سری لنکا: صدر گوٹابایا کا قوم سے خطاب، راج پکشے خاندان سے کابینہ میں کوئی نہیں ہوگا

Source: S.O. News Service | Published on 12th May 2022, 12:40 PM | عالمی خبریں |

کولمبو،12؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی)  سری لنکا میں پرتشدد مظاہروں کے درمیان کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور تشدد کے مرتکب افراد کو گولی مارنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس دوران سری لنکا کے صدر گوٹابایا راج پکشے نے قوم سے دوسرے مرتبہ خطاب کیا، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر نئی حکومت تشکیل دی جائے گی اور نئے وزیراعظم کی تقرری کے ساتھ کابینہ کا بھی انتخاب کر لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگلی حکومت میں راج پکشے خاندان سے کوئی نہیں ہوگا۔

صدر گوٹابایا نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ جس کے پاس اکثریت ہوگی، اس کی حکومت بنے گی اور کابینہ کے وزرا کا انتخاب بھی اس کے بعد کیا جائے گا۔ ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے صدر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تشدد میں ملوث نہ ہوں اور احتجاج کرنا بند کریں۔ سری لنکا کے صدر راج پکشے نے کہا کہ ایوان کو مزید اختیارات دینے کے لیے پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم پیش کی جائے گی۔

صدر نے کہا کہ ملک میں حکومت بننے کے بعد استحکام آئے گا۔ اس کے لیے تمام فریقین سے بات چیت کی جائے گی اور مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عوام اور املاک کو بچانے کے لیے سب کا تعاون ضروری ہے۔ تشدد پر بات کرتے ہوئے گوٹابایا نے کہا کہ وہ گزشتہ ہفتے شروع ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ اس معاملے کی انکوائری کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ تشدد، قتل و غارت، آتش زنی، تخریب کاری اور ایسی کسی بھی کارروائی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سری لنکا کے صدر گوٹابایا راج پکسے نے اپنے تمام شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ لوگوں کو نسلی اور مذہبی تفریق کی طرف دھکیلنے کی "تخریب انگیز کوششوں" کو مسترد کریں۔خطاب سے قبل صدر راج پکسے نے ٹویٹ کیا، "اس بحران کے دوران، یہاں کے تمام شہریوں کو ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ ہم تمام معاشی، سماجی اور سیاسی چیلنجوں پر قابو پا سکیں۔"

راج پکسے نے کہا، "میں سری لنکا کے تمام شہریوں سے تحمل، رواداری اور بقائے باہمی کو فروغ دینے کی اپیل کرتا ہوں، اور ساتھ ہی ساتھ انہیں نسلی اور مذہبی تفریق کی طرف دھکیلنے کی تخریبی کوششوں کو بھی مسترد کرتا ہوں۔"

سری لنکا کے صدر نے ایک ایسے وقت میں اپنے شہریوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے جب سری لنکا کے عوام کو گزشتہ چند ماہ سے خوراک، ایندھن اور ادویات سمیت ضروری اشیاء کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ معاشی بحران کا شکار سری لنکا میں دو روز گزرنے کے بعد بھی حکومت نواز اور حکومت مخالف تشدد جاری ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

روس-یوکرین جنگ کے سبب عالمی غذائی بحران کا اندیشہ، لاکھوں لوگ نقص تغذیہ کے ہو سکتے ہیں شکار!

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملہ سے جلد ہی عالمی غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے جو سالوں تک بنا رہ سکتا ہے۔ جنرل سکریٹری انٹونیو گٹیرس نے کہا کہ بڑھتی قیمتوں کے سبب غریب ممالک میں جنگ نے غذائی بحران کو بڑھا دیا ہے۔

سری لنکا: سمندر کے ساحل پر دو مہینے سے کھڑا ہے پٹرول سے لدا جہاز، حکومت کے پاس خریدنے کے لئے نہیں ہے پیسے !

سری لنکا  نے بدھ کے روز کہا کہ پٹرول سے لدا جہاز تقریباً دو ماہ سے اس کے ساحل پر کھڑا ہے لیکن اس کے پاس ادائیگی کے لیے غیر ملکی کرنسی نہیں ہے۔ سری لنکا نے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ایندھن کے لیے قطار میں کھڑے ہو کر انتظار نہ کریں۔ تاہم سری لنکا کی حکومت نے کہا کہ ملک کے پاس ...

مہندا راج پکشے اور ان کے 15 ساتھی ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے: عدالت

سری لنکا اب تک کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ اس سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی پر ملک گیر مظاہروں کے درمیان صدر گوٹابایا راج پکشے نے کل قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ جلد نئی حکومت اور وزیراعظم کا اعلان کریں گے۔

بحران میں مبتلا سری لنکائی باشندوں کی ہندوستان میں دراندازی کا اندیشہ، تمل ناڈو پولیس الرٹ

سیاسی اور معاشی بحران میں مبتلا سری لنکا میں ہر طرف تشدد کا ماحول ہے۔ وہاں کے کئی شہریوں کے ذریعہ ہندوستان میں دراندازی کے اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اسے روکنے کے لیے تمل ناڈو کی ساحلی پولیس ہائی الرٹ پر ہے۔