شاہین باغ خاتون مظاہرین نے خاموش احتجاج کرکے سی اے اے کی مخالفت کی

Source: S.O. News Service | Published on 13th February 2020, 12:31 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 12/ فروری (ایس او نیوز/یو این آئی) قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری خاتون مظاہرین نے منہ پر سیاہ پٹی باندھ کر خاموش مظاہرہ کیا اور کہا کہ ان کی کسی پارٹی سے کوئی وابستگی نہیں ہے بلکہ وہ اس سیاہ قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہیں۔ شاہین باغ خواتین مظاہرہ میں کل کوئی تقریری نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی پروگرام ہوا۔سب نے خاموش ہوکرسبھی پارٹی سے برات کا اظہار کیا۔وہاں ایک بورڈ آویزا کردیا گیا تھا جس پر لکھا تھا آج خاموش دھرنا ہے ، آپ سب لوگ خاموش رہیں،ہمار ا موضوع سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر ہے ، ہم کسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے ۔ اس کی وجہ سے ہر طرف خاموشی رہی اورکوئی نعرے بھی نہیں لگے ۔ شاہین باغ مظاہرہ گاہ میں بنے انڈیا گیٹ، ہندوستان کے نقشے اور لائبریری کے قریب مختلف گروپ نکڑ ناٹک’ نغمے ، ترانے اور نعرے لگاتے نظر آتے تھے ۔

خاتون مظاہرین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا موضوع کوئی پارٹی یا سیاست نہیں ہے بلکہ ہم لوگ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہیں۔ آج اس لئے بھی خاموش مظاہرہ رکھا گیا تاکہ کوئی پارٹی یا سیاست، انتخاب میں فتح و شکست کی بات نہ کرسکے ۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح ہم اپنے موضوع کے ہی ارد گرد رہنا چاہتی ہیں۔ اس کے علاوہ خاتون مظاہرین نے کہا تھا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ و طالبات پر اور تغلق آباد میں خاتون مظاہرین کی حمایت میں بھی منہ پر سیاہ پٹی باندھ کر مظاہرہ کیا گیا ہے اوراس طرح ہم نے ان خواتین کے تئیں اظہار یکجہتی کیا ہے ۔ واضح رہے کہ کل پولیس اور مبینہ طور پر سنگھ پریوار کے وابستہ غنڈوں نے خواتین پر حملہ کرکے ان کے ساتھ مار پیٹ کی اور قابل اعتراض نعرے لگائے ۔

شاہین باغ مظاہرہ میں شامل ایک دیگر خاتون نصرت آراء نے بتایا کہ جس طرح گارگی کالج میں طالبات پر اورجامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ اور طالبات کے پرائیویٹ پارٹس کو نشانہ بناکر لاٹھی چلائی گئی ہے اس سے ہم لوگ صدمے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مظاہرے کی تاریخ میں اس طرح کا واقعہ شاذ و نادر ہی ملتا ہے کہ پولیس نے طلبہ و طالبات کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کیا ہو۔انہوں نے بتایا کہ دلتوں کا ایک وفد آج شاہین باغ آئے گا اور شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ساتھ اس سیاہ قانون کی مخالفت کرے گا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مارچ کی کوشش کے دوران پولیس کی بربریت کا نشانہ بننے والے طلبہ و طالبات نے آج پریس کانفرنس کرکے اپنی آب بیتی سنائی اور یہ بتایا کہ کس طرح پولیس نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے اور گندی گندی گالیاں دی ہیں۔ متاثرین بہت سے بچے اب بھی استپال میں زیر علاج ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خاتون مظاہرین کا دائرہ پھیلتا جارہاہے اور دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ کا اضافہ ہورہا ہے ۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے ۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ سماج دشمن عناصر نے ان کے ساتھ گالی گلوج کیا اوردل آزار نعرے لگائے ۔

شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے ۔خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے رات آٹھ بجے سے رات کے آٹھ بجے تک ریلے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے جس میں اہم لوگ حمایت کرنے کے لئے آرہے ہیں۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر’ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔

اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور‘اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے ۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے ۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کافی بیدار ہیں۔ یہاں پر بھی مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔

اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے ۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے ۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی 20سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے ۔

اگر اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو پریشان کرنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے توخواتین کے جوش خروش میں بھی کی کمی نہیں ہے ۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں حالانکہ خالی کرانے کی کوشش کی لیکن پھر خواتین وہاں دوبارہ جمع ہوگئیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین رات دن کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔

شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے ۔ کبیر پور بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے ۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے ، شاہین باغ خوریجی ہے ۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے ۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

شاہین باغ: مظاہرین اور مذاکرات کاروں کی بات چیت بے نتیجہ،شہریت قانون واپس لینے تک ڈٹے رہنے کا عزم

شاہین باغ میں گزشتہ68 دنوں سے شہریت ترمیمی قانون، این آر سی و این پی آر کے خلاف جاری عالمی شہرت حاصل کر چکے دھرنا و مظاہرہ میں 19فروری کا دن بہت خاص رہا کیونکہ سپریم کورٹ کے ذریعہ مقرر کردہ مذاکرہ کار سنجے ہیگڈے اور سادھنا رام چندرن بات چیت کرنے پہنچے-

آسام: زبیدہ بیگم کے پاس15دستاویزات موجود شہریت ثابت کرنے میں پھر بھی ناکام!

پورے ہندوستان میں این آر سی لگائے جانے اور اس کے اثرات پر بحث جاری ہے- آسام میں این آر سی سے پیدا مشکلات کو سامنے رکھ کر لوگ پورے ملک میں این آر سی لگائے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں - آسام میں کئی معاملے سامنے آ چکے ہیں جس میں برسوں سے وہاں رہ رہے لوگوں کو شہریت ثابت کرنے میں مشکل پیش ...

جس طرح سے سی وی سی کی تقرری ہوئی اس طرح تو چپراسی کی بھی تقرری نہیں ہو سکتی: کانگریس

کانگریس نے چیف ویجلنس کمشنر (سی وی سی) اور ویجلنس کمشنر (وی سی ) کی تقرری کو اداروں کو تباہ کرنے کی ایک اور مثال قرار دیتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا اور الزام لگایا کہ اس میں طریقہ کار پر عملدرآمد ہی نہیں کروایا گیا ہے۔