ریاست کے مختلف مہانگر پالیکا اور میونسپالٹی ، پنچایت کے انتخابی نتائج کا اعلان : منگلورو میں بی جےپی تو ڈاونگیرہ میں کانگریس

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 14th November 2019, 6:36 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بنگلورو:14؍نومبر(ایس اؤ نیوز)ریاست میں بی ایس یڈیورپا کی قیادت والی بی جےپی حکومت اقتدار سنبھالنےکےبعد ہوئے مقامی عوامی اداروں کے لئے 12 نومبر کو انتخابات ہوئے تھے ، جس کے نتائج 14نومبر کو اعلان کئے گئے۔ ظاہری طورپر ریاست کے جن مقامی اداروں  کے اعلان کئے گئے نتائج میں مہانگرپالیکا کے کل وارڈوں میں سے کانگریس 36وارڈوں پر تو بی جےپی 61وارڈوں پر جیت حاصل کی ہے ۔ اسی طرح میونسپالٹی اور پنچایتوں کے نتائج میں کانگریس کے 90سے زائد ممبران کامیاب ہوئے ہیں تو بی جےپی کے قریب 60اور جےڈی ایس کے قریب قریب 55ممبران نے جیت حاصل کی ہے۔  ریاست بھر میں جاری غیر یقینی صورت حال میں بی جےپی ، کانگریس اور جے ڈی ایس سمیت آزاد امیدواروں نے کس طرح کا مظاہرہ کیا ہے اس کا ایک خاکہ یہاں نقل کیاجارہاہے۔

ڈاونگیرہ مہا نگر پالیکا میں کانگریس اقتدار پر قابض ہوسکتی ہے تو منگلورو میں بی جےپی واضح اکثریت کے ساتھ جیت کا جشن منایا ہے۔ کنک پور، گوری بدنور بلدیہ میں کانگریس جیت حاصل کی ہے تو کولار، ملباگیلو اور چنتا منی  میونسپالٹی میں کسی پارٹی کو اکثریت حاصل نہ ہوکر مخلوط انتظامیہ کے اشارے ملے ہیں۔ بقیہ پٹن پنچایت وغیرہ میں ملے جلے نتائج حاصل ہوئےہیں۔

منگلورو:مہانگرپالیکا کے 60وارڈوں میں سے 44وارڈس پر جیت درج کرنے والی بی جےپی اقتدار پائی ہے۔ گزشتہ پر اقتدار پر قابض کانگریس یہاں ا س مرتبہ صرف 14نشستوں پر جیت حاصل کی ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے بھی 2سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔

ڈاونگیرہ:مہانگرپالیکا کے 22نشستوں پر جیت درج کرنےو الی کانگریس سب سے بڑی پارٹی کے طورپر ابھری ہے۔ بی جےپی 17سیٹوں پر سمٹ گئی ہے تو جے ڈی ایس نے ایک سیٹ پر جیتی ہے۔ 5نشستوں پر آزاد امیدوار وں نے جیت درج کی ہے۔ اس طرح یہاں مخلوط حالات پیدا ہوگئے ہیں.

مہا نگرپالیکا مئیر کے لئے تین ارکان اسمبلی اور ایک ایم پی سمیت کل 49ووٹ ہیں۔ کانگریس کے پاس دو ارکان ہیں تو بی جےپی کا  ایک ایم ایل اے اور ایک ایم پی ہے۔ پانچ آزاد امیدواروں میں ایک کانگریس کا باغی امیدوار ہے تو بی جے پی سے شناسائی رکھنے والے 2آزاد امیدواروں نے بھی جیت حاصل کی ہے۔ ظاہری طورپر یہاں کانگریس اقتدار پر آنے کے اشارے ہیں۔

کنک پور: کنک پور میونسپالٹی میں کانگریس نے واضح جیت درج کی ہے،19وارڈوں میں کانگریس، 4میں جے ڈی ایس اور پہلی مرتبہ بی جےپی نے ایک سیٹ پر جیت حاصل کی ہے۔ خیال رہے کہ انتخابات سے پہلے ہی 7وارڈوں سے کانگریس امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے۔

گوری بدنور: بلدیہ کے کل 31وارڈوں میں سے کانگریس 15، جے ڈی ایس 7، بی جےپی 3اور 6آزاد امیدواروں نے جیت حاصل کی ہے۔ اس طرح یہاں بھی کانگریس اقتدار پانے میں کامیاب ہوئی ہے۔

چنتا منی : یہاں جے ڈی ایس اور بھارتیہ پرجا پارٹی کو 14-14وارڈوں میں جیت حاصل ہوئی ہے۔ کانگریس 1اور آزاد 2نشستوں پر جیتے ہیں ۔ اس طرح یہاں میونسپالٹی کے اقتدارپر کون قابض ہونگے دیکھنا ہوگا۔

