سیلاب متاثرین سے وزیر اعظم کو کوئی ہمدردی نہیں منڈیا میں منعقدہ پرتیبھا پرسکار کے جلسہ سے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کا خطاب

Source: S.O. News Service | Published on 17th September 2019, 10:47 AM | ریاستی خبریں |

منڈیا،17؍ستمبر(ایس او نیوز) ملک کے وزیر اعظم کو سیلاب متاثرین سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ پچھلے ایک سو سال سے کبھی نہ دیکھا گیا سیلاب ریاست میں آیا ہے اور ہزاروں افراد کی زندگی تباہ ہوچکی ہے۔ ایسے حالات میں اب تک سیلاب متاثرین کے لئے کوئی امداد فراہم نہیں کی گئی اور ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ وزیر اعظم کو سیلاب متاثرین سے ہمدردی نہ ہونے کا اس سے بڑا ثبوت کیا چاہئے۔ یہ بات سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہی۔ انہو ں نے یہاں شہر کے کنکا بھون میں ضلع کروبا سنگھا کے زیر اہتمام منعقدہ پرتیبھا پرسکار اور سٹی منسپل کونسل وٹاؤن منسپل کونسل کے نو منتخب نمائندوں کے تہنیتی جلسہ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ قائد کہلانے والے میں ہمدردی ہونی چاہئے۔ صرف 56/ انچ کا سینہ رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ سیلاب سے ریاست کے تقریباً 5/ تا 6/ ہزار افراد کنگال ہوچکے ہیں۔2/ لاکھ گھر تباہ ہوئے ہیں۔1.25/ لاکھ کنبے گھر سے محروم ہوچکے ہیں، ایسے حالات میں بھی متاثرین سے ہمدردی کے لئے وزیر اعظم کے پاس وقت نہیں ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ اس سے قبل 2009/میں بھی ریاست میں یہی صورتحال تھی اور ایڈی یورپا ہی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے اور میں اپوزیشن لیڈر تھا، اس وقت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ریاست کا دورہ کرنے کی گزارش کی تھی۔ دوسرے ہی دن وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ریاست کا دورہ کیا اور سیلاب سے ہوئی تباہ کاریوں کا جائزہ لیا اور موقع پر ہی 1600/ کروڑ روپئے جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایسے کردار قائد میں ہونے چاہئیں۔ سیاست میں لیڈر بننے کے لئے عوام سے محبت اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دشمن اور انتقام کی سیاست سے کوئی لیڈر نہیں بنتا۔ عوام کا اعتماد حاصل کرنے والا ہی سیاست میں کامیاب لیڈر کہلاتا ہے۔ سدارامیا نے مزید کہا کہ صلاحیت اور اہلیت کے لئے ذات پات کی کوئی قید نہیں ہوتی وہ پیدائشی فطرت ہوتی ہے۔ بچوں کو پڑھائی کیلئے بہتر ماحول فراہم کرنا ہوگا اور ہر بچہ کو اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کرنا ہوگاسدارامیا نے کہا کہ جب انہوں نے پہلی مرتبہ وزیر مالیات کا قلمدان سنبھالا تھا اس وقت کروبا طبقہ کے لوگوں میں حساب کتاب رکھنے کی صلاحیت نہ ہونے کی باتیں گشت کرنے لگی تھیں اور کئی قسم کی تنقیدیں کی جارہی تھیں، اسے چیلنج کے طور پر لیا اور 13/ بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ میری طرف سے پیش کردہ بجٹ پر کسی نے اعتراض نہیں جتایا اور عوامی بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس لئے طلباء کو چاہئے کہ زندگی میں کچھ کردکھانے کا عزم رکھیں اور اپنے مقصد میں کامیابی کے لئے جدوجہد کریں۔ محنت اور لگن کے ساتھ کام کرنے سے کوئی بھی کارنامہ انجام دیا جاسکتا ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ چند لوگوں کو ان کی کامیابی پسند نہیں ہے اور ہمیشہ ان کے خلاف الزام تراشی میں لگے ہوئے ہوتے ہیں،ایسے لوگوں کا کوئی علاج نہیں ہے۔ اس موقع پر شری کاگی نلے کنکا گرو پیٹھا میسور شاخ کے شری شیوا نندا پوری سوامی نے بھی خطاب کیا اور طلباء کو نصیحت کی کہ وہ تعلیم حاصل کرکے والدین اور اساتذہ کا نام روشن کریں۔ سابق ریاستی وزیر این چلو رایا سوامی، سابق رکن اسمبلی ایم ایس آتما نند اور دیگر حاضر تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

