کرناٹک کے اسپیکر کا دو ٹوک فیصلہ،ابھی کسی کا استعفیٰ قبول نہیں کروں گا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th July 2019, 11:44 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو 10جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کرناٹک میں سیاسی گھمسان عروج پر پہنچ گیا ہے۔ بدھ کو کانگریس کے دو اور ممبران اسمبلی نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان ممبران اسمبلی کے نام ہے کے سدھاکر اور ایم ٹی بی ناگراج. اس کے ساتھ ہی کرناٹک کی کمار سوامی حکومت سے استعفیٰ دینے والے ممبران اسمبلی کی تعداد 16 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 13 کانگریس کے ممبر اسمبلی ہیں اور 3 جنتا دل سیکولر کے ایم ایل اے ہیں۔

حکومت کی حمایت میں موجود ممبران اسمبلی کی تعداد اب 101 رہ گئی ہے۔ بی جے پی کا دعوی ہے کہ اسے 107 ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔اس دوران کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر  نے کہا کہ انہوں نے کسی کا استعفیٰ اب تک قبول نہیں کیا ہے۔ کرناٹک کے اسپیکر نے کہا کہ میں نے کوئی استعفیٰ قبول نہیں کیا ہے، میں اسے راتوں رات نہیں کر سکتا ہوں، میں نے انہیں 17 جولائی  تک کا وقت دیا ہے۔ میں  قانونی طریقہ کار کا مطالعہ کروں گا پھر فیصلہ کروں گا۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں قانون اپنا کام کرے گا، اور کسی کے لئے بھی قانون کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران بدھ کو اسمبلی میں جم کر ہنگامہ ہوا۔ ممبر اسمبلی کے سدھاکر نے جیسے ہی استعفیٰ دیا، انہیں کانگریس کے رہنماؤں اور اراکین اسمبلی نے گھیر لیا اور اپنے چیمبر میں لے گئے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو۔بنگلوروٹریک پرچٹان توڑنے کا کام مسلسل جاری۔ دن کے وقت چلنے والی ریل گاڑیاں 24جولائی تک کے لئے منسوخ

انی بندا کے قریب سبرامنیا سکلیشپور ریلوے ٹریک پر ایک بڑی چٹان لڑھکنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ اس حادثے کو روکنے کے لئے پہاڑی تودے کو دھماکے سے توڑنے کاکام پچھلے دو تین دن سے جاری ہے جس کے لئے ہیٹاچی مشین کے کامپریسر اور بارود کا استعمال کیا جارہا ہے۔ لیکن تیز برسات کی وجہ سے دن ...

کرناٹک: بی ایس پی ارکان اسمبلی کمارسوامی کے حق میں ووٹ کریں گے:مایاوتی

کرناٹک میں کانگریس اورجے ڈی ایس کی مخلوط حکومت رہے گی یا جائے گی اس کا فیصلہ آج ہو جائے گا ۔ برسر اقتدار اتحاد کے ارکان اسمبلی کو بی جے پی ٹوڑنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس بیچ بی ایس پی سپریموں نے کہا ہے کہ اس کی پارٹی کے ارکان اسمبلی کمارسوامی حکومت کے حق میں ہی ووٹ ڈالیں گے ۔ یہ ...

مخلوط حکومت کی بقا کا سسپنس برقرار آج بھی اسمبلی میں تحریک اعتماد پر ووٹنگ کا امکان،باغیوں کو واپس لانے کیلئے سدارامیا کو وزیر اعلیٰ بنانے کی پیش کش

ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کوبچانے کے لئے اتحادی جماعتوں کے قائدین کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف اپوزیشن بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح پیر کے روزتحریک اعتماد پر اسمبلی میں ووٹنگ ہو جائے لیکن خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں