کانگریس کی کمزوری پر سینئر لیڈروں کا درد پھر چھلک آیا، قیادت سے نالاں، کانگریس میں نئی جان پھونکنے کی ضرورت‘جموں میں منعقدہ ’شانتی سمیلن‘ سے سینئر کانگریس لیڈروں کا خطاب

Source: S.O. News Service | Published on 28th February 2021, 11:56 AM | ملکی خبریں |

سری نگر، 28؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) آل انڈیا کانگریس پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں نے آج کہا ہے کہ پارٹی گزشتہ ایک دہائی کے دوران بہت کمزور ہوگئی ہے اور اسے واپس ڈگر پر لانے کے لئے متحد ہوکر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ 23 سینئر کانگریس لیڈران پر مشتمل جی ۔23 پکارے جانے والے گروپ کے کئی لیڈروں نے آج سرمائی دار الحکومت جموں میں آج ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کی بدحالی پرکھل کر اپنے اضطراب کا اظہار کیا۔ واضح رہے جی 23 کہلائے جانے والے سینئر پارٹی لیڈروں پر مشتمل اس گروپ نے گزشتہ سال کانگریس کے قائمقام صدر سونیا گاندھی کے نام اپنے ایک مشترکہ خط میں پارٹی کا نظم و نسق چلائے جانے کے طریقہ کار سے اپنے اختلاف کا کھلا اظہار کیا تھا۔ میڈیا کے ایک طبقے میں کانگریس پارٹی کے سینئر قائدین پر مشتمل اس گروپ کو باغی لیڈروں کے گروپ کے نام سے بھی پکاراجاتا ہے۔ ’’شانتی سمیلن ‘‘ کے نام سے منعقدہ اس تقریب کا اہتمام ’’گاندھی گلوبل فیملی ‘‘نامی رضاکار انجمن نے کیا تھا۔اس تقریب کے انعقاد کا مقصد زمینی سطح پر پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ رابطہ استوار کرنے کی ایک کوشش بتایا گیا تھا۔ تقریب میں سینئر کانگریس لیڈان غلام نبی آزاد، جنہیں حال ہی میں پارٹی قیادت نے راجیہ سبھاکی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا ، کے علاوہ کپل سبل، آنند شرما، بھوپندر سنگھ ہوڈا، وویک تنکھا اور راج ببر موجود تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ تقریب کانگریس پارٹی کی کوئی آفیشل تقریب نہیں تھی ۔ تاہم باور کیا جاتا ہے کہ آج کی تقریب کا اہتمام جی 23 کی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔

غلام نبی آزاد نے تقریب سے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ کانگریس بلا لحاظ مذہب و ملت سب کا احترام کرتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم سب کی عزت کرتے ہیں اور یہی ہماری قوت ہے اور ہم اسے برقرار رکھیں گے۔‘‘تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر کپل سبل نے اپنی تقریر میں کہا وہ کانگریس کو بڑی تیزی سے کمزور ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اور دیگرکانگریس کے دیگر سینئر لیڈران آج یہاں اس لئے جمع ہوئے ہیں تاکہ اُن مسائل کو حل کیا جاسکے ، جن سے پارٹی فی الوقت دوچار ہے۔  اُن کا کہنا تھا، ’’سچ تو یہ ہے کہ ہم کانگریس پارٹی کو کمزور ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں پر جمع ہوگئے ہیں۔ ہم پہلے بھی اس مسئلے کی وجہ سے جمع ہوگئے تھے اور ہمیں پارٹی کو مل جل کرمضبوط بنانا ہے۔‘‘غلام نبی آزاد کو راجیہ سبھا کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کئے جانے کے اقدام پر اپنی ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے سبل نے کہا، ’’ آزاد ایک تجربہ کار شخص ہیں۔ وہ ہوائی جہاز بھی چلاتے ہیں، وہ ایک انجینئر بھی ہیں۔ وہ ایک ایسے لیڈر ہیں ، جو ہر ریاست کے ہر ضلع میں کانگریس پارٹی کے زمینی صورتحال سے واقف ہیں۔ہمیں اُس وقت مایوسی ہوئی جب ہم نے یہ دیکھا کہ اُنہیں پارلیمنٹ کی ذمہ داری سے سبکدوش کیا جارہا ہے۔ہم نہیں چاہتے تھے کہ وہ پارلیمنٹ سے باہر جائیں۔میری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کانگریس پارٹی آزاد صاحب کے تجربے سے استفادہ حاصل کیوں نہیں کرنا چاہتی ہے۔‘‘

