بی جے پی کررہی ہے خوف کی سیاست۔ رکن پارلیمان کے اندر ایک ریلوے لائن فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔جے ڈی ایس لیڈر ششی بھوشن کا الزام

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th April 2019, 5:33 PM | ساحلی خبریں |

سرسی 15؍اپریل ( ایس او نیوز) جنتادل ایس کے لیڈر ششی بھوشن نے الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ دستوری اداروں پر اپنا شکنجہ کستے ہوئے بھارتیہ جنتاپارٹی ملک میں ایک خوف ودہشت والی سیاست چلارہی ہے۔

سرسی کے پریس کلب میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر ہراساں کرنے کی نیت سے جنتادل اور کانگریس لیڈران او ران سے وابستہ افراد کے گھروں اور دفتروں پر انکم ٹیکس کے چھاپے مارے جارہے ہیں۔مرکزی تفتیشی ادارے (سی بی آئی)کے بعداب بی جے پی محکمہ انکم ٹیکس کا ناجائز استعمال کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے کانگریس اور جے ڈی ایس لیڈروں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے تھے۔ اب کاروار ضلع میں بھی مختلف مقامات پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔بی جے پی کچھ فقیرانہ انداز میں انتخابات نہیں لڑ رہی ہے۔ سب سے زیادہ عطیہ جات جمع کرتے ہوئے اشتہاری مہم پر بے پناہ رقم خرچ کرنے میں بی جے پی ہی سر فہرست ہے۔لیکن الیکشن کے ضابطہ اخلاق کے نام پر صرف اپنا سیاسی مفاد پورا کرنے کے لئے مخلوط حکومت کے لیڈروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ششی بھوشن نے مزید کہا کہ اس مرتبہ بی جے پی والے ترقی کے نام پر الیکشن لڑنے کے بجائے جذباتی استحصال کی پالیسی پر عمل کررہے ہیں۔صرف پلوامہ او ربالاکوٹ کے واقعات گنائے جارہے ہیں۔2014سے 2019تک کیے گئے تعمیری اور ترقیاتی کام کی کوئی تفصیل او رذکر ان کے پاس نہیں ہے۔خود وزیراعظم نریندرا مودی منفی انداز میں تقاریر کررہے ہیں۔ملک اور عوام کی ترقی کے محاذ پر ناکام ہونے والے یہ لوگ الزام تراشی کو ہی اپنا ہتھیار بنائے ہوئے ہیں۔ضلع کے رکن پارلیمان اور مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے پر طنز کستے ہوئے ششی بھوشن نے کہا کہ ان کے اندرایک ریلوے لائن کو منظوری دلوانے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔

ششی بھوشن نے بتایا کہ شمالی کینرا سیٹ جنتادل کو دئے جانے کے سلسلے میں کانگریس کے اندر اختلافات نہیں ہیں۔ مضافاتی علاقوں میں کانگریس او ر جے ڈی ایس کے کارکنان اور لیڈران مشترکہ طور پر انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے 16سے18اپریل تک ضلع کے تمام تعلقہ جات میں انتخابی مہم چلائیں گے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ کمار اسوامی ایک دن کے لئے انتخابی مہم میں حصہ لیں گے۔چونکہ علاقے کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اس لئے اسنوٹیکر کی جیت یقینی ہے۔

پریس کانفرنس کے موقع پر تمپّا مڈیوال، جی این ہیگڈے، سید مجیب، سبھاش منڈور، ریوتی وڈّار، نارائن نائک وغیرہ موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

لوک سبھا انتخابات؛ کرناٹک میں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ جاری؛ دوپہر ایک بجے تک اُترکنڑا میں 39 فیصد پولنگ، سرسی میں سب سے زیادہ 47 فیصد پولنگ (پل پل کی آپڈیٹس)

ملک  کے تیسرے مرحلے اور ریاست کرناٹک کے دوسرے اور آخری مرحلے کی ووٹنگ آج صبح سات بجے سے جاری ہے  اور صبح نو بجے تک کی اطلاع کے مطابق  پوری ریاست میں  نہایت سست روی کے ساتھ پولنگ ہورہی ہے۔

بھٹکل : کل منگل کو ہونے والے انتخابات کے لئے اُترکنڑا میں تیاریاں مکمل؛ سبھی پولنگ بوتھوں پر ووٹنگ مشین روانہ؛ صبح سات بجے سے شروع ہوگی ووٹنگ

سات مرحلوں میں ہونے والی ملک کے عام انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل منگل کو شروع ہورہا ہے، جس کے لئے تیاریاں تقریباً مکمل ہوچکی ہیں۔ ضلع اُترکنڑا کے مختلف  حلقوں میں  آج صبح سے  ووٹنگ مشینوں کو  پولنگ بوتھوں پر روانہ کرنے کی کاروائی شروع ہوئی۔

شمالی کینرا کے ڈی سی نے سمندری لہروں پر تقسیم کیں نوجوان ووٹروں کو پرچیاں

ضلع شمالی کینرا کی انتظامیہ کی طرف سے ووٹروں میں پولنگ کی اہمیت کا شعور بیدار کرنے کے لئے پچھلے چند مہینوں سے بہت سارے طریقے اپنائے گئے۔تازہ ترین اقدام کے طور پر ضلع ڈی سی ڈاکٹر ہریش کمار نے پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے نوجوان ووٹروں کو اسکوبا ڈائیونگ کا موقع فراہم کرتے ہوئے ...

اُترکنڑا لوک سبھا انتخابات؛ دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لئے تشہیری مہم کا اختتام۔ اننت کمارہیگڈے نے مسلمانوں کے خلاف کہیں بھی زہر نہیں اُگلا

پارلیمانی انتخابا ت کے دوسرے مرحلے کی پولنگ سے پہلے امیدواروں کی طرف سے عوامی تشہیر کے لئے اتوار کی شام تک موقع تھا۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے سابق وزیراعظم دیوے گوڈا سمیت کئی قد آور سیاسی لیڈروں نے ضلع شمالی کینرا کا دورہ کیا اور ووٹروں سے اپنے امیدوار کے لئے ووٹ طلب ...

ضلع شمالی کینرا میں انتخابی ذمہ داری اداکرنے میں مصروف پولیس عملے کو ڈرائی فروٹ کِٹ کا تحفہ 

کل ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لئے پورے ضلع میں  جتنے بھی پولس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے، اُنہیں ضلع کے سپرنٹنڈینٹ  آف پولس کی طرف سے  پہلی بار  ڈرائی فروٹ کے کٹس فراہم کئے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ  پارلیمانی انتخابات کو پرامن طریقے پر انجام دینے کے لئے تین ہزارسے ...