’شاہین باغ‘ سے متاثر اتر پردیش کی خواتین نے بھی ’شہریت قانون‘ کے خلاف کھولا محاذ

Source: S.O. News Service | Published on 14th January 2020, 11:28 AM | ملکی خبریں |

پریاگ راج،14/جنوری (ایس او نیوز/یو این آئی) شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں جاری خواتین کے احتجاجی مظاہرے کے درمیان اترپردیش کے ضلع پریاگ راج خلد آباد کے روشن باغ علاقے میں منصور علی پارک میں اس متنازع قانون کے خلاف خواتین نے اپنا احتجاج شروع کردیا ہے۔

شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے لئے شاہین باغ کی خواتین سے رغبت حاصل کرتے ہوئے پریاگ راج میں خواتین کا ایک گروہ منصور پارک میں یہ کہتے ہوئے اکٹھا ہونے لگا کہ اگر دہلی میں میں خواتین اس کالے قانون کے خلاف اس کڑاکے کی ٹھنڈ میں دھرنے پر بیٹھ سکتی ہیں تو ہم کیوں نہیں۔اتوار کو شروع ہونے والا یہ احتجاجی مظاہرہ پیر کو بھی جاری رہا اور بڑی تعداد میں خواتین اس میں شریک ہوئیں۔

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے اس مظاہرے میں پیر کو سماج وادی پارٹی لیڈر و الہ آباد یونیورسٹی کی سابق طلبہ یونین لیڈر رچا سنگھ کے ساتھ یوا کانگریس ضلع صڈر جیتیندر تیواری سمیت متعدد سیاسی لیڈر اور سماجی کارکنان نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔

موصولہ اطلاع کے مطابق ضلع کے خلد آباد کے روشن باغ علاقے میں منصور علی پارک میں اتوار کی دوپہر تین بجے ہی سے خواتین بچوں کے ساتھ اکٹھا ہونا شروع ہوگئیں۔ جن کے ہاتھوں میں ترنگا کے ساتھ پوسٹر بھی تھے جس میں سی اے اے کی مخالفت میں نعرے آویزاں تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہزار سے زیادہ خواتین پارک میں جمع ہوگئیں۔احتجاج کرنے والی خواتین نے بچوں کے ساتھ ’ہندوستان ہمارا ہے ‘‘جیسے نعرے جم کر لگائے ۔

احتجاج کے لئے اکٹھا خواتین کا کہنا کے مطابق سی اے اے سے صرف ملک میں افراتفری پھیلی گی۔ ایسے میں حکومت کو اس کالے قانون کو واپس لینا چاہئے۔ خواتین کاکہناتھا کہ ہم ہندوستانی ہیں اور ہمیں کسی کو اپنی وطن پرستی کا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ بی جے پی حکومت سی اے اے/این آر سی کے ذریعہ مسلم سماج کو ہراساں کررہی ہے۔

خواتین کی احتجاج کی اطلاع ملتے ہی خلد آباد انسپکٹر روشن لال مع فورس کے موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس نے انہیں سمجھاتے ہوئے احتجاج سے باز رہنے اور گھر واپس بھیجنے کی کوشش کی لیکن خواتین بضد رہیں۔پولیس نے دفعہ 144 کے نافذ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے احتجاج کو ختم کرنی کی اپیل کی ۔خواتین کو بضد دیکھ پر پولیس نے پارک میں پی اے سی کی بھی ایک ٹولی کو بلا لیا۔

قابل ذکر ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران اترپردیش میں سب سے زیادہ تشدد کے واقعات پیش آئے تھے جن میں تقریبا 23 مظاہرین کے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 1100 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ریاستی حکومت کی ہدایت پر مختلف اضلاع کی انتظامیہ نے مظاہرین کے خلافسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ریکوری نوٹس بھی جاری کیا ہے۔ یوپی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کی کاروائی جہاں کئی طرح سے سوالات کے گھیرے میں ہے تووہیں مظاہرین کے خلاف وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے استعمال کئے گئے لہجے کی بھی کافی تنقید کی گئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

شیوسینا کا طنز:کانپور انکاؤنٹر نے’انکاؤنٹر اسپیشلسٹ‘یوپی حکومت کو بے نقاب کردیا 

شیوسینا نے کہا کہ کانپور انکاؤنٹر نے ’انکاؤنٹر اسپیشلسٹ‘اترپردیش حکومت کو بے نقاب کردیا ہے اور اس واقعے نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ریاست میں غنڈہ گردی ختم کرنے کے دعوے پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