ضلع شمالی کینرا میں وبائی صورت اختیار کرنے والی چمڑی کی بیماری۔ علاج کارگر نہ ہونے سے عوام پریشان

Source: S.O. News Service | Published on 25th September 2019, 12:51 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 25/ستمبر (ایس او نیوز) محکمہ صحت کی طرف سے یوں تو وبائی امراض پر قابو پانے کے لئے مختلف پروگرا م اور اسکیمیں موجود ہیں۔ اس میں چمڑی کے امراض میں صرف جذام (کوڑھ/لیپرسی)کے علاج اور روک تھام کی گنجائش ہے۔

لیکن ادھر پچھلے کچھ عرصے سے پورے ضلع میں چمڑی کی ایک نئی بیماری وبا کی صورت میں پھیل گئی ہے جو دیکھنے میں تو معمولی داد اور خارش یا ایکزیما دکھائی دیتی ہے، مگر اس پر دوائیوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ جسم پر پھیلتی چلی جاتی ہے۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے عوام کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کو اس مرض کے بارے میں بھی جائزہ لینے اور اسے وبائی امراض میں شامل کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لئے منصوبے بناناچاہیے۔

اس مرض میں جسم کے مختلف حصوں پر لال اور گول چکتّے (rashes) ابھر آتے ہیں اور ان میں تیز کھجلی شروع ہوجاتی ہے۔ اکثر وبیشتر مریض دواؤں کی دکان پر جاکرداد اور خارش کے عام مرہم خود ہی خرید لیتے ہیں جس میں شامل ایک سے زائد قسم کی دواؤں میں اسٹیرائڈ (کلوبیٹاسول، بیکلومیتھازون وغیرہ) بھی ملی ہوئی ہوتی ہے۔ اس سے وقتی طور پر کچھ راحت ملتی ہے مگر کچھ ہی دنوں بعد یہ مرض پھر سے تازہ ہوجاتا ہے اور پہلے سے زیاد ہ بڑے حصے پر پھیل جاتا ہے۔ جوں جوں دوائیاں لی جاتی ہیں، اور اسٹیرائڈ والے عام مرہم لگائے جاتے ہیں اس میں مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

 ڈاکٹروں کے لئے یہ نئی بیماری بڑا سردرد بن گئی ہے۔اس کی اصل وجوہات کے بارے میں کوئی بھی قطعی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ماحولیاتی اثرات، جسم میں کم ہوتی ہوئی مدافعتی قوت(امیونیٹی)، غذا میں ہر سطح پر استعمال ہونے والے کیمیکل، فضائی آلودگی جیسے اسباب پر غور کیا جارہا ہے مگر کسی ایک سبب کی نشاندہی ہونہیں پائی ہے۔

 ماہرین امراض جلد کا کہنا ہے کہ یہ ایک فنگل انفیکشن ہے، اور آج کل پورے ملک میں یہ ایک وبائی صورت اختیار کرگیا ہے۔ اکثر جنرل ڈاکٹرز اسے ایکزیما یا dermatitisسمجھ لیتے ہیں اور اسی انداز سے علاج کرتے ہیں۔ مگر اب یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اسٹیرائڈوالے مرہم کے استعمال سے حالیہ دنوں میں جلد کو لاحق ہونے والے مرض کے فنگس کو ختم کرنے کے بجائے اس کی افزائش میں مدد مل رہی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ مرض بار بار نمودار ہورہا ہے۔ اس میں بچے، بوڑھے، خواتین مرد سبھی مبتلا ہوگئے ہیں اور علاج کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔جہاں چمڑی کے امراض کے ماہر ڈاکٹر موجود نہیں ہیں وہاں پر لوگ یاتو جنرل ڈاکٹرز کے پاس جاتے ہیں یا پھر خود ہی دکانوں سے مرہم اور گولیاں خرید کر اپنا علاج خود ہی کرنے لگتے ہیں جس سے یہ مرض اور بھی پیچیدہ ہوتاجارہا ہے۔

 لہٰذا امراض کے جلد کے بہت سے ماہرین نے اسٹیرائڈ والے مرہموں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے اور معالجین کوبھی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ برسہابرس سے جلدی امراض میں استعمال کیے جارہے تمام کارٹیکو اسٹیرائڈوالے مرہموں سے پرہیز کریں۔

جن لوگوں کو یہ مرض لاحق ہوا ہے ان کے لئے صحیح علاج بہت ضروری ہے جس کا فیصلہ ماہرڈاکٹرہی کرسکتے ہیں۔ اس میں اینٹی فنگل گولیاں اور بغیر کامبی نیشن اوربغیر اسٹیرائڈ والے مرہم شامل ہیں۔ اس کے لئے موجودہ حالات میں ماہرین امراض جلد نے جس قسم کی گولیوں اور مرہم کو درست قرار دیا ہے اس کا خرچ البتہ مریض کی جیب پر بھاری پڑتا ہے، کیونکہ گولیاں کافی مہنگی ہیں اور علاج کو مختلف مرحلوں میں کافی لمبے عرصے تک دہرانا پڑسکتا ہے۔اس کے علاوہ علاج کے دوران گوشت، انڈے، بعض قسم کی مچھلیوں اور جھینگے وغیرہ سے پرہیزکرنے سے مرض پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ساحلی علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کا اہم مرکزبننے جارہا ہےانکولہ شہری ہوائی اڈہ، بندرگاہ اور انڈسٹریل ایسٹیٹ کے تعمیری کام سے بدل رہا ہے نقشہ

آج کل  شمالی کینرا کے شہر انکولہ میں بڑے اہم سرکاری منصوبہ جات پر کام شروع ہورہا ہے جس کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ  مستقبل قریب میں یہاں کا نقشہ ہی بدل جائے گا اور پورے ساحلی علاقے انکولہ شہر کاروباری سرگرمیوں کا اہم مرکز بن جائے گا اور پورے ملک کی توجہ اپنی طرف کھینچ لے گا،جس سے ...

