پٹرول-ڈیزل اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ پر کپل سبل کا مرکز سے سوال ’کیا یہ اچھے دن ہیں؟‘

Source: S.O. News Service | Published on 24th November 2021, 11:59 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،24؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس لیڈر کپل سبل نے بدھ کے روز مہنگائی کو لے کر مرکز کی مودی حکومت کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا یہ قیمتیں ’گراف‘ میں ’نئے ریکارڈ‘ پر پہنچ گئے ہیں۔ سبل نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے ’’قیمت کا گراف پرائس: پٹرول- 103 روپے فی لیٹر، ڈیزل- 83 روپے فی لیٹر، ٹماٹر- 85 روپے سے 125 روپے فی کلو، نئے ریکارڈ پر! اچھے دن!‘‘

کانگریس لگاتار بڑھتی مہنگائی کو لے کر حکومت پر لگاتار حملے کر رہی ہے۔ کپل سبل نے اس تعلق سے کہا ہے کہ پارٹی اس ایشو کو پارلیمنٹ میں اٹھائے گی اور لوگوں کی حالت زار کو ظاہر کرنے کے لیے دسمبر کے وسط میں ایک ریلی کا انعقاد بھی کرے گی۔ کانگریس کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ ’’حکومت نے باورچی خانہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جب ٹماٹر اور پیاز کی بات آتی ہے۔‘‘

کانگریس ترجمان پون کھیڑا اس مہنگائی کے تعلق سے کہتے ہیں کہ ’’ایسا کیوں ہے کہ ہم ایک کلوگرام ٹماٹر کے لیے 100 روپے، شملہ مرچ کے لیے 120 روپے، پیاز کے لیے 50 روپے کی ادائیگی کر رہے ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ اِن پٹ لاگت کے سبب کسانوں کو ان چیزوں کا پروڈکشن کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جو کہ بہت زیادہ ہے؟ ہم یہاں دہراتے رہے ہیں، زرعی سامان پر جی ایس ٹی، ڈی اے پی کی قیمت، ڈیزل کی قیمت، آخر کار یہ سبھی چیزیں ملک کے مختلف حصوں سے یہاں کی آزاد پور منڈی میں آتی ہیں۔‘‘

کانگریس نے الزام عائد کیا کہ مہنگائی کی عام وجہ ایندھن کی قیمت ہے، جس میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ عام آدمی ای ایم آئی، ماہانہ بلوں کی ادائیگی کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے، چاہے وہ دودھ، پٹرول، ڈیزل، کھانا پکانے کا تیل، سبزیاں ہو۔ پارٹی نے ریڈیمیڈ گارمنٹس اور فٹ ویئر پر جی ایس ٹی میں ہوئے ضافے کو لے کر تنقید کی ہے جسے 5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کر دیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھیما کوریگاؤں معاملے کی ملزم سدھا بھاردواج کی مشکلات میں اضافہ، ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی این آئی اے

چھتیس گڑھ کی معروف سماجی کارکن اور وکیل سدھا بھاردواج کو ممبئی ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی ضمانت کے خلاف قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