رام ہندوستان میں نہیں تھائی لینڈ میں پیدا ہوئے تھے؛ گلبرگہ میں ایک بدھسٹ سنت کا دعویٰ

یہاں پرمنعقدہ ایک مذہبی پروگرام میں معروف بدھسٹ سنت بھنتے آنند مہشتویرنائب صدر اکھل بھارتیہ بِکّو سنگھ نے دعویٰ کیا کہ رام ہندوستان میں پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کا جنم تھائی لینڈ میں ہوا تھا۔اور اس مسئلے پر وہ کسی کے ساتھ بھی کھلی بحث کرنے اور اپنا موقف ثابت کرنے کے لئے تیار ...

شموگہ میں عشق ومحبت کی شادی کا المناک انجام۔ وہاٹس ایپ پر طلاق دئے جانے کے بعدڈی سی دفتر کے باہرمطلقہ خاتون کادھرنا؛ مسلم تنظیموں کو توجہ دینے کی ضرورت

عشق و محبت کے چکر میں مبتلا ہوکر جس لڑکے سے شادی کی تھی اسی نے وہاٹس ایپ کے ذریعے طلاق دے کر اپنی زندگی سے الگ کردیا تو مطلقہ خاتون ڈپٹی کمشنر دفتر کے باہر احتجاجی دھرنے پر بیٹھ گئی۔

عالمی یوم بنات کے موقع پر بنگلور کی اقرا اسکول کی نور عائشہ کا لڑکوں کی تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور

عالمی یوم بنات کے موقع پر  اقرا انٹرنیشنل اسکول بنگلور کی بانی ڈائرکٹر نور عائشہ نے   معاشرتی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے مسلمانوں پر زور دیا کہ مسلمانوں کو لڑکیوں کی تعلیم پر بھی اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے جتنی اہمیت وہ لڑکوں کی تعلیم پر دیتے ہیں۔ کارڈف سے بزنس گریجویٹ نور ...

بنگلور میں منعقدہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے زیراہتمام دلت-مسلم مذاکرہ میں سماجی اتحاد کی کوششوں کو مضبوط کرنے کا عزم

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے زیرِ اہتمام منعقدہ دلت-مسلم مذاکرہ میں شریک مندوبین نے زمینی سطح پر سماجی اتحاد کی تعمیر کے لئے قدم اٹھانے اور دلتوں اور مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا

این آر سی کے متعلق مسلمان پریشان کیوں نہ ہوں؟ امیت شاہ کا فرمان اور ریاستی وزیر داخلہ بومئی کا متضاد بیان- کسے مانیں کسے چھوڑیں؟

کیا کرناٹک میں این آر سی کے نفاذ کے معاملے میں ریاستی حکومت کا موقف مرکزی حکومت خاص طور پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے موقف سے مختلف ہے- حالانکہ امیت شاہ نے حال ہی میں مغربی بنگال میں ایک بیان دیا تھا کہ اس ملک میں این آر سی کا عمل پورا ہونے کے بعد غیر ملکی قرار پانے والے ہندو، ...

سرکاری اسکولوں میں داخلوں میں اضافہ کیلئے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ضروری

ریاستی حکومت کی طرف سے آر ٹی ای قانون میں ترمیم کے بعد جاریہ تعلیمی سال اگرچہ کہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کے داخلوں کے معاملہ میں کچھ اضافہ دیکھا گیا ہے، مگر محکمہ تعلیم اس اضافہ سے مطمئن نہیں ہے اس لئے کہ یہ نتائج اس کی امیدوں کے مطابق نہیں رہے ہیں،