتحان شروع ہونے سے   ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہی  امتحان گاہ پہنچنے کی ہدایت دی گئی تھی، تمام طلبہ کو تھرمل اسکیننگ کے مراحل سے گذار کر امتحان گاہ  بھیجا جاتا تھا، ہر اسٹوڈینٹ کے لئے ماسک پہنا لازمی قرار دیا گیا تھا، اسی طرح پانی اور ٹفن وغیرہ بھی اپنے ساتھ ہی لے کر آنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ انجمن آباد کے داخلی گیٹ پر ہی پولس کو تعینات کیا گیا تھا جہاں صرف امتحان دینے والے طلبہ کو ہی داخل ہونے کی اجازت دی جارہی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

کیرالہ میں پیش آیا چٹان کھسکنے کا خطرناک حادثہ۔ 15ہلاک اور60سے زائدافراد ہوگئے لاپتہ۔ ملبے میں دب گئیں 30جیپ گاڑیاں 

کیرالہ کے مشہور تفریحی مقام ’مونار‘ سے قریب ’ایڈوکی‘ میں چٹان کھسکنے کا ایک خطرناک حادثہ پیش آیا جس میں تاحال 15افراد ہلاک ہونے اور 60سے زیادہ لوگ لاپتہ ہونے کے علاوہ 30جیپ گاڑیاں چٹان کے ملبے میں دب کر رہ جانے کی خبر ہے۔