بھٹکل میں اے سی کے ذریعے دکانوں کو بند کرنے کا معاملہ؛ مرچنٹ اسوسی ایشن کی درخواست پر کاغذات دُرست کرانے تین ہفتوں کی ملی مہلت

بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر مسٹر بھرت نے  آج بھٹکل مرچنٹ اسوسی ایشن کی درخواست پر بھٹکل کے دکانداروں کو تین ہفتوں  کی مہلت دی ہے کہ وہ اس مدت میں  اپنے کاروبار کا لائسنس بنائے یا جن کے پاس لائسنس ہے وہ اپنا لائسنس رینیو کرائے۔ اگر دی گئی مہلت میں دکاندار اپنے کاغذات  کو تیار نہیں ...

منگلورو میں سڑک کی تعمیر نو کے وقت دریافت ہواایک صدی پرانا تاریخی کنواں !

منگلورو سمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت ہمپن کٹّا کے علاقے میں سڑک کی تعمیر نو کے لئے کھدائی  کے دوران ایک صدی پرانا تاریخی کنواں  دریافت ہو اہے۔  اور تعجب کی بات ہے کہ ابھی بھی اس کنویں کا پانی بہت ہی صاف و شفاف ہے اور کنواں اچھی حالت میں موجود ہے۔

بھٹکل لائن اسپورٹس ہال میں میونسپل حکام کی عوام کے ساتھ میٹنگ؛ مچھروں کی بھرمار پر قابو پانے سمیت کئی ایک مسائل پر ہوا غورو خوض

بھٹکل فاروقی اسٹریٹ پر واقع لائن اسپورٹس ہال میں منعقدہ میونسپالٹی حکام کی عوام کےساتھ ہوئی میٹنگ میں  علاقہ میں مچھروں کی بھرمار پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  مچھر مار دوائیوں کے چھڑکاو پر زور دیا گیا، اسی طرح ڈرینیج سسٹم کی درستگی سمیت دیگر کئی اہم مسائل پر بھی  غوروخوض ...

کاروار: سمندر میں غذاکی کمی سے  مچھلیوں کی افزائش اورماہی گیری کا کاروبار ہورہا ہے متاثر۔ ۔۔۔۔۔ایک تجزیاتی رپورٹ 

ساحلی علاقے میں مچھلیوں کی افزائش میں کمی سے اس کاروبار پر پڑنے اثرا ت کے بارے میں مختلف ماہرین نے اپنے اپنے اندازمیں تبصرہ اور تجزیہ کیا ہے۔کاروار ہریکنترا مینو گاریکے سہکاری سنگھا کے صدر کے سی تانڈیل کا کہنا ہے کہ ندیوں سے بہتے ہوئے  سمندر میں جاکر ملنے والا پانی بہت زیادہ ...

ملک تباہ، عوام مطمئن، آخر یہ ماجرا کیا ہے!۔۔۔۔ آز:ظفر آغا

ابھی پچھلے ہفتے لکھنؤ سے ہمارے عزیزداروں میں سے خبر آئی کہ گھر میں موت ہو گئی۔ پوچھا کیا ہوا۔ پتہ چلا کورونا وائرس کے شکار ہوئے۔ ایک ہفتے کے اندر انتقال ہو گیا۔ پوچھا باقی سب خیریت سے ہیں۔ معلوم ہوا ان کی بہن بھی آئی سی یو میں موت و زندگی کے درمیان ہیں۔

 کاروار:پی ایس آئی کے نام سے فیس بک پر نقلی اکاؤنٹ۔ آن لائن دھوکہ دہی کا نیا طریقہ ۔ تیزی سے چل رہا ہے فراڈ  کا کاروبار 

ڈیجیٹل بینکنگ اور بینک سے متعلقہ کام کاج انٹرنیٹ کے ذریعے انجام دینے کی سہولت اس لئے عوام کو فراہم کی گئی ہے تاکہ لوگ کم سے کم وقت میں بغیر کسی دقت کے اپنی بینکنگ کی ضرورریات پوری کرسکیں ۔ نقدی ساتھ لے کر گھومنے اور پاکٹ ماری کے خطرے جیسی مصیبتوں سے بچ سکیں۔لیکن اس سسٹم نے جتنی ...

بھٹکل کے بلدیاتی اداروں میں چل رہا ہے سرکاری افسران کا ہی دربار۔ منتخب عوامی نمائندے بس نام کے رہ گئے

ریاستی حکومت کی بے توجہی اورغلط پالیسی کی وجہ سے مقامی  بلدیاتی اداروں میں عوامی منتخب نمائندے بس نام کے لئے رہ گئے ہیں اور خاموش تماشائی بنے رہنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔جبکہ ان اداروں میں سرکاری افسران کا ہی دربار چل رہا ہے۔بھٹکل میونسپالٹی، جالی پٹن پنچایت  وغیرہ کا بھی یہی ...

بمبئی ہائی کورٹ نے میڈیا اور حکومت کو آئینہ دکھایا ...... آز: عابد انور

میڈیا اگر حق اور صداقت کا پیامبر بن جائے تو غریب سے غریب، کمزور اور بے سہارا طبقہ کو بھی انصاف مل جاتا ہے اور ہندوستان میں ایسا متعدد بار ہوا ہے، بڑے معاملے میں دبنگ، سیاستداں، سیاست  دانوں کے لاڈلے اور اثر و روسوخ رکھنے والے امیر گھرانے کے لوگوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑی ہے اس ...