کولار: بلدیہ کے 35وارڈوں میں کسی کو بھی واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ 12میں کانگریس۔ 8میں جے ڈی ایس۔ 12میں آزاد اور 3میں بی جےپی نے جیت حاصل کی ہے۔ میونسپالٹی کااقتدار پانے کے لئے 18ممبران کی ضرورت ہے۔

مُلباگیلو: کولار ضلع کے ملباگیلو میونسپالٹی کے 10وارڈو ں میں جے ڈی ایس۔ 7میں کانگریس۔ 2میں بی جےپی اور 1پر ایس ڈی پی آئی نے جیت درج کی ہے اور 11وارڈوں پر آزادامیدوار جیت کر آئے ہیں۔ اس طرح 31ممبران پر مشتمل ملباگیلو بلدیہ میں اقتدار کے لئے بھاگ دوڑ ہونےو الی ہے۔

ماگڈی :یہاں بلدیہ کے لئے ہوئے انتخابات میں جےڈی ایس نے معمولی اکثریت حاصل کی ہے۔ کل 23وارڈوں میں سے 12 جے ڈی ایس۔10کانگریس اور ایک میں بی جےپی نے جیت درج کی ہے۔

بیرور: چک مگلورو ضلع کے بیرور میونسپالٹی میں بھی غیر یقینی صورت حال ہے۔ کل 22وارڈوں میں سے کانگریس اور بی جے پی کو فی کس 9۔جے ڈی ایس کو 2اور2پر آزاد امیدوار جیت حاصل کئے ہیں۔ 23میں سے ایک وارڈ پر بی جےپی بلامقابلہ اپنی جیت حاصل کرنے سے اس کے ممبران کی تعداد10ہوگئی ہے۔

کمپلی : میونسپالٹی کے انتخابات میں بی جےپی نے 23میں سے 13وارڈوں  پر جیت حاصل کرتےہوئے جیت کا پرچم لہرایا ہے۔ کانگریس 10نشستوں پر جیت درج کی ہے۔

کوڈلگی : پٹن پنچایت کے20وارڈوں کے لئے ہوئے انتخابات میں بی جے پی 7۔کانگریس 6۔جے ڈی ایس 4اور تین پر آزاد امیدوار وں نے جیت حاصل کی ہے۔ یہاں کسی بھی پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔

جوگ۔کارگل پنچایت :پٹن پنچایت کے اعلان کئے  گئے انتخابی نتائج میں سے بی جےپی 9، کانگریس ایک اور ایک آزاد امیدوار نے جیت درج کی ہے۔ یہاں بی جےپی کو معمولی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

دبئی سے 178 مسافر صحیح سلامت پہنچے بھٹکل؛ ہوٹل اور اسکول میں کیا گیا کورنٹائن

کورونا لاک ڈاون میں پھنسے دبئی کے 178 لوگ آج بدھ صبح صحیح سلامت بھٹکل پہنچ گئے جن میں 103 مرد حضرات کو  جامعہ آباد روڈ پر واقع علی پبلک اسکول میں کورنٹائن کیا گیا ہے تو وہیں 75 لوگوں کو جن میں زیادہ تر فیملیس اور بچے ہیں، پرائیویٹ ہوٹل میں کورنٹائن کیا گیا ہے۔

اُترکنڑا میں آج پھر کورونا کے 20 کیسس؛ بھٹکل کے ایک شخص کی مینگلور میں موت سمیت 13 پوزیٹیو

اُترکنڑا میں کورونا کے معاملات رُکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور ہرروز  کورونا سے متاثرہ لوگ یہاں سامنے آرہے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ضلع کے بھٹکل میں بھی کورونا پوزیٹیو معاملات  تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، ایک طرف ضلع میں 20 کورونا پوزیٹیو کے معاملات سامنے آئے ہیں تو اس میں ...

اُلال کے رکن اسمبلی یوٹی قادر سے ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ

جنوبی کینرا بنٹوال تعلقہ کے سجی پانڈو دیہات میں ہر سال بارش کے موسم میں گزشتہ 30 برسوں سے لوگوں کو ہمیشہ  پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ علاقہ اُلال کے رکن اسمبلی یوٹی قادر کے حلقہ میں آتا ہے اور یہاں مسلمانوں کی کثیر آباد ی ہے۔

منگلورو۔کاسرگوڈ سرحد پر مسافروں کیلئے پریشانی

ریاست میں گزشتہ ماہ اپریل سے ہی کورونا وائرس پھیلنے کے نتیجہ میں کیرالہ ۔ کرناٹک کی سرحد پر واقع کاسرگوڈ اور منگلورو کے درمیان روازنہ ملازمت اور تعلیم کے سلسلہ میں آنے جانے والے لوگوں کیلئے ہر دن نت نئی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔

