نیتاجی زندہ ہوتے تو شہریت ترمیمی ایکٹ کو نافذ نہیں کیا جاتا: میئر فرہاد حکیم

Source: S.O. News Service | Published on 24th January 2020, 9:26 PM | ملکی خبریں |

کولکاتہ،24/جنوری (ایس او نیوز/یو این آئی) نیتاجی سبھاش چندر بوس کو یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کلکتہ کارپوریشن کے میئر و ریاستی وزیر فرہاد حکیم نے کہا کہ اگر آج نتیاجی سبھاش چندر بوس زندہ ہوتے تو ملک میں ”شہریت ترمیمی ایکٹ“ نافذ نہیں ہوتا۔

گزشتہ مہینے دسمبر میں پارلیمنٹ سے پاس شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہورہے ہیں۔ دہلی کے شاہین باغ،کلکتہ کے پارکس سرکس میدان، پٹنہ کے سبزی باغ اور لکھنو کے گھنٹہ گھر میں خواتین اس قانون کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔ حکمراں جماعت ترنمو ل کانگریس بی بنگال میں بڑے پیمانے پر احتجاج کررہی ہے جب کہ کانگریس اور بایاں محاذ بھی اس قانون کے خلاف مہم چلارہی ہیں۔

نیتا جی کی123ویں سالگرہ کے موقع پر میئر فرہاد حکیم نے کہا کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس مذہبی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت تھے۔ ان کے آزاد ہند فوج میں تمام فرقے اور مذاہب کے لوگوں کی نماندگی تھی۔ان کے دائیں طرف اگر ڈھلن تھے تو دوسری طرف شاہنواز خان تھے اگر وہ آج ہوتے تو یہ سی اے اے نہیں ہوتا۔میئر فرہاد حکیم نے کہا کہ جو لوگ شہریت ترمیمی ایکٹ کے ذریعہ ملک کو تقسیم کرنے کی سازش کررہے ہیں وہ نیتا جی کی بھی توہین کررہے ہیں۔

فرہاد حکیم نے کہا کہ سبھاش چندر بوس سے بنگالی عوام کا جذباتی رشتہ رہا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا نیتاجی کے حب الوطنی کے جذبے کو اگلی نسل میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے وزیر اعلیٰ نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ نیتاجی کے یوم پیدائش کو قومی تعطیل قرار دیا جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی: خفیہ بیورو کے افسر انکت شرما کا بہیمانہ قتل، لاش نالے سے برآمد

شمال مشرقی دہلی میں لوگ دہشت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس درمیان خفیہ بیورو (آئی بی) کے ساتھ کام کرنے والے ایک 26 سالہ نوجوان کی لاش شمال مشرقی دہلی واقع چاند باغ سے برآمد ہونے کے بعد لوگوں میں مزید خوف دیکھنے کو مل رہا ہے۔

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کا ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ، اسمبلی میں ہنگامہ

  اترپردیش اسمبلی میں بدھ کو سماج وادی پارٹی(ایس پی) نے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے مطالبے کے ساتھ ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے اسپیکر کو کارروائی کو ملتوی کرنی پڑی۔ جس کی وجہ سے وقفہ سوالات تقریباً 50 منٹوں تک متأثر رہا۔

دہلی کے موجودہ حالات پر ممتا بنرجی نے ’جہنم‘ کے عنوان سے لکھی نظم

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے دہلی میں حالیہ تشدد کے واقعات پر ’جہنم‘ کے عنوان سے ایک نظم اپنے فیس بک پر پوسٹ کی ہے جس میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تشدد کے واقعات میں اموات پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ہولی سے قبل خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے“۔

دہلی تشدد: مسجد پر لہرایا گیا بھگوا جھنڈا، پولیس نے 24 گھنٹے بعد بھی نہیں اتارا!

راجدھانی کے شمال مشرقی ضلع میں منگل کے روز شدید تشدد کے دوران اشوک نگر علاقے میں زبردست ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ اس دوران علاقے کی گلی نمبر 5 میں واقع ایک مسجد پر شرپسندوں نے حملہ کیا اور اسے پوری طرح تباہ کر دیا۔ اتنا ہی نہیں کچھ شرپسند عناصر نے مسجد کے مینار پر چڑھ کر وہاں بھگوا ...

سپریم کورٹ کے معاملہ کو ملتوی کرنے پر شاہین باغ کی مظاہرین کا رد عمل

 قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ کے روڈ کے معاملے میں سماعت کو 23 مارچ تک ملتوی کردینے کے بعد ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے معاملہ کو ملتوی کر دیا ہے، اگرچہ تاخیر کرنا مناسب نہیں۔