بنگلورو فساد: مسلمانوں نے پیش کی ہم آہنگی کی مثال، انسانی زنجیر بناکر مندر کی حفاظت

Source: S.O. News Service | Published on 13th August 2020, 11:38 AM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بنگلورو،12؍اگست (ایس او نیوز) کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو میں سوشل میڈیا کی ایک قابل اعتراض پوسٹ کے بعد بھڑکنے والے  تشدد کے درمیان مسلم نوجوانوں نے مذہبی ہم آہنگی کی مثال پیش کرتے ہوئے ایک مندر کی حفاظت کی اور ہندوستان کی اس خوبصورت تصویر کو نمایاں کیا جس پر ہر ہندوستانی کو فخر ہونا چاہیے۔

بنگلورو کے رکن اسمبلی سرینواس کے گھر پر توڑ پھوڑ ہوئی اور کئی گاڑیاں نذر آتش کر دی گئیں، تاہم ان کی رہائش گاہ کے عین سامنے واقع ہنومان مندر کی مسلم نوجوانوں نے انسانی زنجیر بناکر حفاظت کی اور اس پر ضرب نہیں آنے دیا۔ مسلم نوجوانوں کی اس کوشش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں مسلم نوجوان ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر مندر کی حفاظت پر مامور نظر آ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ان نوجوانوں کی خوب تعریف ہو رہی ہے اور مقامی سطح پر بھی ان کی دانش مندی کو سراہا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ منگل کی شب بھیڑ نے تھانہ اور رکن اسمبلی اکھنڈ سرینواس کی رہائش گاہ پر توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس واقعہ کو مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر ایک قابل اعتراض پوسٹ شیئر کرنے کے بعد انجام دیا گیا تھا۔ فیس بک کی اس پوسٹ پر تشدد اس قدر پھیل گیا کہ اسے قابو کرنے کے لئے پولیس کو لاٹھی چارج  پھر  آنسو گیس اور آخر میں فائرنگ کا بھی سہارا لینا پڑا تھا جس میں تین لوگوں کی موت واقع ہوئی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار: سابق وزیر آنند اسنوٹیکر کے سامان میں پستول۔ بنگلورو ایئر پورٹ پر تفتیش کے بعد جانے کی دی گئی اجازت

بنگلورو سے بذریعہ ہوائی جہاز گوا ہوتے ہوئے کاروار کے لئے نکلے سابق وزیر اور جنتا دل لیڈر آنند اسنوٹیکر کو سنٹرل انڈسٹریل سیکیوریٹی فورس  نے سنیچر کو  بنگلورو ایئر پورٹ پراپنی تحویل میں لیا گیا تھا  کیونکہ ان کے سامان میں پستول  موجود تھا جسے ساتھ لے جانے کی اجازت انہوں نے ...

جے ڈی ایس لیڈر رمیش بابو کانگریس میں شامل

جنتادل(سکیولر) کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کے اقرباء میں شامل سابق رکن کونسل رمیش بابو نے ہفتہ کے روز اپنی پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی۔

بی جے پی کے رویہ سے پارلیمانی جمہوریت شرمسار: کانگریس

کانگریس نے کہا کہ راجیہ سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے جس طرح کا سلوک کیا ہے اس سے ملک کی پارلیمانی جمہوریت شرمسار ہوئی ہے اور ڈپٹی چیرمین ہری ونش نارائن سنگھ نے اراکین کے جذبات کو کچل کر ایوان کی کارروائی کو انجام دیا۔