رہائشی علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں پر روک لگانے میں بلدیہ ناکام

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 19th June 2019, 11:17 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،19؍جون(ایس او نیوز) بنگلور شہر کے رہائشی علاقوں میں رہائشی عمارتوں کے اندر سے کاروباری سرگرمیوں پر قدغن لگانے کے سلسلہ میں بروہت بنگلورو مہا نگرا پالیکے (بی بی ایم پی) کی مہم مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور پچھلے دو سالوں کے عرصہ میں بلدیہ کی طرف سے صرف پانچ فیصدی ایسے اداروں کو بند کیا گیا ہے-بی بی ایم پی کی طرف سے دو سال قبل ایسے 3,658اداروں کو بند کرنے کے سلسلہ میں نوٹسیں جاری کی گئی تھیں جو زوننگ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں چلا رہے ہیں، ایسے اداروں کو بند کرنے کی مہم کے لئے ہدایات تین سال قبل کئی شہریوں کی انجمنوں اور مکینوں کی فلاحی انجمنوں کی طرف سے شدید دباؤ کے بعدجاری کی گئیں تھیں، اس لئے کہ رہائشی علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں امن میں خلل اور ٹریفک کا مسئلہ پیدا کرنے کے علاوہ آلودگی میں بھی اضافہ کا سبب بن رہی تھیں -لیکن حالیہ اعداد و شمار نے واضح کیا ہے کہ اب تک صرف 239کاروباری ادارے ہی رہائشی عمارتوں سے ہٹائے گئے ہیں -آئی چینج اندرا نگر نامی عوامی تنظیم کی رکن سنیہا نندیہال کا کہنا ہے کہ ”ہائی کورٹ کی طرف سے دو فیصلوں کے بعد بھی ہمارے علاقہ میں کاروباری ادارے خوب ترقی کر رہے ہیں، تقریباً دیڑھ سال قبل بی بی ایم پی نے ان اداروں کو نوٹس جاری کی تھی، لیکن ابھی تک زمینی سطح پر اس کا کوئی اثر نہیں دیکھاگیا ہے“-بی بی ایم پی کی طرف سے مذکورہ مہم کو اس وقت چوٹ پہنچی تھی جب پچھلے سال فروری کے مہینہ میں بی بی ایم پی کونسل میں اس معاملہ پر بحث کی گئی، کارپوریٹروں کو خوف تھا کہ اگر کاروباری اداروں کو اپنی سرگرمیاں روکنے پر مجبور کیا جائے گا تو اس کی وجہ سے بلدیہ کے لئے محصول اور مالیات کی وصولی پر منفی اثر مرتب ہو سکتا ہے اس کے علاوہ اس خوف کا بھی اظہار کیا گیا کہ اس کی وجہ سے ان اداروں میں کام کرنے والے ہزاروں افراد کے روزگار بھی متاثر ہوسکتے ہیں -اس مسئلہ پر غور کرنے اور اس کے حل کے تلاش کے لئے بی بی ایم پی نے ایک قرار داد منظور کی تھی کہ شہری منصوبہ بندی محکمہ کی جانب سے ایک کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جائے-بی بی ایم پی کے ایک صحت افسر کا کہنا ہے کہ ”اس فیصلہ کے فوراً بعد مذکورہ مہم کو روک دیا گیا اور اس کے بعد سے کسی بھی کاروباری ادارہ کو بند نہیں کیا گیا ہے، جہاں تک میرا علم ہے ابھی تک اس طرح کی کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی ہے“-بی بی ایم پی کی طرف سے جو 1,500نوٹسیں جاری کی گئی تھیں ان میں سے تقریباً آدھی مشرقی زون میں موجود کاروباری اداروں کے نام گئی ہیں لیکن موجودہ معلومات کے مطابق اس علاقہ میں صرف 96اداروں کو ہی بند کیا گیا ہے- البتہ بعض بی بی ایم پی افسران نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تعداد حقیقت میں اور بھی زیادہ ہے، ان کا کہنا ہے کہ،ہر دس تا پندرہ دنوں میں ایک بار جب علاقائی جائنٹ کمشنر فارغ ہوتے ہیں وہ لوگ علاقہ کے کاروباری افراد کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہیں، صحت، انجینئرنگ اور شہری منصوبہ بندی محکمہ جات کے افسران کی آراء پر بھی غور کیا جاتا ہے، اس کے بعد ہی جائنٹ کمشنر کسی کاروباری ادارہ سے متعلق یہ ہدایات جاری کرتے ہیں کہ اسے بند کر دیا جائے یا جاری رہنے کی اجازت دی جائے،اس طرح تسلسل کے ساتھ رہائشی علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں کو روک لگانے کی کارروائی جاری ہے-

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو۔بنگلوروٹریک پرچٹان توڑنے کا کام مسلسل جاری۔ دن کے وقت چلنے والی ریل گاڑیاں 24جولائی تک کے لئے منسوخ

انی بندا کے قریب سبرامنیا سکلیشپور ریلوے ٹریک پر ایک بڑی چٹان لڑھکنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ اس حادثے کو روکنے کے لئے پہاڑی تودے کو دھماکے سے توڑنے کاکام پچھلے دو تین دن سے جاری ہے جس کے لئے ہیٹاچی مشین کے کامپریسر اور بارود کا استعمال کیا جارہا ہے۔ لیکن تیز برسات کی وجہ سے دن ...

کرناٹک: بی ایس پی ارکان اسمبلی کمارسوامی کے حق میں ووٹ کریں گے:مایاوتی

کرناٹک میں کانگریس اورجے ڈی ایس کی مخلوط حکومت رہے گی یا جائے گی اس کا فیصلہ آج ہو جائے گا ۔ برسر اقتدار اتحاد کے ارکان اسمبلی کو بی جے پی ٹوڑنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس بیچ بی ایس پی سپریموں نے کہا ہے کہ اس کی پارٹی کے ارکان اسمبلی کمارسوامی حکومت کے حق میں ہی ووٹ ڈالیں گے ۔ یہ ...

مخلوط حکومت کی بقا کا سسپنس برقرار آج بھی اسمبلی میں تحریک اعتماد پر ووٹنگ کا امکان،باغیوں کو واپس لانے کیلئے سدارامیا کو وزیر اعلیٰ بنانے کی پیش کش

ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کوبچانے کے لئے اتحادی جماعتوں کے قائدین کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف اپوزیشن بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح پیر کے روزتحریک اعتماد پر اسمبلی میں ووٹنگ ہو جائے لیکن خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں