میڈیاٹرائل عدلیہ کے کام میں مداخلت کے مترادف، ری پبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کی رپورٹنگ توہین آمیز: تاہم کسی بھی کارروائی سے اجتناب

Source: S.O. News Service | Published on 19th January 2021, 10:28 AM | ملکی خبریں |

ممبئی،19؍جنوری (ایس او نیوز؍یو این آئی) اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت سے متعلق معاملے میں ممبئی پولیس کی شبیہ کو خراب کرنے والے ریپبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کی کوریج آج بامبے ہائی کورٹ نے بادی النظر میں توہین آمیز قرار دیا، تاہم اس ضمن میں کسی بھی کاروائی سے اجتناب کرتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ مستقبل میں کی جانے والی تحقیقات کی رپورٹنگ کیلئے رہنما اصول جاری کیے جائیں گے -

بامبے ہائی کورٹ نے بالی ووڈ اداکار، سوشانت سنگھ راجپوت کیس کی موت سے متعلق رپورٹس کے تناظر میں میڈیا ٹرائل کے خلاف دائر عوامی مفادات کی درخواستوں کی سماعت کے بعد6نومبر2020کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا- آج اس مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس جی ایس کلکرنی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مشاہدہ کیا کہ میڈیا کو مجرمانہ تفتیش سے متعلق مباحثوں سے گریز کرنا چاہئے اور عوامی مفاد میں ایسے معاملات میں صرف معلوماتی رپورٹس تک ہی محدود رہنا چاہئے -

عدالت نے ریپبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کی کوریج کو بادی النظر میں توہین آمیز قرار دیا ہے تاہم، بینچ نے نیوز چینلز کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے گریز کیا -اور صرف مستقبل میں رپورٹنگ کیلئے رہنما اصول جاری کرنے کی بات کی ہے -گذشتہ چھ ماہ کے دوران اس معاملے کی سماعت کے دوران، ہائی کورٹ نے”میڈیا ٹرائل“کے عمل پر تشویش کا اظہار کیا ہے - اس نے میڈیا سے کہا کہ وہ اپنی حدود کو عبور نہ کریں، اور اشارہ کیا کہ وہ رہنما اصول اور ہدایت نامہ مرتب کرے گا-

واضح ریے کہ، بنچ نے ریپبلک ٹی وی کی نمائندگی کرنے والے وکیلوں سے کہا تھا کہ اگر آپ ہی تفتیشی آفیسر، استغاثہ اور جج بن جاتے ہیں تو ہمارا کیا فائدہ؟ ہم یہاں کیوں ہیں؟اور عوام سے یہ پوچھنا کہ کس کو گرفتار کیا جائے، کیا یہ تحقیقاتی صحافت کیا ہے؟-بامبے ہائی کورٹ نے سوشانت سنگھ راجپوت میں میڈیا ٹرائل کیس میں ریپبلک ٹی وی کے وکیل ایڈوکیٹ مالویکا تریویدی سے پوچھا تھا کہ کیا یہ تحقیقاتی صحافت کا حصہ ہے؟ عوام سے ان کے بارے میں رائے پوچھنا کہ کون گرفتار کیا جائے؟ جب کسی معاملے کی تفتیش جاری ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ آیا وہ قتل ہے یا خودکشی؟ جس پر ایک چینل کہہ رہا ہے کہ یہ قتل ہے، کیا یہ تحقیقاتی صحافت ہے؟-

بنچ نے چینل کے وکیل کو بتایا کہ پولیس کو سی آر پی سی کے تحت تفتیشی اختیارات دیئے گئے ہیں -میڈیا ٹرائل کیس کی سماعت کے دوران، بمبئے ہائی کورٹ نے کہا کہ میڈیا میں اب انتہائی درجہ کی صف بندی ہوگی ہے، ماضی میں صحافی حضرات ذمہ دار اور غیر جانبدار ہوا کرتے تھے -

ایک نظر اس پر بھی

پرشانت کشور نے پھر ممتا کی فتح کو یقینی قرار دیا، یہ چیلنج بھی دہرایا کہ زعفرانی پارٹی بنگال میں 2ہندسی عدد پار نہیں کرپائیگی

انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی ممتا بنرجی کی انتخابی مہم کی حکمت عملی تیار کرنے والے پرشانت کشور نے اپنے اس  چیلنج کو دہرایا ہے کہ مغربی بنگال میں ایک بار پھر ممتا بنرجی ہی اقتدارمیں واپس آئیں گی۔

کانگریس کی کمزوری پر سینئر لیڈروں کا درد پھر چھلک آیا، قیادت سے نالاں، کانگریس میں نئی جان پھونکنے کی ضرورت‘جموں میں منعقدہ ’شانتی سمیلن‘ سے سینئر کانگریس لیڈروں کا خطاب

آل انڈیا کانگریس پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں نے آج کہا ہے کہ پارٹی گزشتہ ایک دہائی کے دوران بہت کمزور ہوگئی ہے اور اسے واپس ڈگر پر لانے کے لئے متحد ہوکر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

مہاراشٹر میں کورونا کاقہر، ایک دن میں8623 نئےکیسز

ملک میں کورونا وبا سے سب سے زیادہ سنگین طور پر متاثر مہاراشٹرمیں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک بار پھر سے 8000 سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے اور فعال کیسز میں 4900 سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا جو ملک میں سب سے زیادہ ہے۔