ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد سے وزیراعظم نالاں

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 15th April 2019, 1:52 AM | ملکی خبریں |

مرادآباد:14 /اپریل(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو ایس پی۔بی ایس پی اتحاد پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ ان کے پاس ملک کے لیے کوئی وژن نہیں ہے۔ وہ صرف اپنے ذاتی مفادکے لیے غریبوں کے ووٹوں کو ٹرانسفر اور فروخت کرر ہے ہیں۔مسٹر مودی نے ہاتھی اورسائیکل پر طنز کستے ہوئے کہا کہ کیا کبھی آپ نے کسی ہاتھی کو سائیکل پر سوار ہوتے ہوئے دیکھا ہے ؟لیکن اب ایسا ہورہا ہے۔اب وہ لوگ چوکیدار کو ہدف تنقید بنارہے ہیں۔مایاوتی۔اکھلیش اور کانگریس بھی مجھے گالیاں دے رہے ہیں۔ مجھے دودہائیوں سے گالیاں پڑر ہی ہیں میں گالی پروف ہوں۔انتخابی میٹنگ سے یہاں خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے ایس پی۔بی ایس پی سے محتاط رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ ایس پی۔ بی ایس پی کی اس سازش کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ صرف40سیٹوں پر ہی انتخابات لڑر ہے ہیں۔ اس کے باوجود مرکز میں حکومت بنانے کا دعویٰ کرر ہے ہیں۔یہ کسی بھی حالت میں حکومت نہیں بنا سکتے۔ ان کا واحد مقصد غریبوں کا ووٹ ایک دوسرے کو فروخت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی۔بی ایس پی نے ابھی تک ملک کے لیے اپنا کوئی وژن نہیں پیش کیا ہے۔ جب ان کے پاس بہتر ہندوستان کے لئے کوئی وڑن نہیں ہے پھروہ ملک کو ترقی کی جانب کیسے لے جائیں گے۔کسی کا نام لیے بغیر اتحاد کے امیدواروں پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاایک امیدوار کا ’’وندے ماترم کہنے پر تحفظ ہے تو وہیں دوسرے نے اپنی یونیورسٹی بنانے کے لیے دلتوں کی زمین ہڑپ لی ہے۔ملک کے ذریعہ دہشت گردی کے خلاف کئے گئے اقدام کا تذکرہ کرتیہوئے انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کی خارجہ پالیسیوں نے ہندوستان کو نئے اتحادیوں سے متعارف کرایا ہے۔جب ہم نے سرجیکل اسٹرئیک کا فیصلہ کیا تو سبھی ہمارے ساتھ تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

الیکشن کمیشن کا حلف نامہ - گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات قانون کے مطابق، کمزور پڑ رہی کانگریس 

گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر کانگریس کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے حلف نامہ داخل کیا ہے الیکشن کمیشن نے دو سیٹوں پر الگ الگ انتخابات کرانے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔

بی ایس این ایل کی حالت خراب؛ ملازمین کو جون کی تنخواہ دینے کے لیے نہیں ہیں رقم

رکاری ٹیلی کام کمپنی بی ایس این ایل نے حکومت کو ایک خط  بھیجا ہے، جس میں کمپنی نے آپریشنز جاری رکھنے میں تقریبا نااہلی ظاہر کی ہے۔کمپنی نے کہا ہے کہ رقم میں  کمی کے سبب کمپنی کے ملازمین کو  جون ماہ کی تنخواہ  تقریبا 850 کروڑ روپے  دے پانا مشکل ہے۔کمپنی پر ابھی قریب 13 ہزار کروڑ ...