سری لنکا میں عوام کی حالت انتہائی خستہ، ہری مرچ 700 روپے اور آلو 200 روپے کلو

Source: S.O. News Service | Published on 11th January 2022, 11:04 PM | عالمی خبریں |

کولمبو،11؍جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) سری لنکا میں عوام مہنگائی سے بری طرح پریشان ہیں۔ سری لنکا معاشی طور پر بحران کا سامنا کر رہا ہے اور اس درمیان وہاں سبزیوں اور دوسرے سامانوں کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ سری لنکا کے ایڈووکاٹا انسٹی ٹیوٹ نے مہنگائی کو لے کر ایک اعداد و شمار جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں ایک مہینے کے اندر 15 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ سبزیوں کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ بتائی جا رہی ہے۔

ایڈووکاٹا انسٹی ٹیوٹ کا ’باتھ کری انڈیکیٹر‘ (بی سی آئی) سری لنکا میں خوردہ اشیاء کی مہنگائی کو لے کر اعداد و شمار جاری کرتا ہے۔ بی سی آئی نے بتایا ہے کہ نومبر 2021 سے دسمبر 2021 کے درمیان خوردنی اشیاء کی قیمتوں کی مہنگائی 15 فیصد بڑھی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ سری لنکا میں 100 گرام ہری مرچ کی قیمت جہاں 18 روپے تھی، وہیں اب یہ بڑھ کر 71 روپے ہو گئی ہے۔ یعنی ایک کلو ہری مرچ کی قیمت 710 روپے ہو گئی ہے۔ ایک ہی مہینے میں مرچ کی قیمت میں 287 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح بینگن کی قیمت میں 51 فیصد، لال پیاز کی قیمت میں 40 فیصد اور بینس و ٹماٹر کی قیمتوں میں 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں کو ایک کلو آلو کے لیے 200 روپے کی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے۔ سری لنکا میں درآمد نہ ہو پانے کی وجہ سے دودھ پاؤڈر کی بھی کمی ہو گئی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 2019 کے بعد سے قیمتیں تقریباً دوگنی ہو گئی ہیں اور دسمبر 2020 کے مقابلے میں قیمتوں میں 37 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چار لوگوں کی اوسط فیملی، جنھوں نے دسمبر 2020 میں خوردنی اشیاء پر ہفتہ میں 1165 روپے خرچ کیے تھے، انھیں اب اتنے ہی سامان کے لیے 1593 روپے کی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے۔

بڑھتی مہنگائی کے سبب عوام بے حد پریشان ہے اور لوگوں کو بھر پیٹ کھانا تک نصیب نہیں ہو رہا ہے۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور انورُدّا پرانگما نے برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ سے بتایا کہ ان کی فیملی اب تین کی جگہ دو وقت کا کھانا ہی کھا پا رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’’میرے یے گاڑی کا قرض ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ بجلی، پانی اور کھانے پینے کے خرچ کے بعد کچھ بچتا نہیں ہے کہ گاڑی کا قرض ادا کر سکوں۔ میری فیملی تین بار کی جگہ دو بار ہی کھانا کھا پا رہی ہے۔‘‘

خوردنی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کے مدنظر سری لنکائی صدر گوٹابایا راجپکشے نے ملک میں معاشی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے تحت فوج کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ یہ یقینی کرے کہ کھانے پینے کی چیزیں عام لوگوں کو اسی قیمت پر ملے جو حکومت نے طے کیے ہیں۔ سری لنکا کی بدحالی کے کئی اسباب ہیں جن میں کووڈ وبا، بڑھتا سرکاری خرچ اور ٹیکس میں جاری تخفیف شامل ہے۔ کووڈ نے سری لنکا کے سیاحتی کاروبار کو تقریباً تباہ کر دیا ہے۔ سرکاری خزانہ خالی ہے اور سری لنکا پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

سعودی حکومت کا ایسا اصول جس کے سبب 10 لاکھ سے زائد غیر ملکیوں نے ملازمت چھوڑ دی

  مملکت سعودی عرب میں 2018 کے آغاز سے 2021 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک 45 ماہ کے اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زائد غیر ملکی ملازمین اپنی ملازمتیں چھوڑ آئے۔ سعودی میڈیا کے مطابق ملازمین کی یہ تعداد ملک میں غیر ملکی ملازمین کی کل تعداد کا 10 فیصد ہے۔

ایئر انڈیا نے کیا 5 جی معاملہ پر امریکہ کے لئے پروازوں میں تخفیف کا اعلان

ایئرانڈیا سمیت کئی بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں نے 5جی موبائل فون سروس اور پیچیدہ ہوا بازی ٹیکنالوجیز کے درمیان مداخلت کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کے باعث بدھ سے امریکہ کے لیے پروازیں بند کر دی ہیں۔ ایئر انڈیا نے کہا کہ اس نے دہلی سے امریکہ میں سان فرانسسکو، شکاگو اور جے ایف کے ...

امیکرون کے بعد مزید نئے ویرینٹ کا امکان: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہنوم گیبریئس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس وبائی مرض ختم نہیں ہوا ہے اور اومیکرون کے بعد بھی نئی شکلیں سامنے آنے کا امکان ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کی وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہ دلائل دیے جا رہے ہیں کہ ...

’کورونا سے شفایاب ہونے کے بعد بھی کئی لوگوں کو مہینوں تک آرام نہیں!‘ 40 فیصد افراد کو کسی نہ کسی مسئلہ کا سامنا

دنیا بھر میں کورونا سے شفایاب ہونے والے افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس سے شفایاب ہونے کے بعد بھی مہینوں تک لوگوں کو آرام نہیں ملتا اور وہ کووڈ کے بعد کی پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نومبر 2021 میں گئی تحقیق کے بعد کہا گیا کہ دنیا ...

ہندوستان میں مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں، کورونا کو روکنے کیلئے موجودہ اقدامات کافی، مکمل لاک ڈاؤن سے فائدے کم، نقصانات زیادہ:ڈبلیو ایچ او

ہندوستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے بڑھتے ہوئے کیسوں کے باوجود فی الحال مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ضرورت نہیں ہے- یہ بات ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیو ایچ او)نے کہی -