سی اے اے کے خلاف عیدگاہ باغ شیموگہ میں دھرنا جاری

Source: S.O. News Service | Published on 15th February 2020, 12:47 AM | ریاستی خبریں |

شیموگہ،14/فروری (ایس او نیوز) این آر سی،سی اے اے اور این پی آر کے خلاف عید گاہ باغ شیموگہ میں ایک طرف مرد تو دوسری طرف خواتین کا احتجاجی دھر نا دسویں دن بھی جوش وخروش کے ساتھ جاری رہا۔یہاں کے عارضی عیدگاہ باغ میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے جانب سے 4فروری سے احتجاجی دھرنے کا آغاز کیا گیا،جس میں سینکڑوں مرد وبرقع پوش خواتین کے علاوہ غیر مسلم برادران وطن بھی شامل رہے۔کم عمر بچے اپنے ہاتھوں میں پلے کارذ اٹھائے ہوئے اپنی ماؤں کا ساتھ دے رہے تھے۔ اس موقع مقامی علمائے کرام اور شہر کی اہم شخصیات کے علاہ خواتین کی تقریر یں ہوئیں جنہوں نے حاضرین کو اس کالے قوانین کے نقصانات بتاتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت کے یہ قوانین دستور کے خلاف ہیں۔ ہماراملک جمہوری ہے۔جو تمام شہریوں کو مساوی حقوق دینا ہے۔لیکن موجودہ حکومت مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرناچاہتی ہے۔ دھرنے میں ”کاغذ نہیں دکھائیں گے“ نعرے لگائے گئے۔خواتین نے کہا کہ موجودہ بی جے پی حکومت نے جب تین طلاق بل منظور کیا،بابری مسجد کافیصلہ سنایاتو خاموش رہے۔اور جب این آرسی،سی اے اے قوانین لائے گے تواپنے وجود کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے ہیں۔مذہب کی بنیاد پر بنایا گیا قانون جب تک واپس نہیں لیاجاتا اس وقت تک اس طرح کے مظاہرے جاری رہیں گے۔اس کالے قانون کے خلاف سارے دلت اور دیگر پچھڑے طبقات مسلمانوں کے ساتھ شانہ بشانہ چلتے ہوئے فرقہ پرستوں کے منصوبوں کو ناکام کررہے ہیں۔ اس موقع پر جوائنٹ کمیٹی کے کنویزاقبال حبیب سیٹھ،آفتاب پرویز،چاندغنی،مفتی صفی اللہ اور دیگر ذمہ دار موجود رہے۔خواتین کی قیادت کرنے والوں میں احساس نایاب،سلمیٰ یاسمین،وحیدہ فردوس،ریحانہ یاسمین،حسینہ،بانو،مدثرہ،ممتاز،عائشہ کلثوم،عائشہ،ثمینہ،صفیہ اور تحسین موجود تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو کےپروگرام میں ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ ؛ امولیا کو سی اے اے مخالف احتجاجیوں نے کردیا باہر ؛ کیا تھا امولیا کا منشاء ؟

شہریت قانون کی مخالفت میں ٹیپو سلطان فرنٹ کے زیراہتمام بنگلور کے فریڈم پارک میں منعقدہ احتجاجی جلسہ میں اچانک  امولیا نامی خاتون مقرر نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے  جس پر منتظمین اور اسٹیج پر تشریف فرما حیدر آباد کے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی  حیرت میں پڑ ...

منگلورو: شہریت ترمیمی قانون مخالف احتجاج کے دوران ہوئے لاٹھی چارج اور فائرنگ معاملے میں ایف آئی آر درج ہونا چاہیے؛ ہائی کورٹ کا تیکھاتبصرہ

منگلورو میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف19دسمبر2019 کو ہوئے پرتشدد احتجاج کے دوران پولیس کی طرف سے کیے گئے لاٹھی چارج اور فائرنگ کے سلسلے میں کرناٹکا ہائی کورٹ کی ڈیویزن بنیچ کے رکن جسٹس جان مائیکل نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کوا س معاملے میں ایف آئی درج کرنا چاہیے۔

بنگلور وسٹی پولیس وائٹ فیلڈ کو محفوظ بنانے کیلئے سی سی ٹی وی کی نگرانی

اگر آپ وائٹ فیلڈکے علاقہ میں رہتے ہیں تو جلد ہی آپ بنگلور سٹی پولیس کی نگرانی میں ہوں گے، دراصل ٹیکنالوجی کے مرکز اور علاقہ کو جرائم سے محفوظ بنانے، شرارتوں کو ختم کرنے، عوامی اعلانات کو ممکن بنانے اور مجرموں کو پکڑنے کی کارروائی کو آسان بنانے کے لئے پولیس نے اب خانگی اداروں کا ...

بنگلورو سلک بورڈ جنکشن راہگیروں کے لئے خطرناک

الیکٹرانک سٹی اور شرجاپور میں واقع اپنے دفاتر کو جانے کے لئے بسوں کو پکڑنے کے لئے فٹ پاتھوں پر پیدل چلنے اور سلک بورڈ جنکشن کا استعمال کرنے والے ٹیکیوں کا کہنا ہے کہ، یہاں کی سڑکوں پر سے پیدل چل کر جانا ایک خطر ناک معاملہ ہوتا ہے۔

این آرسی بد عنوانیوں میں اضافہ کا سبب بنے گا

شہر بنگلور میں مزدوروں تنظیموں کے رضاکاروں نے تنبیہ کی ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے قومی رجسٹر برائے شہریت کے نفاذ کی کوئی بھی کوشش بد عنوانیوں کو ہوا دے سکتی ہے اور ملک بھر میں رشوت ستانی کا ماحول پیدا ہو جائے گا جبکہ غیرب لوگوں کو اپنے دستاویزات بنانے یا انہیں درست کرانے کے لئے ...