استعفیٰ واپس لینے سدارامیا پر پارٹی لجس لیٹرس کا دباؤ

Source: S.O. News Service | Published on 12th December 2019, 12:52 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،12/دسمبر (ایس او نیوز) ریاست میں ہوئے ضمنی انتخابات میں کانگریس کے کمزور مظاہرہ کے لئے اپنی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سی ایل پی لیڈر سدارامیا نے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس ضمن میں سدارامیا پر اپنا استعفیٰ واپس لینے کانگریس کے اکثر لجس لیرٹس دباؤ ڈال رہے ہیں حالانکہ سی ایل پی لیڈر شپ سے استعفیٰ دینے کے بعد اپنے چند ساتھی اراکین اسمبلی سے بات کرتے ہوئے سدارامیا نے واضح کردیا ہے کہ سی ایل پی لیڈرشپ کو دیاگیا استعفیٰ واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ضمنی انتخابات میں پارٹی کے کمزور مظاہرہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے میں نے یہ استعفیٰ دیا ہے۔ اس پرتبصرہ کرتے ہوئے کانگریس کے چند اراکین اسمبلی نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات میں برسر اقتدار پارٹی کی جیت یقینی تھی کیونکہ حکمران پارٹی نے ان انتخابات میں سرکاری مشنری کا استعمال کیا تھا اس لئے سدارامیا کو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ بی جے پی نے اس چناؤ کے لئے دولت پانی کی طرح بہائی ہے۔ بی جے پی کی یہ جیت رقم لٹانے کے سبب ہوئی ہے۔ ان کانگریسیوں نے یہ بھی کہاکہ سب سے اہم یہ ہے کہ غیر اصولی اور غیر دستوری طریقہ سے اقتدار حاصل کرنے والی بی جے پی کو کرارا جواب دینے کے لئے آپ کا سی ایل پی لیڈر رہنا بہت ضروری ہے۔ آپ کے پاس بی جے پی کو منھ توڑ جواب دینے کی طاقت ہے اور حوصلہ بھی جو کانگریس کے دیگر لیڈروں میں نہیں۔ ضمنی انتخابات میں کانگریس نے صرف دوسیٹوں پرکامیابی حاصل کی ہے جب کہ سدارامیا کم از کم 7/سیٹوں پر کامیابی کا دعویٰ کررہے تھے۔ پارٹی لیڈروں کے دباؤ پر سدارامیا کیا اپنا استعفیٰ واپس لے لیں گے؟

ایک نظر اس پر بھی

بنگلور میں احتجاجیوں اور پولس کے درمیان زبردست جھڑپ؛ پولس فائرنگ میں دو کی موت؛ فیس بُک پر توہین آمیز پوسٹ پرعوام نے کیا تھا پولس تھانہ کا گھیراو

 فیس بُک پر مبینہ طور پر  پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے خلاف توہین آمیز مسیج پوسٹ کرنے پر سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے بنگلور کے جی ہلی پولس تھانہ کے باہر  جمع ہوکرایک فرقہ کے لوگوں نے جب احتجاج کیا تو یہی احتجاج بعد میں تشدد میں تبدیل ہوگیا جس کے نتیجے میں بتایا جارہا ہے کہ ...

اننت کمار ہیگڈے نے لگایابی ایس این ایل میں دیش دروہی افسران موجود ہونے کا الزام

اپنے متنازعہ بیانات کے لئے پہچانے جانے والے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے الزام لگایا کہ بھارت سنچار نگم لمیٹڈ کے اندر دیش دروہی افسران بیٹھے ہوئے جس کی وجہ سے اس کے کام کاج میں کوئی ترقی نہیں ہورہی ہے۔ اس لئے آئندہ دنوں میں اس کی نج کاری (پرائیویٹائزیشن) کیا جائے گا۔

بنگلور: ٹرانسفرس کے احکامات ملتوی کرانے میں مبینہ طور پر با رسوخ اساتذہ کی لابی شامل، چار سال سے ڈگری کالجوں کے لکچررس کے تبادلے نہیں ہوسکے

ریاست کرناٹک کے سرکاری فرسٹ گریڈ کالجوں میں خدمات انجام دے رہے لکچررس کے تبادلے نہیں ہوسکے ہیں، جس کے سبب انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس تعلق سے الزامات لگائے جارہے ہیں کہ  چند با رسوخ لکچررس کی طرف سے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرکے تبادلوں کی کاروائی ملتوی ...

کرناٹک میں موسلادھاربارش سے 4000کروڑروپئے کا نقصان، فوری طورپرمناسب امداد ی رقم جاری کرنے ریاستی حکومت کی مرکزی حکومت سے اپیل

ریاست میں پچھلے چنددنوں سے ہورہی موسلادھاربارش کے نتیجہ میں سیلابی صورتحال سے 4000کروڑ روپئے نقصان کااندازہ لگایاگیاہے۔ اس سلسلہ میں ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت سے درخواست کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ ریاست کرناٹک بارش اورسیلاب متاثرین کی بازآبادکاری اور تباہ فصلوں کی تلافی کے ...