سنگاپور عام انتخابات: پی اے پی ایک بار پھر فتحیاب، 93 میں سے 83 نشستیں حاصل

Source: S.O. News Service | Published on 11th July 2020, 11:47 AM | عالمی خبریں |

سنگاپور،11؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی)  سنگاپور کی برسراقتدار پیپلز ایکسن پارٹی (پی اے پی) نے پارلیمانی انتخابات میں 93 میں سے 83 نشستیں جیت کر ایک بار پھر اقتدار حاصل کرلیا۔ الیکشن آفیسرتان مینگ دوئی نے ہفتہ کے روز اس بارے میں تفصیلات بتائیں۔ پی اے پی کو اس بار 61.24 فیصد ووٹ ملے ، حالانکہ یہ 2015 کے مقابلے میں آٹھ فیصد کم ہے۔ اسے 2015 میں 69.86 فیصد ووٹ ملے تھے۔ پی اے پی کے علاوہ ورکس پارٹی کو 10 نشستیں ملی ہیں۔ اسے 2015 کے مقابلہ چار نشستیں زیادہ ملی ہیں۔

پی اے پی کو ایس ایم سی کی 83 میں سے 13 اور جی آر سی سے 15 نشستیں ملی ہیں جبکہ ورکس پارٹی کو سبھی10 نشستیں ہوؤگانگ، ایس ایم سی ، الجینید جی آر سی اور سینگکانگ جی آر سی ملی ہیں۔ سنگاپور کے وزیر اعظم لی ہسین لونگ نے انتخابات میں فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’میں کووڈ 19وبا سے نمٹنے اور اقتصادی حالات مضبوط کرنے اور اس بحران سے نکلنے کیلئے اس رائے عامہ کا استعمال کروں گا۔سنگا پور کے عوام کے ذریعہ مجھ پراور پارٹی پر اعتماد کرنے پر میں فخر محسوس کررہاہوں ‘‘۔

واضح رہے کہ پی اے پی نے 2015 کے عام انتخابات میں 89 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس بار اسے چھ نشستیں کم ملی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

حوثیوں کو دہشت گرد قرار دینا ایرانی توسیع پسندانہ ایجنڈے میں رکاوٹ بنا: یمن

یمن کی آئینی حکومت کے وزیراعظم معین عبدالملک نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے نتیجے میں خطے میں ایرانی توسیع پسندی کے سامنے ایک بڑی رکاوٹ کھڑی ہوئی ہے۔ انہوں ‌نے یورپی یونین سے بھی حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا ...

ایران میں ایک اور ریسلر کو قتل کے جُرم میں قصور وار قرار دے کرپھانسی

ایران میں ایک اور ریسلر کو قتل کے الزام میں قصور وار قرار دے کر پھانسی دے دی گئی ہے۔گذشتہ پانچ ماہ میں یہ دوسرے ریسلر ہیں جنھیں تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔ان سے پہلے چیمپئن ریسلر نوید افکاری کو سُولی دے دی گئی تھی۔ان کی پھانسی پر عالمی سطح پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔

ٹرمپ کا دوسری مرتبہ مواخذہ: امریکی دستور کیا کہتا ہے؟

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے حامیوں کو بغاوت کے لیے اکسانے اور ہجوم کو کانگریس کی عمارت پر چڑھائی کی ترغیب دینے کے الزامات کی وجہ سے امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی ان کے خلاف دستور کے مطابق کارروائی کے حق میں مطلوبہ ووٹوں کے حصول کی جدوجہد کر رہی ہے۔