کاروار اسپتال سے 12 مزید لوگ ڈسچارج

بھلے ہی  ضلع اُترکنڑا میں کورونا پوزیٹیو کے معاملے ہر روز سامنے آرہے ہوں، لیکن کاروار اسپتال میں ایڈمٹ کورونا کے متاثرین  روبہ صحت ہوکر ڈسچارج ہونے کا سلسلہ بھی برابر جاری ہے۔

اُترکنڑا میں پھر 36 کورونا پوزیٹیو؛ بھٹکل میں بھی کورونا کے بڑھنے کا سلسلہ جاری؛ آج ایک ہی دن 19 معاملات

اُترکنڑا میں کورونا کے معاملات میں روز بروز اضافہ کا سلسلہ جاری ہے اور آج منگل کو بھی ضلع کے مختلف تعلقہ جات سے 36 کورونا کے معاملات سامنے آئے ہیں جس میں صرف بھٹکل سے پھر ایک بار سب سے زیادہ  یعنی 19 معاملات سامنے آئے ہیں۔ کاروار میں 6،  ہلیال میں 3،  کمٹہ، ہوناور ...

اُلال کے رکن اسمبلی یوٹی قادر سے ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ

جنوبی کینرا بنٹوال تعلقہ کے سجی پانڈو دیہات میں ہر سال بارش کے موسم میں گزشتہ 30 برسوں سے لوگوں کو ہمیشہ  پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ علاقہ اُلال کے رکن اسمبلی یوٹی قادر کے حلقہ میں آتا ہے اور یہاں مسلمانوں کی کثیر آباد ی ہے۔

منگلورو۔کاسرگوڈ سرحد پر مسافروں کیلئے پریشانی

ریاست میں گزشتہ ماہ اپریل سے ہی کورونا وائرس پھیلنے کے نتیجہ میں کیرالہ ۔ کرناٹک کی سرحد پر واقع کاسرگوڈ اور منگلورو کے درمیان روازنہ ملازمت اور تعلیم کے سلسلہ میں آنے جانے والے لوگوں کیلئے ہر دن نت نئی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔

کرناٹک میں کووڈ۔19 کمیونٹی پھیلاؤ کا کوئی امکان نہیں، مرکزی ٹیم کا چیف منسٹر و عہدیداروں کے ساتھ تبادلہ خیال؛ سری راملو کی پریس کانفرنس

کرناٹک نے منگل کے روز مرکز ی ٹیم کو بتایا کہ ریاست میں کووڈ۔19 کے کمیونٹی پھیلاؤ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ریاستی وزیر صحت و خاندانی بہبود بی سری راملو نے میڈیا سے کہا ’’ ہم نے یہ واضح کردیا ہے کہ یہاں کمیونٹی پھیلاؤ کا امکان نہیں ہے۔ ہم ، دوسرے اور تیسرے مرحلہ کے درمیان ہیں‘‘۔

کرناٹک میں کورونا کا قہر جاری؛ پھر 1498 نئے معاملات، صرف بنگلور سے ہی سامنے آئے 800 پوزیٹیو

کرناٹک میں کورونا کا قہر جاری ہے اور ریاست  میں روز بروز کورونا کے معاملات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، ریاست کی راجدھانی اس وقت  کورونا کا ہاٹ اسپاٹ بنا ہوا ہے جہاں ہر روز  سب سے زیادہ معاملات درج کئے جارہے ہیں۔ آج منگل کو پھر ایک بار کورونا کے سب سے زیادہ معاملات بنگلور سے ہی ...

کورونا: ہندوستان میں ’کمیونٹی اسپریڈ‘ کا خطرہ، اموات کی تعداد 20 ہزار سے زائد

  ہندوستان میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے معاملوں کے درمیان کمیونٹی اسپریڈ یعنی طبقاتی پھیلاؤ کا  اندیشہ بڑھتا نظر آرہا ہے۔ بالخصوص کرناٹک  میں کورونا انفیکشن کے کمیونٹی اسپریڈ کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ کرناٹک کے علاوہ گوا، پنجاب و مغربی بنگال کے نئے ہاٹ اسپاٹ بننے کے ...

منگلورو:گروپور میں منڈلارہا ہے مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ۔ قریبی گھروں کو کروایا گیاخالی۔ مکینوں میں مایوسی اور دہشت کا عالم

گروپور میں اتوار کے دن بنگلے گُڈے میں پہاڑی کھسکنے سے جہاں  تین  مکان زمین بوس اور دو بچے، صفوان (16سال) اور سہلہ (10سال) جاں بحق ہوگئے تھے وہاں پر مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ لوگوں کے سر پر منڈلا رہا ہے۔