سینئر کانگریس لیڈر راج ببر نے اپنے خطاب میں کہا جن پارٹی لیڈروں کو جی 23کے نام سے پکارا جاتا ہے، وہ در اصل سب کے سب گاندھی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’لوگ جی 23کہتے ہیں لیکن میں گاندھی 23 کہتا ہوں۔کیونکہ ہم سب کو گاندھی جی کی سوچ میں یقین رکھتے ہیں۔اور اسی سوچ پر اس ملک کا قانون اور آئین قائم کیا گیا ہے۔ـ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ہم ایک مضبوط کانگریس کی متمنی ہیں،ایک ایسی کانگریس جس کی جڑیں گاندھی کے اصولوں میں پیوست ہوں۔اور جو غلام نبی آزاد جیسے منجھے ہوئے سیاست دانوں کی قدر داں ہو۔‘‘

اس موقعے پرسینئر کانگریس لیڈر آنند شرما نے کہا اس بات پر اپنے دُکھ کا اظہار کیا کہ راجیہ سبھا میں اس وقت جموں کشمیر کے تعلق رکھنے والا کوئی بھی نمائندہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ 1950ء کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے، جب جموں کشمیر کو راجیہ سبھا میں نمائندگی حاصل نہیں ہے۔‘‘ تاہم اُنہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس خامی کو بہت جلد ’’ٹھیک ‘‘ کیا جائے گا۔ آنند شرما نے کپل سبل کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ ’’کانگریس پچھلی ایک دہائی میں کمزور ہوگئی ہے۔ہماری آواز پارٹی کے مفاد کیلئے بلند کی ہے۔اس کے نتیجے میں پارٹی ہر جگہ مضبوط ہوگی ۔ نوجوانوں کو پارٹی کے ساتھ جوڑنا ہے۔ ہم نے کانگریس کے اچھے دن دیکھے ہیں لیکن اب ہم بوڑھے ہوتے ہوئے اسے کمزور ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ہم کانگریس کو بچالیں گے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ہم نے کسی کو یہ اختیار نہیں دیا ہے کہ وہ ہمیں بتائے کہ ہم کانگریس میں شامل ہیں یا نہیں۔ کسی کو یہ اختیار نہیں ہے۔ ہم پارٹی کو دبارہ مضبوط بنائیں گے۔ ہم کانگریس کی مضبوطی اور یکتا میں یقین رکھتے ہیں۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا، ’’ ہم سب ایک طویل سفر کرنے کے بعد اس مقام پر پہنچے ہیں، جہاں پر ہم آج کھڑے ہیں۔ ہم پارٹی کے اندر دیوار پھاند کرنہیں آئے ہیں۔ ہم سب کھلے دروازے سے آئے ہوئے لوگ ہیں اور طلبا تحریکوں اور نوجوانوں کی تحریکوں سے جڑتے ہوئے کانگریس میں آئے ہوئے لوگ ہیں۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

ہانک کانگ نےہندوستان،پاکستان اور فلپائن کی پروازوں پر لگائی دو ہفتوں کی پابندی

کورونا وبا کےپھیلاؤ کےپیش نظر ہانگ کانگ نے فیصلہ کیا ہےکہ وہ اگلےدوہفتوں کےلئےہندوستان، پاکستان اور فلپائن سےآنےوالی پروازوں پر پابندی لگارہا ہے۔ہانگ کانگ نےان تین ممالک سےآنےوالی تمام پرواز یں معطل کر دی ہیں۔ہانک کانگ کےذمہ داران اس کی وجہ کووڈ19 کے ایشیائی ممالک میں ...

مدھیہ پردیش میں کووڈ کا قہر، 30 اپریل تک کورونا کرفیو کا نفاذ

مدھیہ پردیش میں حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود کورونا کا قہرجاری ہے۔ ریاست میں کورونا کے ایکٹو مریضوں کی تعداد جہاں اڑسٹھ ہزار کو تجاوز کر گئی ہیں وہیں پچھلے چوبیس گھنٹےمیں ریاست میں کورونا کے بارہ ہزار دو سو اڑتالیس نئے معاملے درج کئے گئے ہیں ۔

کووڈ بحران سے نمٹنےکےلیے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے وزیراعظم مودی کو دیئے یہ 5اہم مشورے

ہندوستان میں عالمی وبا کورونا وائرس کے مثبت معاملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں ہر حلقے سے تشویش کا اظہار کیاجارہا ہے۔ اسی ضمن میں ملک کے سابق وزیراعظم، کانگریس کے سینئر ترین رہنما اور معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر منموہن سنگھ  نے وزیراعظم نریندر مودی کو کووڈ۔19 کے بحران سے ...

بہار میں15 مئی تک اسکول ، کالج اور تمام مذہبی مقامات بند ،رات کا کرفیو نافذ

ہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ریاست میں کورونا کے تیزی سے بڑھ رہے معاملوں پر لاک ڈاﺅن کا اشارہ دیتے ہوئے باہر سے آنے والے لوگوں سے جلد سے جلد لوٹنے کی اپیل کرتے ہوئے آج کہاکہ وبا کی روک تھام کیلئے فی الحال ریاست میں ” رات کا کرفیو“ سرکاری دفاتر میں کام کی مدت کم کرنے ، سبھی ...